تازہ ترین
ایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیاں، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتاردانتوں کی صحت صرف برش سے نہیں بلکہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔!!! نئی تحقیق میں اہم انکشافایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیاں، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتاردانتوں کی صحت صرف برش سے نہیں بلکہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔!!! نئی تحقیق میں اہم انکشاف
تعلیم

پشاور اسکول سانحے کے بعد خیبرپختونخوا کے تمام اضلاع میں اسکولوں کی عمارتوں کے معائنے کا فیصلہ

خیبرپختونخوا اسکولوں کی عمارتوں کا سروے

پشاور کے دیر کالونی میں الخیر ایجوکیشن سسٹم کی کلاس روم کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے کے بعد خیبرپختونخوا میں سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کی ساختی حفاظت جانچنے کے لیے ضلعی سطح پر جامع سروے کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے محکمہ ایلیمنٹری و ثانوی تعلیم خیبرپختونخوا نے محکمہ مواصلات و تعمیرات سے تمام اضلاع کے لیے اہل تکنیکی ٹیمیں نامزد کرنے کی درخواست کی ہے۔

محکمہ ایلیمنٹری و ثانوی تعلیم کی جانب سے جاری مراسلے میں کہا گیا ہے کہ پشاور کے اسکول میں چھت گرنے کے واقعے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا، جبکہ طلبہ اور اساتذہ بھی زخمی ہوئے۔ اس واقعے کے تناظر میں سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کی حالت کا تفصیلی جائزہ لینے اور ممکنہ حفاظتی خطرات کی بروقت نشاندہی کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

مراسلے کے مطابق محکمہ مواصلات و تعمیرات کی نامزد کردہ تکنیکی ٹیمیں متعلقہ ضلعی تعلیمی حکام کے تعاون سے سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کا معائنہ کریں گی۔ اس عمل کے دوران عمارتوں کے مختلف تعمیراتی حصوں کی مضبوطی اور موجودہ حالت کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کی نشاندہی کی جاسکے۔

معائنے میں اسکولوں کی چھتوں، دیواروں، شہتیروں، بنیادوں، سیڑھیوں اور عمارت کے دیگر تعمیراتی حصوں کو خصوصی طور پر جانچا جائے گا۔ تکنیکی ٹیمیں عمارتوں میں موجود نقائص، ساختی کمزوریوں اور طلبہ و عملے کی سلامتی کے لیے ممکنہ خطرات کی نشاندہی کریں گی۔

حکام کے مطابق سروے مکمل ہونے کے بعد اسکولوں کی عمارتوں کو تین مختلف زمروں میں تقسیم کیا جائے گا، تاکہ ان کی موجودہ حالت کے مطابق ضروری اقدامات کیے جاسکیں۔ اگر معائنے کے دوران کسی عمارت سے طلبہ یا عملے کی جان کو فوری خطرہ لاحق ہونے کا انکشاف ہو تو تکنیکی ٹیمیں سروے مکمل ہونے کا انتظار کیے بغیر متعلقہ ضلعی حکام کو آگاہ کریں گی۔

مراسلے میں ہدایت کی گئی ہے کہ خطرناک قرار دی جانے والی عمارتوں کے حوالے سے فوری حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔ ان اقدامات میں عمارت تک رسائی محدود کرنا یا اس کا استعمال عارضی طور پر معطل کرنا بھی شامل ہوسکتا ہے، تاکہ کسی ممکنہ حادثے سے بچا جاسکے۔

معائنے کے بعد ہر اسکول کے لیے بلڈنگ سیفٹی کلیئرنس سرٹیفکیٹ یا عدم اعتراض سرٹیفکیٹ بھی جمع کرایا جائے گا۔ اس کے علاوہ محکمہ مواصلات و تعمیرات کو تمام اضلاع کی جامع معائنہ رپورٹس مرتب کرکے جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ان رپورٹس میں اسکولوں کی عمارتوں کی درجہ بندی، معائنے کے دوران سامنے آنے والے نقائص اور ان کی اصلاح کے لیے تجویز کردہ اقدامات کی تفصیلات شامل ہوں گی۔ مراسلے کے مطابق تمام رپورٹس 26 اکتوبر 2026 کو دوپہر 12 بجے تک جمع کرانا ہوں گی۔

متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ طلبہ، اساتذہ اور دیگر عملے کی جان و سلامتی یقینی بنانے کے لیے سروے اور معائنے کا عمل ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔