تازہ ترین
عالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!عالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!
انٹرٹینمنٹ

ہالی ووڈ کی معروف اداکارہ ایوا میری سینٹ انتقال کر گئیں

ہالی ووڈ کی معروف اور آسکر ایوارڈ یافتہ اداکارہ ایوا میری سینٹ 102 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔

 اداکارہ نے منگل کے روز لاس اینجلس میں واقع اپنی رہائش گاہ پر اہل خانہ اور قریبی عزیزوں کی موجودگی میں آخری سانس لی۔ ان کے نمائندے جیف سینڈرسن کے مطابق ایوا میری سینٹ کا انتقال طبعی وجوہات کے باعث ہوا۔

اداکارہ کے انتقال کی خبر سامنے آتے ہی ہالی ووڈ سمیت عالمی فلمی دنیا میں سوگ کی کیفیت پیدا ہوگئی۔ مداحوں، ساتھی فنکاروں اور فلمی حلقوں کی جانب سے ان کی طویل فنی زندگی اور یادگار کرداروں کو خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔

پہلی فلم ہی آسکر کا سبب بن گئی

ایوا میری سینٹ نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز 1954 میں فلم ’آن دی واٹر فرنٹ‘ سے کیا تھا۔ یہ ان کی پہلی تھی اور اسی فلم نے انہیں راتوں رات ہالی ووڈ کی نمایاں اداکاراؤں میں شامل کر دیا۔

فلم میں انہوں نے معروف اداکار مارلن برانڈو کے ساتھ کام کیا۔ ایوا میری سینٹ نے اپنے کردار میں ایسی شاندار اداکاری کی کہ انہیں بہترین معاون اداکارہ کے آسکر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس طرح انہوں نے اپنی پہلی ہی فلم میں سب سے بڑا فلمی اعزاز حاصل کرلیا۔

یہ کامیابی ان کے لیے ایک مضبوط آغاز ثابت ہوئی۔ اس کے بعد انہیں ہالی ووڈ کی اہم فلموں میں کام کے مواقع ملتے رہے۔ انہوں نے مختلف انداز کے کردار ادا کیے اور اپنی اداکاری سے ناظرین کی توجہ حاصل کی۔

ہچکاک کی مشہور فلم میں بھی اداکاری

ایوا میری سینٹ کے کیریئر کا ایک اور اہم سنگِ میل الفریڈ ہچکاک کی مشہور فلم ’نارتھ بائی نارتھ ویسٹ‘ تھی۔ یہ فلم 1959 میں ریلیز ہوئی تھی۔ اس میں انہوں نے معروف اداکار کیری گرانٹ کے ساتھ مرکزی کردار ادا کیا۔

فلم میں ان کا کردار ایک ایسی خاتون کا تھا جو جاسوسی اور خطرناک حالات سے جڑی کہانی کا حصہ بنتی ہے۔ فلم کی کامیابی نے ایوا میری سینٹ کی شہرت کو مزید بڑھایا۔ آج بھی یہ فلم ان کے نمایاں کاموں میں شمار ہوتی ہے۔

اپنے طویل کیریئر کے دوران انہوں نے ہالی ووڈ کے کئی بڑے اداکاروں کے ساتھ کام کیا۔ ان میں پال نیومین اور وارن بیٹی سمیت کئی معروف نام شامل ہیں۔ انہوں نے مختلف ادوار میں مختلف نوعیت کے کردار ادا کیے۔

ٹی وی پر بھی اپنی شناخت بنائی

ایوا میری سینٹ نے صرف فلموں میں ہی کامیابی حاصل نہیں کی بلکہ ٹیلی ویژن پر بھی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ 1990 میں ٹی وی سیریز ’پیپل لائک اَس‘ میں اداکاری پر انہیں ایمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔

اس کامیابی نے ثابت کیا کہ وہ بڑے پردے کے ساتھ ساتھ ٹی وی پر بھی مؤثر اداکاری کر سکتی تھیں۔ کئی دہائیوں تک جاری رہنے والے اپنے کیریئر میں انہوں نے بدلتے ہوئے فلمی اور ٹی وی انداز کے ساتھ خود کو بھی ڈھالا۔

اداکارہ نے عمر کے آخری حصے تک شوبز سے اپنا تعلق برقرار رکھا۔ بعد کے برسوں میں بھی وہ مختلف فلمی منصوبوں میں نظر آئیں۔ ان کی قابلِ ذکر بعد کی فلموں میں ’سپرمین ریٹرنز‘ اور ’ونٹرز ٹیل‘ شامل ہیں۔ انہیں آخری مرتبہ 2019 کی فلم ’میریئٹ اِن ایکسٹیسی‘ میں دیکھا گیا۔

تقریباً 65 سالہ ازدواجی زندگی

ایوا میری سینٹ کی ذاتی زندگی بھی طویل رفاقت پر مشتمل رہی۔ ان کی شادی ٹی وی ڈائریکٹر جیفری ہیڈن سے ہوئی تھی۔ دونوں نے تقریباً 65 سال ایک ساتھ گزارے۔

جیفری ہیڈن 2016 میں انتقال کر گئے تھے۔ ایوا میری سینٹ اور جیفری ہیڈن کے دو بچے تھے۔ اداکارہ نے اپنی نجی زندگی کو زیادہ تر میڈیا کی توجہ سے دور رکھا اور اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزارا۔