واشنگٹن (جی ٹی وی نیوز اردو) — 23 اکتوبر 2026: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور سابق سینئر وائٹ ہاؤس مشیر جیرڈ کشنر کے بارے میں ایک نئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہیں ٹرمپ کی پہلی صدارتی مدت کے دوران متحدہ عرب امارات اور اسرائیل میں موجود ایسے مبینہ خفیہ بینک کھاتوں تک رسائی حاصل تھی جن میں مجموعی طور پر تقریباً دو ارب ڈالر رکھے گئے تھے۔
امریکی جریدے وینٹی فیئر نے 22 اکتوبر کو صحافی میتھیو کول کی آنے والی کتاب کے اقتباسات شائع کیے ہیں، جن میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کی اعلیٰ قیادت سے متعلق سنگین مالی الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مبینہ مالی انتظامات کا تعلق مشرقِ وسطیٰ میں کشنر کی سفارتی سرگرمیوں، اسرائیل اور عرب ممالک کے تعلقات معمول پر لانے کی کوششوں اور امریکی خارجہ پالیسی سے تھا۔
تاہم کشنر نے ان تمام الزامات کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے ان کی سختی سے تردید کی ہے۔
پہلا مبینہ خفیہ کھاتہ، 75 کروڑ ڈالر کہاں سے آئے؟
وینٹی فیئر کے مطابق پہلا مبینہ کھاتہ متحدہ عرب امارات کے فرسٹ ابوظہبی بینک میں موجود تھا، جسے رپورٹ میں ’’الفا‘‘ کا فرضی نام دیا گیا ہے۔
مصنف کا دعویٰ ہے کہ 2017 سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے تقریباً 75 کروڑ ڈالر اس کھاتے میں منتقل کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق یہ رقم خارجہ پالیسی سے متعلق سرگرمیوں کے لیے مختص تھی اور اس کے بعض انتظامی امور میں جیرڈ کشنر اور متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید کا مبینہ کردار تھا۔
اہم بات یہ ہے کہ وینٹی فیئر کی رپورٹ میں یہ نہیں کہا گیا کہ مذکورہ کھاتہ قانونی طور پر کشنر کی ذاتی ملکیت تھا۔
مصنف کے مطابق کھاتہ ایک اماراتی فلاحی ادارے کی ملکیت تھا، تاہم کشنر کو مبینہ طور پر اس میں مالی لین دین کی اجازت حاصل تھی۔
رقم آذربائیجان کے راستے منتقل ہونے کا دعویٰ
رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ اس کھاتے میں بڑی رقوم آذربائیجان کے ایک بینک کے ذریعے امریکی ڈالروں میں منتقل کی گئیں۔
مصنف کے مطابق اس مالی راستے کے استعمال سے رقوم کی اصل ترسیل اور ان کے ذرائع کا سراغ لگانا مشکل ہوسکتا تھا۔
وینٹی فیئر نے دعویٰ کیا ہے کہ نیدرلینڈز کی فوجی خفیہ ایجنسی نے روسی ہیکروں سے متعلق ایک کارروائی کے دوران کشنر کے موبائل فون کی تصاویر اور معلومات تک رسائی حاصل کی تھی۔
بعد ازاں ڈچ اہلکاروں نے مبینہ طور پر کشنر کے فون کی سرگرمیوں کی نگرانی کی، جس سے متحدہ عرب امارات میں موجود ایک بینک کھاتے تک ان کی رسائی کا انکشاف ہوا۔
تاہم ان خفیہ معلومات اور مالی منتقلی کے تمام اصل دستاویزی شواہد عوام کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔
اسرائیل میں ایک ارب ڈالر کا دوسرا مبینہ کھاتہ
وینٹی فیئر کی رپورٹ کا ایک اور اہم الزام اسرائیل میں موجود دوسرے مبینہ کھاتے سے متعلق ہے۔
مصنف کے مطابق 2018 کے موسمِ بہار تک متحدہ عرب امارات کے محمد بن زاید کی جانب سے تقریباً ایک ارب ڈالر آذربائیجان کے راستے اسرائیل منتقل کیے گئے۔
اس مبینہ کھاتے کو رپورٹ میں ’’بیٹا‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے ایک ذریعے نے دعویٰ کیا کہ اس رقم کا مقصد جیرڈ کشنر کو ذاتی فائدہ پہنچانا تھا۔
تاہم یہ دعویٰ بھی آزادانہ طور پر ثابت نہیں ہوا اور کشنر کے وکیل نے ایسے کسی کھاتے کے وجود ہی سے انکار کیا ہے۔
نیتن یاہو کا نام کیسے سامنے آیا؟
وینٹی فیئر کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو مبینہ طور پر اس مالی انتظام کا علم تھا۔
رپورٹ میں ایک باخبر شخص کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ نیتن یاہو نے کشنر کو رقم اسرائیل کے مرکزی بینک میں رکھنے کی تجویز دی تھی، جہاں وہ سرکاری کھاتے کی صورت میں موجود رہ سکتی تھی۔
مصنف کے مطابق نیتن یاہو چاہتے تھے کہ کشنر اس مبینہ کھاتے سے کسی بھی رقم کی منتقلی سے پہلے انہیں آگاہ کریں۔
رپورٹ میں یہ بھی الزام لگایا گیا کہ اسرائیل میں سابق امریکی سفیر ڈیوڈ فریڈمین اس سلسلے میں پیغامات پہنچانے کا ذریعہ تھے۔
تاہم فریڈمین نے ان الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایسے کسی مالی انتظام یا اس میں اپنے مبینہ کردار کے بارے میں کوئی علم نہیں۔
کیا یہ رقم مشرقِ وسطیٰ کی سفارت کاری کے لیے تھی؟
وینٹی فیئر کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سعودی اور اماراتی قیادت نے ٹرمپ کی پہلی صدارتی مدت کے آغاز میں ایک بڑے مالی انتظام پر گفتگو کی تھی۔
ابتدائی منصوبے میں دس ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم زیرِ غور ہونے کا دعویٰ کیا گیا، تاہم بعد میں مبینہ طور پر مختلف کھاتوں کے ذریعے مالی انتظامات کیے گئے۔
مصنف کے مطابق اس منصوبے کا تعلق مشرقِ وسطیٰ میں امریکی خارجہ پالیسی، اسرائیل کے ساتھ عرب ممالک کے تعلقات اور علاقائی سفارتی مقاصد سے تھا۔
رپورٹ میں ایک ذریعے کے حوالے سے الزام لگایا گیا کہ کشنر نے اماراتی قیادت کو یقین دلایا تھا کہ مالی تعاون کے بدلے وہ امریکی صدر کے سامنے ان کے سیاسی مفادات کو آگے بڑھائیں گے۔
یہ الزام انتہائی سنگین ہے، تاہم اسے کسی عدالتی فیصلے یا ثابت شدہ رشوت ستانی کے واقعے کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔
امریکی حکام کو ان کھاتوں کا علم تھا؟
وینٹی فیئر کے مطابق ٹرمپ کی پہلی حکومت کے چار سابق اعلیٰ عہدیداروں نے مصنف کو بتایا کہ انہیں ایسی کسی صدارتی اجازت کا علم نہیں تھا جس کے تحت کشنر کو کسی غیرملکی حکومت کے بینک کھاتے تک رسائی دی گئی ہو۔
رپورٹ میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ اگر کشنر کو واقعی ایسے کھاتوں پر دستخط یا مالی لین دین کا اختیار حاصل تھا تو کیا انہیں امریکی حکومت کے مالی گوشواروں میں ظاہر کرنا ضروری تھا؟
مصنف نے امریکی قوانین کے تحت ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ، مالی معلومات ظاہر کرنے کی ذمہ داری اور غیرملکی حکومتوں کے لیے کام کرنے سے متعلق قانونی تقاضوں پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
تاہم کسی قانون کی خلاف ورزی ثابت ہونے کے لیے متعلقہ حقائق اور شواہد کی قانونی جانچ ضروری ہوگی۔
جیرڈ کشنر کی سخت تردید
رپورٹ سامنے آنے کے بعد جیرڈ کشنر نے تمام الزامات مسترد کردیے۔
انہوں نے کہا کہ مصنف کے دعوے مکمل طور پر غلط ہیں اور ایسے واقعات کبھی پیش نہیں آئے۔
کشنر کے مطابق ان الزامات کے حق میں بینک اسٹیٹمنٹس، رقوم کی منتقلی کے ریکارڈ، کھاتوں کے نمبر، لین دین کی تاریخیں یا دیگر قابلِ تصدیق تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ ٹرمپ کی پہلی صدارتی مدت میں شدید عوامی اور قانونی جانچ پڑتال کا سامنا کرچکے ہیں، متعدد تحقیقات میں تعاون کیا اور کئی گھنٹوں تک بیان بھی دیا۔
ان کے مطابق اگر ایسے واقعات واقعی پیش آئے ہوتے تو وہ سابقہ تحقیقات کے دوران سامنے آجاتے۔
کشنر کے وکیل نے بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کے مؤکل نے امریکی صدر کی منظوری کے بغیر غیرملکی رہنماؤں سے کوئی ایسا انتظام نہیں کیا جو امریکی مفادات کے خلاف ہو۔
کیا یہ سعودی عرب کی پہلے سے معروف دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہے؟
یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔
جیرڈ کشنر کی سرمایہ کاری کمپنی ایفینیٹی پارٹنرز کو 2021 میں سعودی عرب کے سرکاری سرمایہ کاری فنڈ سے دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ملنے کا معاملہ پہلے ہی رپورٹ ہوچکا ہے۔
لیکن وینٹی فیئر کی تازہ رپورٹ میں جن مبینہ خفیہ کھاتوں کا ذکر کیا گیا ہے، ان کا تعلق ٹرمپ کی پہلی صدارتی مدت، یعنی 2017 سے 2021 کے دوران ہونے والے مبینہ انتظامات سے ہے۔
لہٰذا ان دونوں معاملات کو ایک ہی مالی لین دین سمجھنا درست نہیں۔
کیا الزامات کی تحقیقات ہوں گی؟
وینٹی فیئر کی رپورٹ نے کشنر کے مبینہ غیرملکی مالی روابط، امریکی خارجہ پالیسی پر ممکنہ اثراندازی اور حکومتی شفافیت کے بارے میں نئے سوالات پیدا کیے ہیں۔
تاہم فی الحال ان مخصوص الزامات کی کسی عدالتی فیصلے کے ذریعے تصدیق سامنے نہیں آئی۔
رپورٹ میں بیان کردہ خفیہ کھاتوں، ان کی ملکیت اور ان سے ہونے والی مبینہ مالی منتقلیوں کی حقیقت جاننے کے لیے قابلِ تصدیق بینکاری ریکارڈ اور آزادانہ تحقیقات ضروری ہوں گی۔
وینٹی فیئر کے مطابق کشنر کو تقریباً دو ارب ڈالر کے مبینہ غیرملکی مالی انتظامات تک رسائی حاصل تھی، جبکہ کشنر کا مؤقف ہے کہ ایسے کھاتے کبھی موجود ہی نہیں تھے۔






