خصوصی تحقیقی رپورٹ | جی ٹی وی نیوز | 11 اکتوبر 2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو لاس اینجلس اور سان ڈیاگو جیسے بڑے امریکی شہروں کے لیے ممکنہ خطرہ قرار دینے کے بیانات نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ امریکی صدر اپنے مؤقف کو ایران کے جوہری پروگرام اور امریکی شہریوں کے تحفظ سے جوڑ رہے ہیں، تاہم دستیاب انٹیلی جنس معلومات اور ایران کی معلوم میزائل صلاحیتوں کے تناظر میں ان دعووں پر اہم سوالات اٹھ رہے ہیں۔
اس دوران امریکی دفاعی تجزیہ کار برینڈن وائکرٹ نے آٹھ اکتوبر کو پیش گوئی کی کہ اسرائیل امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ کرے گا۔ تاہم انہوں نے اپنی مختصر سوشل میڈیا پوسٹ میں اس پیش گوئی کے حق میں کوئی قابلِ تصدیق ثبوت پیش نہیں کیا۔
ٹرمپ نے امریکی شہروں کے بارے میں کیا کہا؟
پانچ اکتوبر کو ریاست نیبراسکا میں ایک سیاسی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایران جنگ کے باعث پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایندھن کی قیمتوں میں عارضی اضافہ امریکی سلامتی کے تحفظ کے مقابلے میں ایک معمولی قیمت ہے۔
اسی گفتگو کے دوران ٹرمپ نے لاس اینجلس اور سان ڈیاگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے تو امریکی شہروں کو تباہ کن حملے کا خطرہ لاحق ہوسکتا تھا۔
ان کے الفاظ پر امریکی سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا۔ بعض ناقدین نے انہیں غیر ذمہ دارانہ قرار دیا، جبکہ وائٹ ہاؤس نے کہا کہ صدر کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔
آٹھ اکتوبر کو ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکی شہروں پر حملے کی دعوت نہیں دے رہے تھے، بلکہ ان کا مقصد یہ سمجھانا تھا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے پیٹرول کی عارضی مہنگائی برداشت کرنا نسبتاً چھوٹی قیمت ہے۔
کیا ایران واقعی امریکی شہروں پر جوہری حملہ کرسکتا ہے؟
یہاں امریکی صدر کے سیاسی بیان اور دستیاب فوجی معلومات میں فرق کرنا ضروری ہے۔
بین الاقوامی سطح پر ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے والا ملک تسلیم نہیں کیا جاتا اور ایران کے پاس عملی جوہری ہتھیار موجود ہونے کا کوئی تصدیق شدہ ثبوت سامنے نہیں آیا۔
امریکی انٹیلی جنس اداروں نے مارچ 2025 کے سالانہ جائزے میں کہا تھا کہ ایران اس وقت جوہری ہتھیار تیار نہیں کررہا تھا۔
تاہم عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی ایران کے جوہری مواد، افزودگی اور نگرانی سے متعلق سنگین خدشات بھی ظاہر کرتی رہی ہے۔
اس لیے ایران کے جوہری پروگرام پر تشویش اور ایران کے پاس فوری استعمال کے قابل جوہری بم ہونے کے دعوے کو ایک ہی بات سمجھنا درست نہیں۔
ایرانی میزائل امریکا تک پہنچ سکتے ہیں؟
ایران کے معروف بیلسٹک میزائلوں میں قدر، عماد، سجیل اور خرمشہر شامل ہیں۔
ان کی عام طور پر بیان کردہ عملی حدود تقریباً 1,700 سے 2,500 کلومیٹر ہیں، جبکہ بعض ممکنہ یا ترقی یافتہ اقسام کے بارے میں اس سے زیادہ فاصلے کے اندازے بھی پیش کیے جاتے ہیں۔
اس کے برعکس ایران سے امریکی مغربی ساحل کا فاصلہ تقریباً بارہ ہزار کلومیٹر ہے۔
ایران کے پاس ایسا عملی بین البراعظمی بیلسٹک میزائل موجود ہونے کی عوامی سطح پر تصدیق نہیں ہوئی جو ایرانی سرزمین سے لاس اینجلس یا سان ڈیاگو کو نشانہ بنا سکے۔
تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ کسی دوسرے ذریعے سے محدود حملے کا امکان اصولی طور پر ناممکن ہے۔ ایسے کسی خطرے کا جائزہ الگ انٹیلی جنس شواہد کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔
مارچ میں امریکی خفیہ ادارے نے کیا انتباہ جاری کیا تھا؟
مارچ 2026 میں امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کی جانب سے کیلیفورنیا کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایک انتباہ موصول ہوا تھا۔
اس میں غیر مصدقہ معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ ایران ممکنہ امریکی حملوں کے جواب میں سمندر میں موجود کسی جہاز سے ڈرون حملہ کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔
تاہم بارہ مارچ کو وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے واضح کیا کہ یہ اطلاع صرف ایک غیر تصدیق شدہ ذریعے پر مبنی تھی اور ایران کی جانب سے امریکی سرزمین کے لیے ایسا کوئی ثابت شدہ خطرہ موجود نہیں تھا۔
یہ وضاحت اہم ہے کیونکہ ابتدائی انتباہ کو ایران کے کسی حقیقی حملے کی منصوبہ بندی کا ثبوت نہیں سمجھا جاسکتا۔
کیا امریکا یا اسرائیل خودساختہ حملے کی تیاری کررہے ہیں؟
ٹرمپ کے بیانات، کیلیفورنیا سے متعلق پرانے انتباہ اور ایران پر ممکنہ نئے حملوں کی اطلاعات کو جوڑ کر بعض مبصرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کسی مشتبہ واقعے کو جنگ میں مزید شدت پیدا کرنے کے جواز کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔
تاہم دستیاب شواہد میں ایسی کسی خودساختہ کارروائی کی منصوبہ بندی، اس کے احکامات یا تیاری کی تصدیق نہیں ہوتی۔
محض سیاسی بیانات، فوجی کشیدگی یا غیر مصدقہ خفیہ اطلاعات کسی سازش کے وجود کا ثبوت نہیں ہیں۔
اس لیے ایسے خدشات کو قیاس آرائی سے زیادہ حیثیت دینا درست نہیں ہوگا۔
اسرائیلی حملے کی نئی پیش گوئی
آٹھ اکتوبر کو امریکی دفاعی امور کے تجزیہ کار برینڈن وائکرٹ نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ اسرائیل امریکا کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ کرے گا۔
یہ ایک تجزیہ کار کی پیش گوئی ہے، اسرائیلی حکومت یا فوج کی جانب سے حملے کا اعلان نہیں۔
دوسری جانب ٹرمپ نے آٹھ اکتوبر کو کہا تھا کہ امریکا تین نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر نئے حملے نہیں کرے گا۔
تاہم امریکی صدر کا یہ اعلان بذاتِ خود اسرائیل کی مستقبل کی فوجی کارروائیوں کے بارے میں کوئی ضمانت نہیں دیتا۔
نتیجہ: ثابت شدہ خطرہ اور سیاسی بیان الگ معاملات ہیں
دستیاب معلومات کے مطابق ٹرمپ نے ایران کے ممکنہ جوہری خطرے کو امریکی شہروں کے تحفظ اور جنگ کے معاشی اخراجات کے دفاع کے لیے استعمال کیا ہے۔
لیکن ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہونے یا ایرانی سرزمین سے امریکی مغربی ساحل تک پہنچنے والے عملی میزائل کی تصدیق نہیں ہوئی۔
اسی طرح کیلیفورنیا کے خلاف ڈرون حملے کا پرانا انتباہ غیر مصدقہ تھا، جبکہ اسرائیل کے نئے حملے کی پیش گوئی بھی کسی سرکاری اعلان یا آزادانہ طور پر تصدیق شدہ منصوبے پر مبنی نہیں۔
اس معاملے کا سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ امریکا یا اسرائیل لازماً کوئی خفیہ کارروائی کرنے والے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ایران سے متعلق فوجی خطرات کے دعووں کے حق میں کتنے قابلِ تصدیق شواہد عوام کے سامنے رکھے گئے ہیں۔






