تہران (جی ٹی وی نیوز اردو) — 23 اکتوبر 2026: ایران کے دفاعی نظام سے متعلق ایک اہم حکمت عملی ایک مرتبہ پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جس کے تحت مرکزی فوجی قیادت اور مواصلاتی نظام متاثر ہونے کے باوجود مختلف علاقوں میں موجود پاسدارانِ انقلاب کے دستے اپنی کارروائیاں جاری رکھ سکتے ہیں۔
اس حکمت عملی کو ’’موزیک دفاع‘‘ کہا جاتا ہے، جس کا بنیادی مقصد ایران کے دفاعی نظام کو اس طرح منظم کرنا ہے کہ کسی ایک مرکزی کمان کی تباہی پوری فوجی مزاحمت کو مفلوج نہ کرسکے۔
اس نظام کے بارے میں سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ایران نے اپنی فوج کو 31 خودمختار کمانوں میں تقسیم کردیا ہے اور ہر کمانڈر کو امریکی اہداف پر حملے کا پیشگی اختیار حاصل ہے۔
تاہم دستیاب دفاعی تحقیق ان تمام دعوؤں کی تصدیق نہیں کرتی۔
موزیک دفاع کیا ہے اور ایران نے اسے کیوں بنایا؟
امریکی نشریاتی ادارے پی بی ایس کی شائع کردہ دفاعی تحقیق کے مطابق ایران نے 2005 میں موزیک دفاع کا نظریہ اپنی فوجی حکمت عملی کا حصہ بنایا تھا۔
اس منصوبے کی تیاری میں پاسدارانِ انقلاب کے سابق سربراہ محمد علی جعفری کا اہم کردار تھا۔
اس حکمت عملی کی بنیاد امریکا کی افغانستان اور عراق میں فوجی کارروائیوں سے حاصل کیے گئے اسباق پر رکھی گئی۔
ایرانی دفاعی منصوبہ سازوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ کسی ملک کا فوجی نظام مکمل طور پر مرکزی قیادت پر منحصر ہو تو اعلیٰ کمان کو نشانہ بنائے جانے سے پورا دفاعی ڈھانچہ متاثر ہوسکتا ہے۔
اسی خطرے سے نمٹنے کے لیے مقامی کمانوں کو زیادہ اختیارات دینے کا تصور اپنایا گیا۔
31 کمانوں کا نظام کیسے کام کرتا ہے؟
مختلف دفاعی تحقیقی اداروں کے مطابق 2008 کے دوران پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈ نظام کو صوبائی سطح پر دوبارہ منظم کیا گیا۔
اس تنظیمِ نو کا مقصد مقامی کمانڈروں کو ہنگامی حالات میں تیزی سے فیصلے کرنے اور مرکزی قیادت سے رابطہ منقطع ہونے کے باوجود اپنی ذمہ داریاں انجام دینے کے قابل بنانا تھا۔
اس نظام کو عام طور پر 31 صوبائی یا علاقائی کمانوں کے تصور سے بیان کیا جاتا ہے۔
تاہم بعض تاریخی مطالعات میں تہران شہر کے الگ انتظام کی وجہ سے کمانوں کی تعداد اور تقسیم مختلف انداز میں بیان کی گئی ہے۔
اس لیے 31 صوبوں اور 31 مکمل آزاد فوجوں کو ایک ہی چیز سمجھنا درست نہیں۔
یہ تنظیمِ نو بنیادی طور پر پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈ ڈھانچے سے متعلق تھی، نہ کہ ایران کی پوری باقاعدہ فوج کو 31 الگ افواج میں تقسیم کرنے کا اعلان۔
مرکزی قیادت ختم ہوجائے تو کیا ہوگا؟
موزیک دفاع کا بنیادی تصور یہ ہے کہ کسی جنگ کے دوران مرکزی فوجی ہیڈکوارٹر، مواصلاتی رابطے یا اعلیٰ کمان متاثر ہونے کے باوجود مقامی یونٹ مکمل طور پر غیر فعال نہ ہوں۔
اس نظام میں علاقائی کمانڈروں کو پہلے سے طے شدہ دفاعی ذمہ داریوں اور عمومی ہدایات کے تحت کارروائیاں جاری رکھنے کی گنجائش دی جاتی ہے۔
مارچ 2026 میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی ایک بیان میں کہا تھا کہ بعض ایرانی فوجی یونٹ الگ تھلگ ہوچکے ہیں اور پہلے سے دی گئی عمومی ہدایات کی بنیاد پر کام کررہے ہیں۔
یہ بیان ایران کی غیرمرکزی دفاعی حکمت عملی کے عملی استعمال کی ایک اہم مثال سمجھا گیا۔
تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر مقامی کمانڈر کو کسی بھی ملک پر اپنی مرضی سے حملہ کرنے کا غیرمحدود اختیار حاصل ہے۔
کیا ہر کمانڈر امریکی اہداف پر حملہ کرسکتا ہے؟
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعووں میں کہا جارہا ہے کہ ایرانی کمانڈروں کے پاس امریکی اقتصادی اور سیاسی اہداف کی فہرستیں موجود ہیں اور وہ تہران سے اجازت لیے بغیر حملے کرسکتے ہیں۔
لیکن دستیاب معتبر دفاعی تحقیقات میں اس مخصوص دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ملی۔
ماہرین کے مطابق مقامی کمانوں کو دفاعی فیصلوں میں آزادی دینا اور انہیں ہر قسم کے حملوں کی مکمل پیشگی اجازت دینا دو الگ معاملات ہیں۔
ایران کے کمانڈ نظام کی غیرمرکزی نوعیت ثابت شدہ ہے، لیکن ہر کمان کے پاس امریکی اہداف کی مخصوص فہرست موجود ہونے کا دعویٰ فی الحال غیرمصدقہ ہے۔
’’ڈیڈ ہینڈ‘‘ کا نام کیوں لیا جارہا ہے؟
موزیک دفاع کے لیے بعض سوشل میڈیا پوسٹوں میں ’’ڈیڈ ہینڈ‘‘ کی اصطلاح بھی استعمال کی جارہی ہے۔
تاہم یہ دونوں اصطلاحات ایک ہی چیز نہیں ہیں۔
ڈیڈ ہینڈ کی اصطلاح تاریخی طور پر سوویت دور کے ایک ایسے جوابی حملے کے نظام سے منسلک رہی ہے جس کا تصور مرکزی قیادت تباہ ہونے کی صورت میں جوابی کارروائی کو ممکن بنانا تھا۔
اس کے برعکس ایران کا موزیک دفاع ایک غیرمرکزی فوجی تنظیم اور مزاحمتی حکمت عملی ہے۔
دستیاب شواہد سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ایران نے سوویت طرز کا کوئی مکمل خودکار جوابی حملے کا نظام فعال کردیا ہے۔
امریکا اور اسرائیل کے لیے یہ نظام کیوں اہم ہے؟
موزیک دفاع کا سب سے اہم مقصد یہ ہے کہ ایران کے خلاف کسی بڑے حملے میں اعلیٰ فوجی قیادت یا مرکزی کمان کو نشانہ بنانا جنگ ختم کرنے کے لیے کافی ثابت نہ ہو۔
مارچ 2026 میں ریڈیو فری یورپ/ریڈیو لبرٹی کی رپورٹ کے مطابق امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران نے مقامی پاسدارانِ انقلاب کمانڈروں کو زیادہ عملی اختیارات دینے کی حکمت عملی استعمال کی۔
دفاعی ماہرین نے بتایا کہ اس نظام کے تحت مختلف علاقوں کے یونٹ مرکزی رابطہ متاثر ہونے کے باوجود اپنی دفاعی سرگرمیاں جاری رکھ سکتے ہیں۔
تاہم غیرمرکزی کمان کے اپنے خطرات بھی ہیں۔
مقامی کمانڈروں کی جانب سے الگ الگ فیصلوں کے باعث غلط اندازوں، غیرمتوقع کارروائیوں اور جنگ کے مزید پھیلنے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔
کیا ایران نے واقعی 31 الگ فوجیں بنادی ہیں؟
دستیاب تاریخی اور دفاعی شواہد کے مطابق اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔
ایران نے اپنی پوری فوج کو 31 آزاد قومی افواج میں تقسیم نہیں کیا، بلکہ پاسدارانِ انقلاب کے اندر صوبائی اور علاقائی کمانوں کا ایسا نظام قائم کیا جس میں مقامی سطح پر فیصلے کرنے کی صلاحیت بڑھائی گئی۔
یہ بھی کوئی ایسا نظام نہیں جو پہلی مرتبہ اکتوبر 2026 میں متعارف کروایا گیا ہو۔
اس کی منصوبہ بندی تقریباً دو دہائیاں پرانی ہے اور موجودہ علاقائی کشیدگی کے دوران اس کی اہمیت دوبارہ نمایاں ہوئی ہے۔
ایران کی اصل حکمت عملی کیا ہے؟
موزیک دفاع کا مقصد دشمن کو یہ پیغام دینا ہے کہ صرف مرکزی قیادت کو نشانہ بنانے سے ایرانی فوجی مزاحمت لازماً ختم نہیں ہوگی۔
یہ حکمت عملی جنگ کو طویل کرنے، مقامی مزاحمت برقرار رکھنے اور کسی بیرونی حملہ آور کے لیے فوری فیصلہ کن کامیابی کو مشکل بنانے کے تصور پر قائم ہے۔
تاہم اس نظام کی عملی کامیابی کا انحصار مقامی یونٹوں کی تربیت، ہتھیاروں، رسد، مواصلاتی وسائل اور جنگی صورتحال پر ہوگا۔
ایران کے موزیک دفاع کی حقیقت یہ ہے کہ اس کا فوجی نظام مرکزی قیادت کے متاثر ہونے کے باوجود مزاحمت جاری رکھنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، لیکن 31 کمانڈروں کو امریکی اہداف پر مکمل آزادانہ حملوں کا اختیار ملنے اور ان کے پاس مخصوص ہدفی فہرستیں موجود ہونے کے دعوے ابھی ثابت نہیں ہوئے۔






