تازہ ترین
عالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!عالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!
انٹرٹینمنٹ

مراٹھی اور ہندی اداکارہ مدھو کمبیکر 73 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں

مدھو کمبیکر کا انتقال

مراٹھی اور ہندی فلموں کی معروف اداکارہ مدھو کمبیکر 73 برس کی عمر میں پیر کو بھارتی شہر پونے میں انتقال کر گئیں۔ وہ طویل عرصے سے علیل تھیں اور فالج کے دورے کے بعد صحت کے متعدد مسائل کا سامنا کررہی تھیں۔ ان کے انتقال سے مراٹھی سنیما، تھیٹر اور لوک فنون کے حلقوں میں سوگ کی فضا پیدا ہوگئی ہے۔

مدھو کمبیکر نے اپنے فنی سفر میں مراٹھی سنیما، ہندی فلموں، تھیٹر اور ٹیلی ویژن میں کام کیا۔ وہ اپنی منفرد اداکاری اور روایتی فنون سے وابستگی کے باعث پہچانی جاتی تھیں۔ ہندی فلموں میں بھی انہوں نے اہم کردار ادا کیے، جن میں فلم ہم دونوں (1995) اور یشونت (1997) شامل ہیں۔ ان دونوں فلموں میں انہوں نے معروف اداکار نانا پاٹیکر کی والدہ کا کردار نبھایا تھا۔

اداکارہ کی فنی شناخت صرف فلموں تک محدود نہیں تھی بلکہ مراٹھی تھیٹر اور ٹیلی ویژن میں بھی ان کی خدمات نمایاں رہیں۔ انہیں خصوصاً مہاراشٹر کے روایتی لوک رقص لاونی میں اپنی پرفارمنس کے لیے سراہا جاتا تھا۔ لاونی موسیقی، گیت اور رقص پر مشتمل ایک مقبول لوک فن ہے جس کے ذریعے جذبات اور کہانیوں کو پیش کیا جاتا ہے۔ مدھو کمبیکر نے اپنی پرفارمنس کے ذریعے اس روایت سے وابستہ فن کو فروغ دینے میں کردار ادا کیا۔

مدھو کمبیکر ممبئی کے علاقے مالے گاؤں میں ایک بنجارہ خاندان میں پیدا ہوئی تھیں۔ انہوں نے اپنی فنی زندگی کے دوران مختلف شعبوں میں کام کیا اور مراٹھی ثقافت و لوک فنون سے وابستگی برقرار رکھی۔ ان کی اداکاری اور لاونی رقص کو ان کی فنی شناخت کا اہم حصہ سمجھا جاتا تھا۔

فلموں میں کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ تھیٹر اور ٹیلی ویژن میں ان کی سرگرمیاں بھی ان کے طویل فنی سفر کا حصہ رہیں۔ ہم دونوں اور یشونت جیسی ہندی فلموں میں نانا پاٹیکر کی والدہ کے کرداروں نے انہیں مراٹھی سنیما سے باہر کے ناظرین میں بھی پہچان دلائی۔

مدھو کمبیکر کے انتقال سے بھارتی شوبز نے ایسی فنکارہ کو کھو دیا ہے جنہوں نے فلم، تھیٹر، ٹیلی ویژن اور روایتی لوک فنون میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ ان کی لاونی پرفارمنس اور مراٹھی ثقافت سے وابستگی ان کے فنی ورثے کا اہم حصہ رہیں گی۔