تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
تجزیہ و بلاگز

ایران جنگ میں امریکی میزائل دفاعی ذخائر پر دباؤ، پینٹاگون نے 6 ارب 30 کروڑ ڈالر کا نیا معاہدہ کرلیا

ایران جنگ

واشنگٹن، 11 اکتوبر 2026: ایران کے خلاف جنگ میں بڑے پیمانے پر میزائل شکن ہتھیاروں کے استعمال کے بعد امریکا نے اپنے دفاعی ذخائر بحال کرنے کے لیے اربوں ڈالر کے نئے معاہدوں پر عمل درآمد تیز کردیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی دفاعی کمپنی ریتھیون کو 6 ارب 30 کروڑ ڈالر تک کا معاہدہ دیا گیا ہے، جس کے تحت امریکی بحریہ کے لیے جدید میزائل شکن ہتھیار تیار کیے جائیں گے۔

یہ معاہدہ پانچ سال کے لیے ہے، جبکہ اس میں مزید دو سال کی توسیع کے اختیارات بھی شامل ہیں۔

ایران جنگ نے امریکی میزائل ذخائر کو کتنا متاثر کیا؟

امریکی تحقیقی ادارے سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق ایران جنگ میں امریکی فوج نے پیٹریاٹ، تھاڈ، ٹوماہاک اور بحری دفاعی میزائلوں سمیت کئی اہم ہتھیار بڑی تعداد میں استعمال کیے۔

ادارے کی جولائی میں جاری رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ جنگ کے دوران بعض اہم میزائلوں کے ابتدائی ذخائر کا تقریباً نصف حصہ استعمال ہوچکا تھا۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کی موجودہ دفاعی صلاحیت ختم ہونے کا ثبوت نہیں، لیکن مستقبل میں کسی دوسرے بڑے فوجی تصادم کے لیے دستیاب ہتھیاروں کی تعداد پر دباؤ ضرور ڈالتی ہے۔

ساڑھے چھ ارب ڈالر کے قریب رقم کس چیز پر خرچ ہوگی؟

ریتھیون کو دیا گیا معاہدہ ایس ایم تھری بلاک ون بی نامی میزائل شکن ہتھیاروں کی تیاری اور دیکھ بھال کے لیے ہے۔

یہ میزائل امریکی بحریہ کے جنگی جہازوں اور زمینی دفاعی تنصیبات سے داغے جاسکتے ہیں اور مختصر سے درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔

کمپنی کے مطابق ان ہتھیاروں کی تیاری امریکی ریاستوں ایریزونا اور الاباما میں کی جائے گی۔

ایران جنگ کے بعد نئے ہتھیار تیار کرنے کی دوڑ

ریتھیون نے چار فروری 2026 کو پینٹاگون کے ساتھ پانچ اہم معاہداتی خاکوں کا اعلان کیا تھا۔

ان میں ٹوماہاک کروز میزائل، فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل اور مختلف اقسام کے میزائل شکن ہتھیار شامل تھے۔

آٹھ اکتوبر کو سامنے آنے والی تازہ پیش رفت اسی وسیع دفاعی پیداواری منصوبے کا حصہ ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی حکومت صرف استعمال شدہ میزائلوں کی جگہ نئے ہتھیار حاصل نہیں کررہی بلکہ مستقبل کے لیے ان کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کی بھی کوشش کررہی ہے۔

نئے میزائل فوری کیوں نہیں مل سکتے؟

امریکی دفاعی ماہرین کے مطابق جدید میزائلوں کی تیاری ایک طویل اور پیچیدہ عمل ہے۔

ان ہتھیاروں کے لیے مخصوص الیکٹرانک آلات، رہنمائی کے نظام، انجن اور دیگر حساس پرزے درکار ہوتے ہیں۔

اسی وجہ سے نئے معاہدے ہونے کے باوجود میزائلوں کے ذخائر فوری طور پر جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس نہیں آسکتے۔

سی ایس آئی ایس کے مطابق بعض اہم امریکی میزائلوں کے ذخائر بحال کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

کیا چین کے ساتھ ممکنہ تصادم پر بھی اثر پڑے گا؟

امریکی دفاعی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں میزائلوں کا مسلسل استعمال بحرالکاہل میں امریکی فوج کی تیاری کو متاثر کرسکتا ہے۔

ان کے مطابق چین کے ساتھ کسی ممکنہ فوجی تصادم میں بھی ایسے ہی جدید میزائلوں کی بڑی تعداد درکار ہوگی۔

یہی وجہ ہے کہ پینٹاگون دفاعی صنعت سے پیداوار بڑھانے کا مطالبہ کررہا ہے۔

ایران جنگ کے دوران میزائلوں کے بڑے پیمانے پر استعمال نے امریکا کے سامنے ایک طویل مدتی دفاعی مسئلہ کھڑا کردیا ہے، استعمال شدہ ہتھیاروں کی جگہ نئے میزائل تیار کرنا، جبکہ دنیا کے دوسرے خطوں میں بھی دفاعی ضروریات برقرار ہیں۔