واشنگٹن، تہران (جی ٹی وی نیوز خصوصی رپورٹ) — 12 اکتوبر 2026: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے دوران امریکی فضائیہ کے ایندھن بردار طیاروں کی غیر معمولی نقل و حرکت نے ایران کے خلاف ممکنہ نئی بڑی فوجی کارروائی سے متعلق قیاس آرائیوں میں اضافہ کردیا ہے۔
کھلے ذرائع سے فوجی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے والے تجزیہ کاروں کے مطابق گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران امریکی فضائیہ کے 17 ایندھن بردار طیارے امریکا سے یورپ منتقل ہوئے، جبکہ مزید تین طیاروں کو امریکی مغربی ساحل سے مشرقی ساحل کی جانب منتقل کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
دفاعی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے والے ادارے ڈیفنس گیک کے مطابق منتقل ہونے والے طیاروں میں کے سی 135 اور کے سی 46 شامل ہیں، جو لڑاکا اور بمبار طیاروں کو دورانِ پرواز ایندھن فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ڈیفنس گیک کے مطابق امریکی ایندھن بردار طیاروں کی نقل و حرکت میں اس نوعیت کا اضافہ اس سے قبل فروری میں ایران کے خلاف بڑے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں سے پہلے بھی دیکھا گیا تھا۔ تاہم امریکی محکمہ دفاع نے تازہ نقل و حرکت کے مقاصد یا ایران کے خلاف کسی نئے آپریشن کی تیاری کی تصدیق نہیں کی۔
ایندھن بردار طیارے جدید فضائی جنگ میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ ان کے ذریعے لڑاکا اور بمبار طیاروں کو دورانِ پرواز ایندھن فراہم کرکے زیادہ فاصلے تک کارروائیاں جاری رکھنے کی سہولت ملتی ہے۔ ایران جیسے وسیع رقبے والے ملک کے خلاف طویل فاصلے کی فضائی کارروائی میں یہ صلاحیت خاص اہمیت رکھتی ہے۔ کے سی 135 اور کے سی 46 جیسے طیاروں کی مدد سے جنگی طیاروں کو بار بار فضائی اڈوں پر واپس اترنے کی ضرورت کم ہوجاتی ہے، جس سے مسلسل فضائی آپریشن کی صلاحیت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
فوجی مبصرین کے مطابق ایندھن بردار طیاروں کی بڑے پیمانے پر نقل و حرکت ممکنہ فوجی تیاریوں کا ایک اہم اشارہ ہوسکتی ہے، تاہم ایسے طیارے دفاعی گشت، فوجی مشقوں، معمول کی تعیناتی اور دیگر آپریشنل ضروریات کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ اس لیے صرف ان کی منتقلی کو ایران کے خلاف نئے حملے کا حتمی ثبوت قرار نہیں دیا جاسکتا۔
دوسری جانب بعض کھلے ذرائع کے مبصرین نے اسرائیل کے بن گوریون بین الاقوامی ہوائی اڈے پر امریکی ایندھن بردار اور فوجی مال بردار طیاروں کی موجودگی کی بھی نشاندہی کی ہے۔
ستمبر میں سامنے آنے والی دفاعی رپورٹس میں بھی امریکی ایندھن بردار، مال بردار اور نگرانی کرنے والے طیاروں کی یورپ سے مشرقِ وسطیٰ کی جانب نقل و حرکت کا ذکر کیا گیا تھا، تاہم حالیہ دنوں میں بن گوریون پہنچنے والے طیاروں کی تعداد اور ان کی تعیناتی کے مقاصد کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
خطے میں پہلے سے موجود امریکی فضائی طاقت کے حوالے سے کھلے ذرائع کے بعض اندازوں میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے زیر نگرانی تقریباً 100 ایندھن بردار طیاروں کی موجودگی کا ذکر کیا جاتا ہے، تاہم امریکی فوج نے اس مجموعی تعداد کی تازہ تصدیق نہیں کی۔ اضافی ٹینکر طیاروں کی تعیناتی امریکی فضائیہ کو طویل اور مسلسل کارروائیوں کے لیے زیادہ صلاحیت فراہم کرسکتی ہے، لیکن اس سے یہ نتیجہ نکالنا قبل از وقت ہوگا کہ واشنگٹن نے ایران پر نئے حملے کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے۔
امریکی فوجی سرگرمیوں کی یہ اطلاعات ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب سعودی عرب اور یمن کے درمیان کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے۔ 10 اکتوبر کو ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ ہلاک ہونے والوں میں ایک امریکی شہری بھی شامل تھا۔ 11 اکتوبر کو اسی ہوائی اڈے پر ایک اور حملے میں ایک پاکستانی شہری جاں بحق اور 11 افراد زخمی ہوئے۔ حوثی تحریک انصاراللہ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی، جبکہ سعودی عرب نے سخت جوابی کارروائی کا عندیہ دیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی حوثیوں کے خلاف سعودی کارروائیوں میں امریکی شمولیت کے امکان کا اشارہ دے چکے ہیں۔
ایسے میں امریکی طیاروں کی نقل و حرکت کا تعلق صرف ایران سے نہیں بلکہ یمن، سعودی عرب کے دفاع اور خطے میں دیگر امریکی فوجی ضروریات سے بھی ہوسکتا ہے۔ ایران بھی پہلے ہی خبردار کرچکا ہے کہ اس کی سرزمین پر نئے امریکی یا اسرائیلی حملے کی صورت میں جوابی کارروائی کا دائرہ وسیع ہوسکتا ہے۔ ایرانی حکام خطے میں امریکی فوجی تنصیبات، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور اہم بحری راستوں کو ممکنہ اہداف کے طور پر بیان کرتے رہے ہیں۔
ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں بحری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ 11 اکتوبر کو امریکی فوج نے خلیج عمان میں ایک تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کی تصدیق کی اور مؤقف اختیار کیا کہ جہاز ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی کوشش کررہا تھا۔ اس پیش رفت کے بعد کشیدگی کا دائرہ فضائی سرگرمیوں سے بڑھ کر سمندری محاذ تک بھی پہنچ گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حال ہی میں کہہ چکے ہیں کہ امریکا 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر نیا حملہ نہیں کرے گا۔ تاہم خطے میں بڑھتی ہوئی امریکی فوجی سرگرمیوں، سعودی عرب میں حملوں اور خلیج عمان کی تازہ کارروائی کے باعث واشنگٹن کی آئندہ حکمت عملی پر سوالات برقرار ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق کسی بڑے فضائی آپریشن سے قبل ایندھن بردار طیاروں کی مناسب تعیناتی ایک اہم فوجی ضرورت ہوسکتی ہے، لیکن صرف ٹینکر طیاروں کی نقل و حرکت سے کسی حملے کا حتمی فیصلہ ثابت نہیں ہوتا۔ موجودہ صورتحال میں امریکی فضائیہ کی سرگرمیوں میں اضافہ اہم فوجی پیش رفت ضرور ہے، تاہم ایران پر کسی نئے بڑے حملے کی تاریخ، ممکنہ ہدف یا حتمی فیصلے کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔






