روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ سفارتی میز اور جنگی میدان دونوں جگہوں پر ایک ایسے جمود کا شکار ہو چکی ہے، جہاں دونوں ممالک کے مقاصد ایک دوسرے سے متصادم نظر آتے ہیں۔
روس اور یوکرین کی جنگ میں امن کی کوششیں ایک ایسے پیچیدہ موڑ پر پہنچ چکی ہیں، جہاں بظاہر کوئی راستہ نکلتا ہوا نظر نہیں آتا۔
ایک طرف یورپی اتحادی اور یوکرینی صدر زیلینسکی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطالبات کو کسی قابلِ عمل منصوبے میں ڈھالنے کی کوشش کر رہے ہیں، تو دوسری طرف کریملن معاہدوں کی پیشکش کر کے واشنگٹن کو اپنے اثر و رسوخ میں لانے کی حکمتِ عملی پر گامزن ہے۔ تاہم دونوں فریقین کی منطق ایک دوسرے سے اتنی الگ ہے کہ کسی حتمی نتیجے کی امید بہت کم دکھائی دیتی ہے۔
جب صدر ٹرمپ روس کے ساتھ ڈیل کی بات کرتے ہیں تو کریملن کے لیے امن کا مطلب صرف اور صرف اپنی مکمل فتح ہے۔
روسی صدر ولادی میر پیوٹن چاہتے ہیں کہ یوکرین بغیر کسی جنگ کے پورے ڈونباس علاقے سے دستبردار ہو جائے، جبکہ ان کے دیگر مطالبات میں یوکرین کو غیر عسکری بنانا اور نیٹو میں عدم شمولیت شامل ہیں۔
دوسری طرف یوکرین کے لیے ڈونباس سے دستبرداری ناممکن ہے، جیسا کہ امریکی قومی سلامتی کے مشیر مارکو روبیو نے بھی اعتراف کیا کہ یہ یوکرین کی آخری مضبوط دفاعی لائن ہے، جہاں سے آگے بڑھنا کا مطلب کیف تک کا راستہ صاف کرنا ہو گا۔
اسی اثناء میں صدر ٹرمپ نے روس کو کئی رعایتیں فراہم کی ہیں، جن میں ڈیزل کا معاہدہ، توانائی پر جنگ بندی کا اعلان اور اسٹار لنک کی سہولیات پر پابندیاں شامل ہیں۔
تاہم اس سے ٹرمپ کو سیاسی طور پر اندرونِ ملک بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ یوکرینی صدر زیلنسکی اب امریکہ کی غیر یقینی حمایت سے ہٹ کر اپنے بل بوتے پر جنگ جاری رکھنے کی تیاری کر رہے ہیں، کیونکہ ان کے لیے کسی بھی چیز سے بڑھ کر اپنے ملک کی بقا ضروری ہے۔






