لاہور میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی اور سموگ پر قابو پانے کیلئے محکمہ تحفظ ماحول پنجاب نے اسکولوں کیلئے اہم ہدایات جاری کردی ہیں۔
اسکول انتظامیہ کو طلبہ، والدین اور عملے میں کارپولنگ کو فروغ دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ مقصد سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد کم کرنا اور فضائی آلودگی کو کنٹرول کرنا ہے۔
محکمہ تحفظ ماحول پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل عبداللہ نیئر شیخ کے مطابق اسکولوں کے اطراف صبح کے وقت گاڑیوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔ اس سے ٹریفک کا دباؤ بھی بڑھتا ہے اور گاڑیوں کا دھواں بھی فضا کو آلودہ کرتا ہے۔ EPA پنجاب کی موجودہ ویب سائٹ پر بھی عبداللہ نیئر شیخ کو موجودہ ڈائریکٹر جنرل درج کیا گیا ہے۔
نئی ہدایت کے تحت ایک ہی علاقے یا قریبی روٹس سے اسکول آنے والے طلبہ اور ان کے والدین مشترکہ گاڑی استعمال کرسکیں گے۔ اسی طرح اسکول کا عملہ بھی ایک دوسرے کے ساتھ کارپولنگ کا انتظام کرسکے گا۔ اس مقصد کیلئے اسکول انتظامیہ کو باہمی رضامندی سے مناسب انتظام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
کارپولنگ کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ایک ہی روٹ پر سفر کرنے والے کئی افراد الگ الگ گاڑیوں کے بجائے کم گاڑیوں میں سفر کریں۔ اس سے اسکول کے باہر ٹریفک کا رش کم ہوسکتا ہے۔ گاڑیوں سے نکلنے والے دھوئیں میں بھی کمی لائی جاسکتی ہے۔
لاہور میں سموگ کے دوران ٹریفک سے پیدا ہونے والی آلودگی ایک اہم مسئلہ بن جاتی ہے۔ صبح کے وقت اسکولوں کے باہر والدین کی گاڑیوں کا رش اس صورتحال کو مزید مشکل بنا سکتا ہے۔ اسی وجہ سے اسکولوں کے اطراف گاڑیوں کی غیر ضروری تعداد کم کرنے پر توجہ دی جارہی ہے۔
محکمہ تحفظ ماحول کے مطابق انفرادی گاڑیوں کا غیر ضروری استعمال فضائی آلودگی میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ کارپولنگ سے ایک ہی سفر کیلئے استعمال ہونے والی گاڑیوں کی تعداد کم کی جاسکتی ہے۔ اس طرح ایندھن کے استعمال اور گاڑیوں سے خارج ہونے والے دھوئیں میں بھی کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔






