بیجنگ، واشنگٹن: ایران کے خلاف جنگ نے چین کی تیل کی سپلائی روک کر اس پر معاشی دباؤ ڈالنے کی دیرینہ امریکی حکمتِ عملی کی مؤثریت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ عالمی امور کے تجزیہ کاروں کے مطابق بیجنگ نے گزشتہ دو دہائیوں میں توانائی کے متبادل ذرائع، زمینی راستوں اور تیل کے ذخائر میں اس قدر سرمایہ کاری کی ہے کہ کسی ممکنہ بحری ناکہ بندی کے اثرات پہلے کے مقابلے میں کم ہوسکتے ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے سیمافور میں شائع ہونے والے تجزیے میں صحافی اینڈی براؤن نے لکھا ہے کہ ایران جنگ نے آبنائے ملاکا کے بارے میں امریکی فوجی منصوبہ سازوں کے پرانے اندازوں کو چیلنج کردیا ہے۔
آبنائے ملاکا چین کے لیے اتنی اہم کیوں ہے؟
آبنائے ملاکا جنوب مشرقی ایشیا کا ایک اہم سمندری راستہ ہے جو بحرِ ہند کو بحیرۂ جنوبی چین سے ملاتا ہے۔
چین کی سمندری راستے سے درآمد ہونے والی تیل کی بڑی مقدار اسی آبی گزرگاہ سے گزرتی ہے۔ مختلف اندازوں کے مطابق یہ حصہ تقریباً 75 سے 80 فیصد تک ہے۔
امریکی دفاعی حلقوں میں طویل عرصے سے یہ تصور موجود رہا ہے کہ تائیوان یا بحیرۂ جنوبی چین میں کسی بڑے تصادم کی صورت میں آبنائے ملاکا کے ذریعے چین کی تیل کی سپلائی محدود کرنا بیجنگ پر دباؤ ڈالنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہوسکتا ہے۔
چین کے سابق صدر ہو جن تاؤ نے 2003 میں اسی خطرے کو آبنائے ملاکا کا مسئلہ قرار دیا تھا۔
ایران جنگ نے امریکی اندازوں کو کیسے متاثر کیا؟
ایران جنگ کے دوران آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں شدید رکاوٹیں پیدا ہوئیں، جس کے اثرات ایشیا کی متعدد معیشتوں تک پہنچے۔
تاہم اینڈی براؤن کے مطابق چین نے توانائی کے وسیع ذخائر اور متبادل ذرائع کی بدولت اس بحران کو کئی دوسرے ایشیائی ممالک کے مقابلے میں بہتر انداز میں برداشت کیا۔
چین نے گزشتہ برسوں میں روس اور وسطی ایشیا سے زمینی پائپ لائنوں کے ذریعے توانائی کی درآمد بڑھائی، برقی گاڑیوں اور قابلِ تجدید توانائی کو فروغ دیا اور تیل کے بڑے ذخائر قائم کیے۔
اس کے علاوہ کوئلے سے کیمیائی مصنوعات تیار کرنے کی صلاحیت نے بھی بعض شعبوں میں درآمدی خام تیل پر انحصار کم کرنے میں مدد دی۔
چین سے پہلے امریکی اتحادیوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ
امریکی ماہرین کے مطابق آبنائے ملاکا کی مکمل بندش صرف چین کے لیے مسئلہ نہیں ہوگی بلکہ جاپان، جنوبی کوریا اور خطے کے دیگر ممالک کی توانائی اور تجارت بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
اینڈی براؤن کے تجزیے میں ایک ماہر نے مؤقف اختیار کیا کہ ایسی ناکہ بندی چین کی سپلائی ختم کرنے سے پہلے امریکی اتحادیوں کو شدید مشکلات میں ڈال سکتی ہے۔
ایران جنگ کے دوران جاپان، فلپائن اور جنوبی کوریا سمیت متعدد ایشیائی ممالک کو ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور توانائی کی فراہمی سے متعلق خدشات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
چین نے متبادل راستے کیسے بنائے؟
چین نے اپنے تجارتی اور توانائی کے راستوں کو متنوع بنانے کے لیے خطے میں بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر سرمایہ کاری کی ہے۔
ان میں روس اور وسطی ایشیا سے پائپ لائنیں، میانمار کے راستے توانائی کی ترسیل اور چین پاکستان اقتصادی راہداری جیسے منصوبے شامل ہیں۔
بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت ان راستوں کی تعمیر کا مقصد صرف تجارت میں اضافہ نہیں بلکہ کسی بڑے بحران کے دوران سمندری راستوں پر انحصار کم کرنا بھی ہے۔
تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ متبادل راستے آبنائے ملاکا سے گزرنے والی تمام تجارت اور تیل کی ترسیل کا مکمل نعم البدل نہیں بن سکے۔
ایران جنگ سے امریکی فوجی طاقت کے بارے میں کیا سوالات اٹھے؟
ایران جنگ کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی وسائل کی تعیناتی نے بحرالکاہل میں امریکی دفاعی موجودگی کے حوالے سے بھی بحث پیدا کی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں طویل فوجی مصروفیت امریکا کے لیے بیک وقت مختلف خطوں میں اپنی بحری اور فضائی طاقت برقرار رکھنا زیادہ مشکل بنا سکتی ہے۔
چین کی بڑھتی ہوئی میزائل صلاحیتوں کے باعث ایشیا میں امریکی فوجی اڈوں اور بحری جہازوں کے تحفظ پر بھی توجہ بڑھ رہی ہے۔
تاہم ایران میں امریکی فوجی وسائل کو لاحق خطرات سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ چین کسی ممکنہ تصادم میں امریکی بحری قوت کو لازماً شکست دے سکے گا۔
کیا آبنائے ملاکا اب امریکا کے لیے مسئلہ بن گئی ہے؟
اینڈی براؤن کے مطابق چین نے توانائی کے تحفظ کے لیے جو اقدامات کیے ہیں، انہوں نے امریکی بحری ناکہ بندی کی ممکنہ افادیت محدود کردی ہے۔
اس کے باوجود دوسرے ماہرین کا مؤقف ہے کہ چین کی سمندری تجارت اب بھی عالمی جہاز رانی، انشورنس اور اہم بحری راستوں پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے۔
اس لیے آبنائے ملاکا کا مسئلہ مکمل طور پر ختم ہونے کے بجائے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا ہے۔
ایران جنگ سے سامنے آنے والا اہم سبق یہ ہے کہ کسی بڑی طاقت کی توانائی کی سپلائی روکنے کی کوشش صرف اس ملک کو نہیں بلکہ اس کے تجارتی شراکت داروں، پڑوسیوں اور عالمی معیشت کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔






