دفاعی اور سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل فوجی فوجی برتری کو ایران میں سیاسی تبدیلی یا حکومت کے خاتمے میں بدلنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا یہ بیان سامنے آیا ہے کہ ایران کی حکومت کا تختہ الٹنا اسرائیل کا بنیادی ہدف ہے، تاہم انہوں نے اس بات کا کوئی اشارہ نہیں دیا کہ واشنگٹن نے ایران کے خلاف کسی دوسری جارحیت یا ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کیلئے حملوں میں شرکت پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ اسرائیل میں ایران کو شدید نقصان پہنچانے کی فوجی صلاحیت موجود ہے، لیکن اس کے پاس اس فوجی کامیابی کو تہران میں حکومت کی تبدیلی کے قابل بنانے کی کوئی واضح حکمت عملی نہیں ہے۔
فضائی حملے اکیلے اس مقصد کو حاصل نہیں کر سکتے جبکہ زمینی حملے کے لیے بہت بڑی فوجی قربانی کی ضرورت ہوگی۔ ایک نئی جنگ کا مطلب ایک ایسی ریاست کا سامنا کرنا ہوگا، جو پہلے ہی دو مرحلوں کے حملوں سے بچ چکی ہے اور اسرائیل اور خلیجی ممالک جہاں امریکی اثاثے موجود ہیں، دونوں پر جوابی کارروائی کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔
رائل یونائٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کے ریسرچ فیلو اربن کننگھم کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے پاس فضائی حملے کرنے کی بھرپور صلاحیت ہے لیکن وہ حکومت کی تبدیلی لانے کی سکت نہیں رکھتا کیونکہ اس کے لیے زمینی فوج کو کئی سال تک میدان میں رکھنا پڑے گا، جو کہ اسرائیل کے بس کی بات نہیں۔
ترکی کے ماہر کیگلور کرک کا کہنا ہے کہ بمباری ایران کی فوجی طاقت کو کمزور تو کر سکتی ہے لیکن اس کی جوابی کارروائی کی صلاحیت کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتی کیونکہ بہت سے نظام زمین کے اندر محفوظ ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کی شرکت بھی غیر یقینی ہے کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ وسط مدتی انتخابات سے پہلے مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے دباؤ میں ہیں۔ اگر اسرائیل امریکہ کے بغیر حملہ کرتا ہے تو ایران اپنی توجہ صرف اسرائیلی سرزمین پر مرکوز کر سکتا ہے اور امریکی اہداف کو چھوڑ سکتا ہے۔
مجموعی طور پر تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اسرائیل کے پاس ایران کے اندر فوجی اہداف کو تباہ کرنے اور وہاں سیاسی تبدیلی لانے کے درمیان ایک بہت بڑا خلاء موجود ہے جسے وہ پُر کرنے سے قاصر ہیں۔






