امریکی عسکری ذخائر میں فضائی دفاعی میزائلوں کی شدید کمی نے 2026 کے وسط مدتی انتخابات پر گہرے اثرات مرتب کرنا شروع کر دیے ہیں، جس سے جہاں ٹرمپ انتظامیہ کی سیاسی پوزیشن کمزور ہو رہی ہے، وہاں ملکی معیشت اور عام ووٹر بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
امریکہ میں نومبر 2026 کے وسط مدتی انتخابات کے قریب آتے ہی سیاسی ماہرین روایتی معاشی اشاریوں کا جائزہ لے رہے ہیں، لیکن اس سیاسی منظر نامے کے پیچھے امریکی فوج کے فضائی دفاعی ہتھیاروں کی شدید کمی ایک بڑا مخفی فیکٹر بن کر سامنے آئی ہے۔
رواں سال کے شروع میں ایران کے خلاف سات ہفتے جاری رہنے والی عسکری کارروائیوں کے دوران امریکی فوج نے اپنے اعلیٰ ترین انٹرسیپٹر میزائلوں کا ایک بڑا حصہ استعمال کر ڈالا، جسے اب فوری طور پر پورا کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔
ایک عسکری تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے اپنے پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کا تقریباً 45 فیصد اور تھاد (تھاڈ) دفاعی نظام کے 50 فیصد میزائل صرف چند ہفتوں میں فائر کر دیئے تھے۔
اس دفاعی کمی کا براہ راست اثر مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے کی سمندری گزرگاہوں پر پڑا ہے۔ امریکی بحریہ لال سمندر اور خلیج میں تجارتی جہازوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے، جس کے باعث عالمی سپلائی چین شدید متاثر ہوئی ہے۔
تجارتی جہازوں کے متبادل اور طویل راستے اختیار کرنے کی وجہ سے مال برداری کے اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، جس نے امریکہ میں پیٹرول اور خوراک کی قیمتوں کو تاریخی سطح پر پہنچا دیا ہے۔
عام امریکی ووٹر کے لیے یہ محض ایک جغرافیائی یا عسکری مسئلہ نہیں بلکہ روزمرہ کے باورچی خانے اور پیٹرول پمپ کا سنگین معاشی بحران بن چکا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی اسٹریٹجک دفاعی انڈسٹری کی پیداواری صلاحیت فی الوقت اتنی نہیں کہ وہ ان استعمال شدہ میزائلوں کو فوری طور پر دوبارہ تیار کر سکے۔
پینٹاگون کے حکام کا اعتراف ہے کہ خالی شدہ ذخائر کو دوبارہ مکمل کرنے میں کئی سال یا دہائی لگ سکتی ہے۔ اس دفاعی کمزوری کی وجہ سے امریکی فوج اب فیصلہ کن پیش قدمی کرنے سے کتراتی نظر آ رہی ہے اور اپنے بچے ہوئے ذخائر کو صرف انتہائی اہم عسکری اہداف کے لیے بچا کر رکھ رہی ہے، جس کے نتیجے میں غیر حتمی اور طویل ہوتی جنگ نے امریکی عوام میں مزید بے چینی پھیلا دی ہے۔
سیاسی سطح پر اس صورتحال نے برسرِ اقتدار پارٹی کے لیے بڑا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ تازہ ترین سروے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح گر کر صرف 36 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ 70 فیصد سے زائد امریکی عوام پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور ایران کے خلاف طویل عسکری کارروائی پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
عسکری ذخائر کی اس خالی ہوتی صورتحال اور معاشی افراطِ زر کے باہمی تعلق نے نہ صرف امریکی خارجہ پالیسی کی حدود واضح کر دی ہیں بلکہ آنے والے انتخابات میں موجودہ حکومت کی سیاسی بقا کو بھی ایک بڑے امتحان میں ڈال دیا ہے۔






