تازہ ترین
ایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیاں، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتاردانتوں کی صحت صرف برش سے نہیں بلکہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔!!! نئی تحقیق میں اہم انکشافایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیاں، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتاردانتوں کی صحت صرف برش سے نہیں بلکہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔!!! نئی تحقیق میں اہم انکشاف
جی ٹی وی فیکٹ چیکدرست

پاکستان میں 12 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع 5 کلومیٹر طویل جھیل، باہا جھیل تک کیسے پہنچیں؟

گلگت بلتستان کے سرکاری محکمۂ سیاحت کے مطابق باہا جھیل ضلع غذر، تحصیل گوپس، لنگر گاؤں کے قریب واقع ہے۔ جھیل کی بلندی تقریباً 3,622 میٹر (11,883 فٹ)، لمبائی تقریباً 5 کلومیٹر اور چوڑائی تقریباً 750 میٹر بتائی گئی ہے۔ لنگر سے جھیل تک تقریباً دو گھنٹے کی ٹریکنگ درکار ہوتی ہے اور مئی سے ستمبر کا عرصہ سفر کے لیے موزوں قرار دیا گیا ہے۔ البتہ یہ کہنا کہ ’’بیشتر سیاح اس جھیل سے ناواقف ہیں‘‘ ایک عمومی تاثر ہے؛ سرکاری ریکارڈ صرف اسے نسبتاً کم دریافت شدہ مقام قرار دیتا ہے۔

دعویٰ

پاکستان کے ضلع غذر میں تقریباً 12 ہزار فٹ کی بلندی پر باہا جھیل واقع ہے جو تقریباً 5 کلومیٹر طویل ہے، جبکہ لنگر گاؤں سے وہاں پہنچنے کے لیے تقریباً دو گھنٹے کی ٹریکنگ کرنا پڑتی ہے۔

آن لائن/سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی معلومات؛ مخصوص اصل ناشر کی الگ سے تصدیق نہیں ہوسکی۔Social
حقیقت

گلگت بلتستان کے سرکاری محکمۂ سیاحت کے مطابق باہا جھیل ضلع غذر، تحصیل گوپس، لنگر گاؤں کے قریب واقع ہے۔ جھیل کی بلندی تقریباً 3,622 میٹر (11,883 فٹ)، لمبائی تقریباً 5 کلومیٹر اور چوڑائی تقریباً 750 میٹر بتائی گئی ہے۔ لنگر سے جھیل تک تقریباً دو گھنٹے کی ٹریکنگ درکار ہوتی ہے اور مئی سے ستمبر کا عرصہ سفر کے لیے موزوں قرار دیا گیا ہے۔ البتہ یہ کہنا کہ ’’بیشتر سیاح اس جھیل سے ناواقف ہیں‘‘ ایک عمومی تاثر ہے؛ سرکاری ریکارڈ صرف اسے نسبتاً کم دریافت شدہ مقام قرار دیتا ہے۔

شواہد اور تجزیہ

گلگت بلتستان کو عموماً ہنزہ، اسکردو اور عطاآباد جھیل جیسے مشہور سیاحتی مقامات کی وجہ سے جانا جاتا ہے، لیکن اسی خطے میں ایسے کئی مقامات بھی موجود ہیں جہاں پہنچنے کے لیے کچھ اضافی سفر اور پیدل راستہ طے کرنا پڑتا ہے۔

ضلع غذر میں واقع باہا جھیل بھی انہی مقامات میں شامل ہے۔ یہ جھیل کھوکوش لنگر جھیل کے نام سے بھی جانی جاتی ہے اور گلگت بلتستان کے سرکاری محکمۂ سیاحت کے مطابق لنگر گاؤں کے قریب، تحصیل گوپس میں واقع ہے۔ جھیل سطح سمندر سے تقریباً 3,622 میٹر یعنی 11,883 فٹ کی بلندی پر موجود ہے۔

5 کلومیٹر لمبی جھیل کہاں واقع ہے؟

باہا جھیل ضلع غذر کے کوہِ غذر کے علاقے میں واقع ہے۔ سرکاری معلومات کے مطابق اس کی لمبائی تقریباً 5 کلومیٹر جبکہ چوڑائی بعض حصوں میں تقریباً 750 میٹر تک ہے۔

جھیل بلند پہاڑوں، الپائن مناظر اور گلیشیئر سے آنے والے پانی کے راستوں کے درمیان موجود ہے، جس کی وجہ سے یہاں کا منظر عام سیاحتی مقامات سے مختلف محسوس ہوتا ہے۔

گلگت بلتستان کے محکمۂ سیاحت نے اسے شمالی پاکستان کے معروف مقامات کے مقابلے میں نسبتاً کم دریافت شدہ جگہ قرار دیا ہے۔

جھیل کا پانی نیلا کیوں دکھائی دیتا ہے؟

باہا جھیل کو گلیشیئر کے پگھلنے والے پانی اور موسمی برف سے پانی ملتا ہے۔ سرکاری معلومات کے مطابق اسی وجہ سے اس کا پانی کافی صاف دکھائی دیتا ہے۔

موسم اور سورج کی روشنی کے ساتھ جھیل کے پانی کا رنگ مختلف انداز میں نظر آسکتا ہے، جبکہ اس کے آس پاس کے پہاڑی مناظر اس کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔

یہاں ٹراؤٹ مچھلی بھی پائی جاتی ہے

باہا جھیل صرف نظاروں کے لیے ہی اہم نہیں۔ سرکاری محکمۂ سیاحت کے مطابق اس کے ٹھنڈے میٹھے پانی میں ٹراؤٹ مچھلی بھی موجود ہے۔

ماہی گیری کی صورت میں مقامی قواعد و ضوابط کی پابندی کرنا ضروری ہے تاکہ جھیل کے قدرتی ماحول کو نقصان نہ پہنچے۔

اسلام آباد سے باہا جھیل تک کیسے پہنچیں؟

اسلام آباد سے آنے والے مسافروں کے لیے پہلے گلگت پہنچنا ہوگا۔ گلگت بلتستان کے محکمۂ سیاحت کے مطابق اسلام آباد سے گلگت کا فضائی سفر تقریباً ایک گھنٹہ جبکہ سڑک کے ذریعے سفر تقریباً 14 سے 16 گھنٹے کا ہوسکتا ہے۔

گلگت سے آگے سفر گلگت-شندور روڈ کے ذریعے گوپس اور پھر لنگر گاؤں کی جانب کیا جاتا ہے۔

راستہ آسان الفاظ میں یوں سمجھا جاسکتا ہے:

اسلام آباد → گلگت → گوپس → لنگر → باہا جھیل

لنگر سے جھیل تک پیدل سفر

باہا جھیل کی خاص بات یہ ہے کہ لنگر گاؤں کے بعد گاڑی کا سفر ختم ہوجاتا ہے اور جھیل تک پہنچنے کے لیے ٹریکنگ کرنا پڑتی ہے۔

سرکاری محکمۂ سیاحت کے مطابق لنگر گاؤں سے جھیل تک پیدل راستہ عموماً دو گھنٹے لیتا ہے۔ یہ ٹریل کھڑی اور دشوار نوعیت کی ہے، اسی لیے اسے موٹر سائیکل اور سائیکل کے لیے موزوں نہیں بتایا گیا۔

محکمۂ سیاحت مناسب ٹریکنگ جوتے، کافی پانی اور ضروری سامان ساتھ رکھنے کی بھی ہدایت کرتا ہے۔

باہا جھیل کب جانا بہتر ہے؟

سرکاری معلومات کے مطابق مئی سے ستمبر تک کا عرصہ باہا جھیل کے سفر کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ اس مدت میں موسم نسبتاً بہتر رہتا ہے اور ٹریکنگ روٹس عام طور پر قابلِ رسائی ہوتے ہیں۔

سردیوں میں شدید برفباری اور انتہائی کم درجہ حرارت کے باعث یہاں پہنچنا مشکل، بلکہ بعض اوقات ناممکن بھی ہوسکتا ہے۔

کیا یہ عام فیملی ٹرپ کے لیے مناسب ہے؟

باہا جھیل تک آخری مرحلہ باقاعدہ ہائیکنگ پر مشتمل ہے، جبکہ مقام تقریباً 12 ہزار فٹ کی بلندی پر ہے۔ اس لیے اسے صرف گاڑی سے پہنچ کر فوراً واپس آنے والی تفریح نہیں سمجھنا چاہیے۔

بچوں، بزرگوں یا طویل اور دشوار پیدل سفر کے عادی نہ ہونے والے افراد کے لیے روانگی سے پہلے اپنی جسمانی صلاحیت اور راستے کی موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ سرکاری محکمۂ سیاحت بھی پہاڑی سفر میں مقامی تجربہ رکھنے والے گائیڈ یا ڈرائیور کی خدمات لینے اور موسم و سڑک کی حالت پہلے معلوم کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔

سفر پر جانے سے پہلے یہ چیزیں ساتھ رکھیں

باہا جھیل جانے والے سیاح ٹریکنگ کے لیے مناسب جوتے، گرم کپڑے، بارش سے تحفظ کا سامان، پانی، بنیادی خوراک اور ابتدائی طبی امداد کا سامان ساتھ رکھیں۔

پہاڑی علاقوں میں موسم تیزی سے بدل سکتا ہے، اس لیے صرف موسم کے عمومی اندازے پر انحصار کرنے کے بجائے سفر سے قبل تازہ صورتحال معلوم کرنا بہتر ہے۔

جھیل کی خوبصورتی برقرار رکھنا بھی ضروری ہے

باہا جھیل نسبتاً کم دریافت شدہ مقام ہے، اس لیے اس علاقے کے قدرتی ماحول کو برقرار رکھنا خاص اہمیت رکھتا ہے۔

گلگت بلتستان کا محکمۂ سیاحت سیاحوں کو کچرا نہ پھینکنے، اسے واپس اپنے ساتھ لے جانے، مقامی روایات کا احترام کرنے، نجی زمین میں اجازت کے بغیر داخل نہ ہونے اور قدرتی نباتات و جنگلی حیات کو نقصان نہ پہنچانے کی ہدایت کرتا ہے۔

غذر کے سفر میں اور کیا دیکھا جاسکتا ہے؟

باہا جھیل کے اطراف کا سفر صرف ایک مقام تک محدود نہیں۔ سرکاری سیاحتی معلومات میں شندور پاس، لنگر ویلی، پھندر ویلی، کھالتی جھیل، یاسین ویلی، گوپس ویلی اور ڈارکوٹ ویلی جیسے مقامات کو بھی قریبی سیاحتی علاقوں میں شمار کیا گیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ باہا جھیل کو غذر کے وسیع سفری منصوبے کا حصہ بنایا جاسکتا ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو معروف سیاحتی مراکز سے آگے جا کر نسبتاً پرسکون اور قدرتی مقامات دیکھنا چاہتے ہیں۔

باہا جھیل: خوبصورتی کے ساتھ ایک چھوٹا سا ایڈونچر

تقریباً 11,883 فٹ کی بلندی، 5 کلومیٹر لمبائی اور لنگر سے تقریباً دو گھنٹے کی ٹریکنگ باہا جھیل کو عام سیر سے کچھ مختلف تجربہ بناتی ہے۔ سرکاری ریکارڈ اسے غذر کے ایک نسبتاً کم دریافت شدہ قدرتی مقام کے طور پر پیش کرتا ہے۔

یہاں جانے والے سیاحوں کے لیے سب سے اہم بات صرف جھیل تک پہنچنا نہیں بلکہ موسم، راستے اور مقامی ماحول کو سمجھتے ہوئے سفر کرنا ہے۔

مستند حوالہ

Tourism Department Gilgit-Baltistan — Baha Lake

ہم نے جانچ کیسے کی؟

گلگت بلتستان کے سرکاری محکمۂ سیاحت کی Baha Lake کی dedicated webpage چیک کی گئی۔
مقام، ضلع، تحصیل اور لنگر گاؤں سے قربت کی تصدیق کی گئی۔
جھیل کی بلندی 3,622 میٹر/11,883 فٹ، لمبائی 5 کلومیٹر اور چوڑائی 750 میٹر کے سرکاری اعداد چیک کیے گئے۔
اسلام آباد سے گلگت کے فضائی اور زمینی سفر کے سرکاری دورانیے کا جائزہ لیا گیا۔
گلگت سے گوپس اور لنگر تک رسائی اور لنگر سے تقریباً دو گھنٹے کی ٹریکنگ کی تصدیق کی گئی۔
جھیل کے گلیشیئر اور موسمی برف سے fed ہونے، ٹراؤٹ مچھلی اور ماہی گیری سے متعلق سرکاری معلومات چیک کی گئیں۔
مئی سے ستمبر کے بہترین سفری عرصے کی سرکاری تصدیق کی گئی۔
’’بیشتر سیاحوں سے اوجھل‘‘ جیسے عمومی دعوے کو الگ رکھا گیا کیونکہ اس کے لیے کوئی باقاعدہ سیاحتی سروے یا اعداد و شمار دستیاب نہیں۔

ذرائع اور شواہد

  1. Tourism Department Gilgit-Baltistan — Baha Lake Official Profile ↗
  2. Tourism Department Gilgit-Baltistan — Yasin Valley / nearby attractions including Baha Lake ↗