واشنگٹن: ایران کے خلاف کسی وسیع زمینی کارروائی یا طویل فوجی قبضے کی صورت میں امریکا کو غیر معمولی فوجی وسائل درکار ہوسکتے ہیں۔
ماہرین کے ایک تقابلی جائزے کے مطابق ایران میں طویل مدتی فوجی موجودگی برقرار رکھنے کے لیے 5 لاکھ سے زائد فوجیوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
بین الاقوامی تعلقات کے ماہر پروفیسر رابرٹ ای کیلی کے تخمینے کے مطابق ایران میں بڑے پیمانے پر فوجی قبضہ برقرار رکھنے کے لیے درکار نفری امریکی بری فوج کی مالی سال 2026 کی منظور شدہ فعال نفری سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔
تاہم یہ تعداد امریکی محکمہ دفاع کا کوئی باضابطہ جنگی منصوبہ نہیں بلکہ 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے دوران فوجی تعیناتی اور ایران کی آبادی کے تقابل سے اخذ کیا گیا ایک تجزیاتی تخمینہ ہے۔
پانچ لاکھ فوجی بھی کیوں ناکافی ہوسکتے ہیں؟
کسی بڑے ملک میں طویل فوجی آپریشن صرف لڑاکا دستوں کی تعیناتی تک محدود نہیں ہوتا۔ فوجی کارروائی کے ساتھ رسد، طبی سہولیات، انجینئرنگ، مواصلات، فوجی اڈوں کا تحفظ اور مسلسل کمک کے لیے بھی بڑی تعداد میں اہلکار درکار ہوتے ہیں۔
اس کے علاوہ امریکا کو دنیا کے دیگر خطوں میں اپنی موجودہ فوجی ذمہ داریاں بھی جاری رکھنا ہوں گی۔ اسی لیے فوج کی مجموعی تعداد اور کسی ایک محاذ پر طویل عرصے تک تعینات کی جاسکنے والی نفری میں واضح فرق ہوتا ہے۔
امریکی فوج کی فعال نفری کتنی ہے؟
مالی سال 2026 کے لیے امریکی بری فوج کی فعال نفری تقریباً 4 لاکھ 54 ہزار مقرر کی گئی تھی۔ اس تعداد میں نیشنل گارڈ، آرمی ریزرو اور میرین کور شامل نہیں۔
اس لیے 5 لاکھ سے زائد فوجیوں کے تخمینے کا براہ راست موازنہ صرف فعال بری فوج سے کرنا مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ اصل چیلنج اتنی بڑی نفری کو جنگی علاقے میں تعینات کرنے کے ساتھ طویل عرصے تک اس کی رسد، آرام، متبادل نفری اور دیگر ضروریات پوری کرنا ہوگا۔
مشرقِ وسطیٰ میں مزید امریکی فوجی تعینات
امریکا کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں اضافی فوجی وسائل کی تعیناتی بھی خطے میں بڑھتی کشیدگی کی نشاندہی کرتی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکا نے خطے میں ایک اور طیارہ بردار بحری جہاز اور تقریباً 9 ہزار اضافی اہلکار بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا، جن میں بحریہ اور میرین کور کے اہلکار شامل تھے۔
تاہم ان اہلکاروں کی تعیناتی کو ایران میں وسیع زمینی قبضے کے لیے تیار فوج قرار نہیں دیا جاسکتا، کیونکہ ان کی بڑی تعداد بحری کارروائیوں اور متعلقہ معاونت سے وابستہ ہوتی ہے۔
خارگ جزیرہ کیوں اہم ہے؟
ایران کا خارگ جزیرہ بھی ممکنہ فوجی کارروائی کے تناظر میں اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ ملک کی خام تیل کی برآمدات کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
بعض تجزیوں کے مطابق اس علاقے پر کنٹرول ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کا ذریعہ بن سکتا ہے، تاہم کسی جزیرے یا محدود ساحلی علاقے پر قبضہ برقرار رکھنا بھی آسان نہیں ہوگا۔ وہاں موجود فوجیوں کی حفاظت، رسد اور اردگرد کے علاقوں سے ممکنہ حملوں سے نمٹنے کے لیے مزید فوجی وسائل درکار ہوسکتے ہیں۔
ایران کا دفاعی ڈھانچہ امریکا کے لیے بڑا چیلنج
ایران کی دفاعی حکمت عملی میں منتشر کمان اور مختلف علاقوں میں موجود فوجی صلاحیتوں کو اہمیت دی جاتی ہے۔ بعض ماہرین اسے موزائیک دفاع کے تصور سے بھی جوڑتے ہیں، جس میں مرکزی کمان کو نقصان پہنچنے کے باوجود مختلف یونٹس محدود سطح پر کارروائیاں جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس تصور کی عملی جنگی افادیت مختلف حالات پر منحصر ہوگی، تاہم کسی ملک کے متعدد علاقوں میں موجود فوجی صلاحیتیں حملہ آور فوج کے لیے اضافی مشکلات پیدا کرسکتی ہیں۔
ایران کا جغرافیہ بھی بڑی رکاوٹ
ایران کا رقبہ تقریباً 16 لاکھ 50 ہزار مربع کلومیٹر ہے، جو عراق کے مقابلے میں تقریباً چار گنا بڑا ہے۔ ملک میں وسیع پہاڑی علاقے، طویل زمینی راستے اور دشوار گزار جغرافیہ موجود ہے، جو کسی بھی بیرونی فوج کے لیے نقل و حرکت اور رسد کا نظام برقرار رکھنا مشکل بنا سکتا ہے۔
کسی ساحلی علاقے یا جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنے کا مطلب پورے ایران پر کنٹرول حاصل کرنا نہیں ہوگا۔ ملک کے مختلف حصوں میں موجود فوجی صلاحیتیں اور ممکنہ مزاحمت قابض فوج کے لیے مستقل چیلنج بن سکتی ہیں۔
عراق کی جنگ سے امریکا کیا سیکھ سکتا ہے؟
2003 میں امریکا نے عراق پر حملہ کرکے صدام حسین کی حکومت کا خاتمہ کردیا تھا، لیکن اس کے بعد کئی برس تک مسلح مزاحمت، بدامنی اور بڑی تعداد میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی جاری رہی۔
ایران اور عراق کے درمیان آبادی، رقبے، جغرافیے اور دفاعی صلاحیت کے اعتبار سے نمایاں فرق ہے، اس لیے دونوں صورتوں کا براہ راست موازنہ درست نہیں ہوگا۔ تاہم عراق کا تجربہ یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ ابتدائی فوجی کامیابی اور طویل مدتی سیاسی و سکیورٹی استحکام دو مختلف چیلنجز ہیں۔
کیا امریکا ایران پر قبضے کی تیاری کررہا ہے؟
فی الحال ایران پر مکمل زمینی قبضے سے متعلق امریکا کی جانب سے کوئی مصدقہ باضابطہ منصوبہ سامنے نہیں آیا۔ مشرقِ وسطیٰ میں اضافی بحری وسائل اور فوجی اہلکاروں کی تعیناتی امریکا کو مزید فوجی اختیارات ضرور فراہم کرتی ہے، لیکن اسے ایران پر قبضے کے حتمی فیصلے سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔
ایران کے حوالے سے امریکا کی سفارتی اور فوجی پالیسی صورتحال کے ساتھ تبدیل ہوسکتی ہے، جبکہ خطے میں کسی بھی بڑے آپریشن کے ممکنہ سیاسی، فوجی اور معاشی اثرات بھی اہم ہوں گے۔
اصل چیلنج حملے کے بعد کا مرحلہ
ماہرین کے مطابق ایران میں کسی محدود زمینی کارروائی کے بعد بھی امریکی فوج کو مسلسل حملوں، رسد کے مسائل، فوجی اڈوں کے تحفظ اور مزید علاقوں کو محفوظ بنانے جیسے چیلنجز کا سامنا ہوسکتا ہے۔
اگر کسی فوجی کارروائی سے مطلوبہ سیاسی مقاصد حاصل نہ ہوسکے تو آپریشن کی مدت، مالی اخراجات اور انسانی نقصان میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 5 لاکھ سے زائد فوجیوں کا تخمینہ صرف فوجی تعداد نہیں بلکہ ایران میں طویل مدتی فوجی موجودگی کے ممکنہ حجم اور پیچیدگی کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔
ماخذ نوٹ: اس بلاگ کی تیاری میں Associated Press (AP) کی رپورٹ اور امریکی قانون کے سرکاری ریکارڈ GovInfo پر دستیاب قانون سے دستیاب معلومات اور دستاویزات کو بنیادی ماخذ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ تجزیہ اور تحریری ترتیب بلاگ کے موضوع اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر کی گئی ہے۔






