وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات کی زیر صدارت نواز شریف اسکول آف ایمننس کے فیز 2 سے متعلق اجلاس ہوا۔
اجلاس میں اسکولوں کے دوروں کے دوران مانیٹرنگ ٹیموں کی جانب سے سامنے آنے والی خامیوں اور لائسنس کی شرائط کا جائزہ لیا گیا۔ وزیر تعلیم نے واضح کیا کہ مقررہ قواعد و ضوابط پر عمل نہ کرنے والے اسکولوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ جو ادارے طے شدہ شرائط پوری نہیں کریں گے، ان کے لائسنس منسوخ کیے جاسکتے ہیں۔
اجلاس کے دوران وزیر تعلیم نے تمام متعلقہ اسکولوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے انفراسٹرکچر کو مقررہ معیار کے مطابق مکمل کریں۔ اسکولوں میں بنیادی سہولیات اور عمارت سے متعلق شرائط پر سو فیصد عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ مانیٹرنگ ٹیموں کی رپورٹس میں سامنے آنے والی خامیوں کو دور کرنا ضروری ہے۔ لائسنس کی شرائط اور طے شدہ ضابطوں پر عمل نہ کرنے والے اداروں کو مزید رعایت نہیں دی جائے گی۔
اسکولوں کو قواعد پر عمل درآمد کی ہدایت
رانا سکندر حیات نے اجلاس میں کہا کہ نواز شریف اسکول آف ایمننس منصوبے کے تحت معیار تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے مقررہ اصولوں پر عمل ضروری ہے۔ تمام متعلقہ اسکولوں کو اپنی کارکردگی اور سہولیات بہتر بنانا ہوں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسکولوں کے معائنے کے دوران سامنے آنے والی خامیوں کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔
وزیر تعلیم کے مطابق لائسنس کی شرائط پوری نہ کرنے والے اسکولوں کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے۔ اس لیے تمام ادارے اپنے انتظامات کا جائزہ لیں اور ضروری اصلاحات مکمل کریں۔ ان اقدامات کا مقصد اسکولوں میں بہتر تعلیمی ماحول اور معیاری سہولیات کو یقینی بنانا ہے۔
اسکولوں کو ادائیگیاں بروقت کرنے کی یقین دہانی
اجلاس میں وزیر تعلیم نے متعلقہ لائسنس یافتہ اداروں کو بروقت ادائیگیاں یقینی بنانے کی بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی منصوبوں کو مؤثر انداز میں چلانے کے لیے انتظامی امور کے ساتھ مالی معاملات کی بروقت تکمیل بھی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں نصاب کو جدید تقاضوں کے مطابق بنانے کے لیے اسمارٹ سلیبس کی جانب پیش رفت جاری ہے۔ نئے نصاب میں تقریباً 35 فیصد مواد دوبارہ مرتب کیا گیا ہے۔ اس تبدیلی کا مقصد نصابی مواد کو بہتر بنانا اور طلبہ کے لیے تعلیم کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔
پہلی سے پانچویں جماعت کی کتابیں فروری میں پہنچانے کا منصوبہ
رانا سکندر حیات کے مطابق پہلی سے پانچویں جماعت تک کی نئی نصابی کتابیں فروری میں اسکولوں تک پہنچانے کا منصوبہ ہے۔ اس مقصد کے لیے نئے سلیبس اور کتابوں کی تیاری پر کام کیا جارہا ہے۔
نصاب میں تبدیلی اور کتابوں کی بروقت فراہمی سے سکولوں کو تعلیمی سال کی تیاری میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم، کتابوں کی ترسیل اور نئے نصاب کے نفاذ کے لیے متعلقہ اداروں کی بروقت تیاری اہم ہوگی۔
ایمننس ماڈل پر نجی تعلیمی شعبے کی توجہ
وزیر تعلیم نے کہا کہ نواز شریف اسکول آف ایمننس کے ماڈل کے باعث نجی تعلیمی شعبہ بھی اس پر غور کر رہا ہے۔ اس ماڈل نے تعلیمی اداروں میں معیار اور کارکردگی کے حوالے سے بحث کو بڑھایا ہے۔






