بالی ووڈ کے معروف اداکار نانا پاٹیکر کے انتقال کے بعد گوا پولیس نے تحقیقات شروع کردی ہیں۔
پولیس نے اداکار کی موت کے معاملے میں غیر فطری موت کا مقدمہ درج کیا ہے۔ تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ اس کارروائی کا مطلب یہ نہیں کہ موت کو لازماً مشکوک قرار دیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 75 سالہ نانا پاٹیکر جمعرات کو گوا کے علاقے ڈونا پاؤلا میں واقع اپنی رہائش گاہ پر انتقال کرگئے تھے۔ ابتدائی اطلاعات میں ان کی موت کی وجہ حرکت قلب بند ہونا بتائی گئی تھی۔
اداکار کو گوا کے بامبولم علاقے میں واقع منی پال اسپتال منتقل کیا گیا۔ اسپتال پہنچنے پر ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا۔ اسپتال کے شعبہ آنکولوجی کے سربراہ ڈاکٹر شیکھر سالکر نے میڈیا کو بتایا کہ یہ ایک میڈیکو لیگل کیس تھا۔ نانا پاٹیکر کو اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی مردہ قرار دیا جاچکا تھا، اس لیے پولیس کو اطلاع دینا قانونی طریقہ کار کا حصہ تھا۔
گوا پولیس کے مطابق کسی شخص کی موت گھر پر ہو اور اسے مردہ حالت میں اسپتال لایا جائے تو ایسے معاملے میں غیر فطری موت کا مقدمہ درج کرنا معمول کی قانونی کارروائی ہوتی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس ایف آئی آر سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جانا چاہیے کہ اداکار کی موت میں کوئی مشکوک پہلو لازماً موجود ہے۔ تحقیقات کا مقصد موت کے حالات اور دیگر ضروری معلومات کا ریکارڈ مکمل کرنا ہے۔
میت گوا سے پونے منتقل
نانا پاٹیکر کی میت گوا سے پونے منتقل کی گئی۔ ان کی آخری رسومات پونے میں واقع فارم ہاؤس میں ادا کی گئیں۔ اس موقع پر خاندان، قریبی افراد، مداحوں اور شوبز سے وابستہ شخصیات نے اداکار کو خراج عقیدت پیش کیا۔
نانا پاٹیکر کے بیٹے ملہار پاٹیکر نے اپنے والد کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ نانا صاحب جیسی شخصیات کبھی اپنے مداحوں اور لوگوں سے مکمل طور پر دور نہیں ہوتیں۔ ان کے کام اور فن انہیں ہمیشہ زندہ رکھتے ہیں۔
ملہار پاٹیکر کے مطابق گوا سے میت کو پونے منتقل کرنے میں کچھ وقت لگا۔ اسی وجہ سے خاندان نے اسی روز آخری رسومات ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔
نانا پاٹیکر طویل عرصے تک بھارتی فلم انڈسٹری کا نمایاں نام رہے۔ انہوں نے مختلف نوعیت کے کردار ادا کیے اور اپنی منفرد اداکاری کے باعث شائقین میں خاص مقام بنایا۔ ان کے انتقال کے بعد مداح ان کی فلمی خدمات اور یادگار کرداروں کو سوشل میڈیا پر یاد کر رہے ہیں۔






