تازہ ترین
عالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!عالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!
تعلیم

جامعہ کراچی میں ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا

جامعہ کراچی امتحانی نتائج میں مبینہ ردوبدل

کراچی: جامعہ کراچی کے 1897 ملازمین کے لیے ہاؤس رینٹل سیلنگ میں اضافے کی منظوری کے بعد یونیورسٹی کے مالی معاملات پر اضافی دباؤ بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ نئے نرخ یکم نومبر 2026 سے نافذ کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں ہاؤس رینٹ کی مد میں جامعہ کراچی کے ماہانہ اخراجات 5 کروڑ روپے سے بڑھ کر تقریباً 9 کروڑ 25 لاکھ 80 ہزار روپے ہوجائیں گے۔

دستیاب مالی تخمینوں کے مطابق ہاؤس رینٹ میں اضافے کے بعد جامعہ کراچی کو ہر ماہ تقریباً 4 کروڑ 25 لاکھ 36 ہزار 893 روپے اضافی ادا کرنا ہوں گے۔ اس اضافی اخراجات کے باعث سالانہ بنیاد پر ہاؤس رینٹ کی مد میں یونیورسٹی کا مجموعی خرچ 111 کروڑ روپے سے تجاوز کرنے کا امکان ہے، جبکہ موجودہ اخراجات کے مقابلے میں سالانہ تقریباً 51 کروڑ روپے کے اضافی مالی وسائل درکار ہوں گے۔

گریڈ ایک سے 9 تک ملازمین کے ہاؤس رینٹ میں اضافہ

نئی ہاؤس رینٹل سیلنگ پالیسی کے تحت گریڈ ایک سے 9 تک کے ملازمین سمیت مختلف کیٹیگریز کے لیے ہاؤس رینٹ کی شرح میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ نئے نرخوں کے تحت ماہانہ ہاؤس رینٹ تقریباً 12 ہزار 193 روپے سے ایک لاکھ 31 ہزار 548 روپے تک مقرر کیے جانے کی تجویز سامنے آئی ہے۔

مالی دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یکم نومبر 2025 سے آٹھ ماہ کے عرصے کے حساب سے اضافی ہاؤس رینٹ کا مالی بوجھ 34 کروڑ 2 لاکھ 95 ہزار روپے سے زائد بنتا ہے، جسے پورا کرنے کے لیے جامعہ کراچی کو اضافی مالی وسائل کی ضرورت ہوگی۔

تنخواہوں کی ادائیگی متاثر ہونے کا خدشہ

جامعہ کراچی کے ڈائریکٹر فنانس نے مالی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نشاندہی کی ہے کہ موجودہ نقدی کے تخمینے مستقل اضافی ہاؤس رینٹ کا بوجھ برداشت کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔

مالی معاونت بروقت فراہم نہ کیے جانے کی صورت میں سال کے دوران جامعہ کراچی کی دستیاب نقدی ختم ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ڈائریکٹر فنانس کے مطابق اضافی مالی وسائل دستیاب نہ ہوئے تو ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی میں ناغے کا سنگین خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔

حکومت سے خصوصی گرانٹ کی سفارش

جامعہ کراچی نے ہاؤس رینٹل سیلنگ پالیسی پر مکمل عمل درآمد کے لیے حکومت سے خصوصی مالی معاونت فراہم کرنے کی سفارش کی ہے۔ یونیورسٹی کے مطابق اضافی اخراجات کو مستقل بنیادوں پر برداشت کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی وسائل کی ضرورت ہوگی، بصورت دیگر موجودہ مالی دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔

جامعہ کراچی کے کیمپس میں موجود رہائشی کوارٹرز سے متعلق بجلی کے اخراجات بھی یونیورسٹی کے مالی معاملات پر اثر انداز ہورہے ہیں۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے رہائشی کوارٹرز میں بجلی کے الگ میٹرز کی تنصیب کے لیے 50 کروڑ روپے کی خصوصی گرانٹ طلب کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

بجلی کے بل کم کرنے کے لیے سولر منصوبہ

جامعہ کراچی نے بجلی کے بڑھتے ہوئے اخراجات میں کمی کے لیے سولر پینلز کی تنصیب کا منصوبہ بھی تجویز کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے تقریباً 80 کروڑ روپے کی گرانٹ طلب کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

یونیورسٹی کے مالی حکام کے مطابق سولر توانائی کی جانب منتقلی سے مستقبل میں بجلی کے بلوں پر پڑنے والے دباؤ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم اس کے لیے ابتدائی طور پر بڑی مالی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔

ہاؤس رینٹ پالیسی کے لیے اضافی وسائل ناگزیر

جامعہ کراچی کے ڈائریکٹر فنانس کے مطابق ہاؤس رینٹل سیلنگ پالیسی پر مکمل عمل درآمد کے لیے اضافی مالی معاونت ضروری ہے۔ ایک طرف ملازمین کے ہاؤس رینٹ میں اضافے سے مستقل اخراجات بڑھیں گے، جبکہ دوسری جانب بجلی اور دیگر انتظامی اخراجات بھی یونیورسٹی کے مالی وسائل پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔

جامعہ کراچی کو ہاؤس رینٹ کی نئی شرح پر عمل درآمد، ملازمین کی تنخواہوں کی بروقت ادائیگی اور دیگر ضروری اخراجات جاری رکھنے کے لیے حکومت سے اضافی مالی معاونت درکار ہوگی۔ بروقت وسائل دستیاب نہ ہونے کی صورت میں یونیورسٹی کے نقدی بہاؤ اور مستقبل کے مالی انتظام پر مزید دباؤ آنے کا خدشہ ہے۔