کراچی: جامعہ کراچی کے سابق قائم مقام وائس چانسلر ڈاکٹر طفیل احمد کے مختصر دور میں امتحانی نتائج میں مبینہ ردوبدل کا معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں ایس ایم لاء کالج اور اسلامیہ لاء کالج کے 150 سے زائد فیل طلبہ کو مختلف مضامین میں پاس کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
دستیاب معلومات کے مطابق بعض طلبہ ابتدائی نتائج میں فیل قرار دیے گئے تھے، تاہم بعد میں اسکروٹنی کے عمل کے ذریعے ان کے نتائج تبدیل کیے گئے۔ بعض طلبہ کے نمبروں میں نمایاں اضافہ کیے جانے کی بھی نشاندہی ہوئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق کچھ طلبہ کو ایل ایل بی کے مختلف مضامین میں فیل ہونے کے بعد اسکروٹنی کے ذریعے پاس کیا گیا، جبکہ بعض کیسز میں 50 سے 65 تک نمبر دیے جانے کی بات سامنے آئی ہے۔
اس معاملے میں ایک اسکروٹنی کمیٹی کے قیام پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق رئیس کلیہ قانون، دونوں لاء کالجز کے نمائندوں اور ناظم امتحانات پر مشتمل کمیٹی کا اجلاس 5 اگست کو ہوا، جس میں ایل ایل بی پارٹ ٹو کے ایک پرچے کی جوابی کاپیوں کی دوبارہ جانچ کا فیصلہ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اسکروٹنی کمیٹی کی سفارشات کی منظوری 6 اگست کو اُس وقت کے قائم مقام وائس چانسلر ڈاکٹر طفیل احمد سے لی گئی۔ منظوری کے عمل میں دیگر متعلقہ کیسز کو بھی شامل کیے جانے کے بعد مطالعہ پاکستان کے پرچوں میں فیل بعض طلبہ کے نتائج میں تبدیلی کی گئی۔
جامعہ کراچی کے سابق مستقل وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی نے اپنے دور میں اس معاملے سے متعلق ایک اجتماعی درخواست پر کارروائی روک دی تھی۔ ان کے مطابق یونیورسٹی میں اسکروٹنی کے لیے انفرادی درخواست پر کارروائی کی جاتی ہے، جبکہ سالانہ نظام میں اسکروٹنی کے تحت ری کاؤنٹنگ کی جاتی ہے، امتحانی کاپیوں کی دوبارہ جانچ نہیں کی جاتی۔
دوسری جانب ناظم امتحانات ڈاکٹر یاسر نے فیل طلبہ کو پاس کرنے کے معاملے کی تردید کرتے ہوئے اسے غلط اطلاع قرار دیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ کسی فیل طالب علم کو اس طریقے سے پاس نہیں کیا گیا۔
رئیس کلیہ قانون بیرسٹر سرفراز میتلو نے نتائج میں تبدیلی کی تصدیق کی ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ تمام کارروائی وائس چانسلر کی منظوری سے قانونی طریقہ کار کے تحت کی گئی۔ ان کے مطابق بعض طلبہ کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی اور دوبارہ جانچ کے بعد صرف وہ طلبہ پاس کیے گئے جو معمولی فرق سے فیل ہوئے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ صفر نمبر لینے والے کسی طالب علم کو پاس نہیں کیا گیا، جبکہ کاپیوں کی دوبارہ جانچ دونوں لاء کالجز کے پرنسپلز اور ناظم امتحانات کی موجودگی میں کی گئی۔
ایس ایم لاء کالج کے پرنسپل پروفیسر فرید ڈایو کے مطابق تقریباً 180 طلبہ کو ایک استاد کی جانب سے فیل کیا گیا تھا، جس کے بعد معاملہ اسکروٹنی کمیٹی کے سامنے رکھا گیا اور جن طلبہ کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی، انہیں پاس کیا گیا۔ دوسری جانب اسلامیہ لاء کالج کے پرنسپل نے معاملے پر مزید معلومات کے لیے ڈین لاء سے رابطہ کرنے کا کہا۔
جامعہ کراچی میں امتحانی نتائج میں تبدیلی کا معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب نئے وائس چانسلر ڈاکٹر وسیم قاضی نے ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔ معاملہ نئے انتظامی سیٹ اپ کے لیے ایک اہم امتحان بن گیا ہے، خصوصاً امتحانی نتائج میں شفافیت، قواعد کی پابندی اور طلبہ کے ساتھ یکساں سلوک کے حوالے سے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے معاملے کی مکمل وضاحت اور متعلقہ قواعد و ضوابط کی روشنی میں صورتحال واضح ہونے کے بعد ہی یہ طے ہوسکے گا کہ نتائج میں کی جانے والی تبدیلیاں مقررہ طریقہ کار کے مطابق تھیں یا نہیں۔






