تازہ ترین
عالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!عالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!
تجزیہ و بلاگز

2009 میں پہلا سیٹلائٹ، 2027 تک 24 مصنوعی سیاروں کا منصوبہ؛ ایران کے خلائی پروگرام کی مکمل کہانی

تہران: عالمی ہفتۂ خلا کے موقع پر ایران کا خلائی پروگرام ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

کئی دہائیوں سے اقتصادی اور تکنیکی پابندیوں کا سامنا کرنے کے باوجود ایران نے مقامی طور پر تیار کیے گئے راکٹوں کے ذریعے مصنوعی سیارے زمین کے مدار میں پہنچانے کی صلاحیت حاصل کی ہے۔

ایران کے خلائی پروگرام میں سائنسی تحقیق، زمینی وسائل کی نگرانی، مواصلات اور فوجی مقاصد کے لیے مصنوعی سیاروں کی تیاری شامل ہے۔ تہران اس پروگرام کو اپنی تکنیکی صلاحیت اور خود انحصاری کی علامت قرار دیتا ہے، جبکہ امریکا اور بعض مغربی ممالک ایرانی خلائی راکٹوں میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کے ممکنہ عسکری استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

امید سیٹلائٹ، ایران کے خلائی سفر کا تاریخی آغاز

ایران کے خلائی پروگرام میں اہم پیش رفت 2 فروری 2009 کو ہوئی، جب تہران نے مقامی طور پر تیار کردہ سفیر راکٹ کے ذریعے امید نامی مصنوعی سیارہ زمین کے مدار میں پہنچایا۔

امریکی خلائی ادارے ناسا کے ریکارڈ کے مطابق امید ایران کا پہلا مقامی ساختہ مصنوعی سیارہ تھا جسے ایرانی راکٹ کے ذریعے مدار میں بھیجا گیا۔ اگرچہ یہ ایک چھوٹا تجرباتی سیٹلائٹ تھا، تاہم اس کامیابی نے ایران کو ان ممالک کی صف میں شامل کردیا جو اپنے راکٹوں کے ذریعے مصنوعی سیارے خلا میں بھیجنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اس پیش رفت سے ایران کو خلائی مشنز کے لیے بیرونی راکٹ خدمات پر انحصار کم کرنے کا تجربہ بھی حاصل ہوا۔

فوجی خلائی پروگرام اور نور سیٹلائٹس

ایران کے خلائی پروگرام میں ایک اہم مرحلہ پاسداران انقلاب کی جانب سے فوجی مصنوعی سیاروں کی پروازوں کے آغاز سے آیا۔ اپریل 2020 میں نور-1 جبکہ ستمبر 2023 میں نور-3 سیٹلائٹ مدار میں پہنچایا گیا۔

ان مشنز نے ایران کو فوجی مقاصد کے لیے مصنوعی سیاروں کی تیاری، مدار میں پہنچانے اور انہیں آپریٹ کرنے کا مزید تجربہ فراہم کیا۔

زمینی مشاہدے کے لیے استعمال ہونے والے مصنوعی سیارے سرحدی علاقوں، بنیادی ڈھانچے، زرعی زمینوں اور جغرافیائی تبدیلیوں کی نگرانی میں مدد دے سکتے ہیں۔ تاہم کسی سیٹلائٹ کی موجودگی کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہر وقت ہر مقام کی انتہائی واضح تصویر حاصل کرسکتا ہے۔ اس کی صلاحیت مدار، کیمرے، موسمی حالات اور ڈیٹا منتقل کرنے کے نظام سمیت کئی عوامل پر منحصر ہوتی ہے۔

روس کے تعاون سے خیام سیٹلائٹ

ایران نے اپنی مقامی خلائی ٹیکنالوجی کے ساتھ روسی تعاون سے بھی فائدہ اٹھایا ہے۔ اگست 2022 میں روسی سویوز راکٹ کے ذریعے خیام نامی زمینی مشاہداتی مصنوعی سیارہ خلا میں بھیجا گیا۔

روس میں تیار کردہ اس سیٹلائٹ کی تصویری صلاحیت تقریباً ایک میٹر ریزولوشن بتائی گئی تھی۔ اس نوعیت کے مصنوعی سیاروں سے حاصل ہونے والی تصاویر زرعی زمینوں، آبی ذخائر، جنگلات، قدرتی آفات اور بنیادی ڈھانچے کی نگرانی میں استعمال ہوسکتی ہیں۔

یہ ٹیکنالوجی شہری مقاصد کے ساتھ ساتھ دفاعی شعبے میں بھی اہمیت رکھتی ہے، تاہم کسی مخصوص مشن کے عملی استعمال کا انحصار اس کے آلات اور آپریشنل صلاحیتوں پر ہوتا ہے۔

قائم 100 راکٹ اور چمران-1 کی کامیابی

14 ستمبر 2024 کو ایران نے قائم-100 نامی مقامی راکٹ کے ذریعے چمران-1 تحقیقی سیٹلائٹ کو تقریباً 550 کلومیٹر کی بلندی پر زمین کے مدار میں پہنچایا۔

قائم-100 ٹھوس ایندھن استعمال کرنے والا راکٹ ہے، جسے پاسداران انقلاب کی فضائی و خلائی فورس سے منسوب کیا جاتا ہے۔ چمران-1 کا وزن تقریباً 60 کلوگرام تھا۔

اس مشن کا مقصد صرف مصنوعی سیارے کو مدار میں پہنچانا نہیں تھا بلکہ خلا میں اس کی سمت، رفتار اور مداری پوزیشن سے متعلق مختلف تکنیکی نظاموں کی جانچ بھی کرنا تھا۔ سیٹلائٹ میں سرد گیس سے حرکت پیدا کرنے والے نظام، رہنمائی اور سمت برقرار رکھنے سے متعلق آلات کے تجربات کیے گئے۔

خلا میں مدار تبدیل کرنے کی صلاحیت کیوں اہم ہے؟

کسی مصنوعی سیارے کو زمین کے مدار میں پہنچانا ایک اہم تکنیکی مرحلہ ہے، لیکن اسے خلا میں مخصوص انداز سے حرکت دینا اور اس کا مدار تبدیل کرنا اس سے مختلف اور پیچیدہ صلاحیت ہے۔

ایرانی حکام نے نومبر 2024 میں بتایا تھا کہ چمران-1 نے مدار میں تبدیلی اور متعلقہ تکنیکی تجربات مکمل کیے۔ ایسی صلاحیت مستقبل میں مصنوعی سیاروں کے معائنے، خلائی آلات کی سروسنگ اور مختلف مداروں میں مخصوص پوزیشن حاصل کرنے جیسے مشنز کے لیے استعمال ہوسکتی ہے۔

تاہم ان تجربات کی مکمل عملی کارکردگی اور مستقبل میں ان کے ممکنہ استعمال کے بارے میں آزادانہ طور پر دستیاب معلومات محدود ہیں۔

2027 تک 24 مصنوعی سیاروں کا منصوبہ

ایران اب شہید سلیمانی کے نام سے مصنوعی سیاروں کے ایک نئے مجموعے پر بھی کام کررہا ہے۔ اگست 2026 میں ایرانی وزیر برائے مواصلات و اطلاعاتی ٹیکنالوجی ستار ہاشمی نے بتایا کہ اس منصوبے میں مجموعی طور پر 24 مصنوعی سیارے شامل ہوں گے۔

منصوبے کے مطابق ان میں 18 فعال جبکہ 6 متبادل مصنوعی سیارے رکھے جائیں گے۔ ایرانی حکام کے مطابق پہلے تین سیٹلائٹس کو مارچ 2027 سے قبل ایک ہی مشن میں مدار میں پہنچانے کی کوشش کی جائے گی۔

اس منصوبے کا بنیادی مقصد چھوٹے ڈیٹا پیغامات کی ترسیل کے لیے مواصلاتی نظام تیار کرنا بتایا گیا ہے، جس کے ذریعے دور دراز علاقوں میں موجود آلات سے معلومات حاصل اور منتقل کی جاسکیں گی۔

زراعت، پانی اور ہنگامی حالات میں ممکنہ استعمال

چھوٹے مواصلاتی مصنوعی سیاروں کا نیٹ ورک ایسے علاقوں میں اہم ثابت ہوسکتا ہے جہاں زمینی مواصلاتی نظام محدود ہو۔ ان کے ممکنہ استعمال میں زرعی نگرانی، پانی کے وسائل سے متعلق معلومات، تیل و گیس کی پائپ لائنوں کی نگرانی اور قدرتی آفات کے دوران ہنگامی رابطے شامل ہوسکتے ہیں۔

تاہم شہید سلیمانی سیٹلائٹ نیٹ ورک ابھی منصوبہ بندی اور ترقی کے مراحل میں ہے، اس لیے اس کی مکمل عملی صلاحیتوں کو ثابت شدہ نتیجہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

کیا پابندیاں ایران کے خلائی پروگرام میں رکاوٹ نہیں بن سکیں؟

ایران کی مختلف کامیاب خلائی پروازوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ پابندیوں کے باوجود تہران نے راکٹ اور مصنوعی سیاروں کی تیاری کے شعبے میں بعض اہم مقامی صلاحیتیں پیدا کی ہیں۔

تاہم پابندیوں کے اثرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ جدید برقی پرزوں، حساس آلات، اعلیٰ معیار کے مواد اور مخصوص ٹیکنالوجی تک رسائی میں مشکلات اب بھی ایران کے خلائی منصوبوں کی لاگت، رفتار اور تکنیکی صلاحیت پر اثر انداز ہوسکتی ہیں۔

روس کے تعاون سے کیے گئے مشنز یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ایران مقامی ٹیکنالوجی کی تیاری کے ساتھ بین الاقوامی شراکت داری سے بھی فائدہ اٹھاتا ہے۔

مغربی ممالک کو ایرانی خلائی پروگرام پر تشویش کیوں ہے؟

خلائی راکٹ اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بعض بنیادی ٹیکنالوجیز میں مماثلت رکھتے ہیں، جن میں طاقتور راکٹ انجن، متعدد مراحل پر مشتمل راکٹ نظام اور رہنمائی کے آلات شامل ہیں۔

اسی وجہ سے امریکا اور بعض مغربی ممالک ایرانی خلائی پروگرام کے ممکنہ عسکری استعمال کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ ایران تاہم اپنے خلائی پروگرام کو سائنسی تحقیق، مواصلات اور قومی ترقی کے مقاصد سے جوڑتا ہے۔

ماہرین کے مطابق کسی خلائی راکٹ کی کامیاب پرواز بذاتِ خود کسی مخصوص بین البراعظمی میزائل کی عملی صلاحیت ثابت نہیں کرتی، کیونکہ دونوں نظاموں کے ڈیزائن، تقاضوں اور آپریشنل مقاصد میں اہم فرق ہوسکتا ہے۔

ایران کے لیے اگلا بڑا امتحان

ایران نے گزشتہ برسوں کے دوران یہ صلاحیت ضرور پیدا کی ہے کہ وہ اپنے تیار کردہ بعض راکٹوں کے ذریعے مصنوعی سیارے مدار میں پہنچا سکے۔ اب اس کے خلائی پروگرام کے لیے اصل امتحان زیادہ قابلِ اعتماد پروازوں، بہتر سیٹلائٹس، مستقل مواصلاتی خدمات اور منصوبہ بند سیٹلائٹ نیٹ ورک کو عملی شکل دینا ہوگا۔

شہید سلیمانی منصوبے کے پہلے تین مصنوعی سیاروں کی متوقع پرواز اس سفر کا اگلا اہم مرحلہ ہوسکتی ہے۔

ایران کی خلائی پیش رفت یہ ظاہر کرتی ہے کہ خلا تک رسائی اب صرف سائنسی تحقیق تک محدود نہیں رہی بلکہ مواصلات، زمینی وسائل کی نگرانی، صنعتی ترقی اور قومی سلامتی سے بھی اس کا تعلق بڑھتا جارہا ہے۔ تہران کے لیے آئندہ مرحلہ انفرادی خلائی مشنز سے آگے بڑھ کر ایک قابلِ اعتماد اور مستقل سیٹلائٹ نظام قائم کرنا ہوگا۔