گلگت بلتستان کو عموماً ہنزہ، اسکردو اور عطاآباد جھیل جیسے مشہور سیاحتی مقامات کی وجہ سے جانا جاتا ہے، لیکن اسی خطے میں ایسے کئی مقامات بھی موجود ہیں جہاں پہنچنے کے لیے کچھ اضافی سفر اور پیدل راستہ طے کرنا پڑتا ہے۔
ضلع غذر میں واقع باہا جھیل بھی انہی مقامات میں شامل ہے۔ یہ جھیل کھوکوش لنگر جھیل کے نام سے بھی جانی جاتی ہے اور گلگت بلتستان کے سرکاری محکمۂ سیاحت کے مطابق لنگر گاؤں کے قریب، تحصیل گوپس میں واقع ہے۔ جھیل سطح سمندر سے تقریباً 3,622 میٹر یعنی 11,883 فٹ کی بلندی پر موجود ہے۔
5 کلومیٹر لمبی جھیل کہاں واقع ہے؟
باہا جھیل ضلع غذر کے کوہِ غذر کے علاقے میں واقع ہے۔ سرکاری معلومات کے مطابق اس کی لمبائی تقریباً 5 کلومیٹر جبکہ چوڑائی بعض حصوں میں تقریباً 750 میٹر تک ہے۔
جھیل بلند پہاڑوں، الپائن مناظر اور گلیشیئر سے آنے والے پانی کے راستوں کے درمیان موجود ہے، جس کی وجہ سے یہاں کا منظر عام سیاحتی مقامات سے مختلف محسوس ہوتا ہے۔
گلگت بلتستان کے محکمۂ سیاحت نے اسے شمالی پاکستان کے معروف مقامات کے مقابلے میں نسبتاً کم دریافت شدہ جگہ قرار دیا ہے۔
جھیل کا پانی نیلا کیوں دکھائی دیتا ہے؟
باہا جھیل کو گلیشیئر کے پگھلنے والے پانی اور موسمی برف سے پانی ملتا ہے۔ سرکاری معلومات کے مطابق اسی وجہ سے اس کا پانی کافی صاف دکھائی دیتا ہے۔
موسم اور سورج کی روشنی کے ساتھ جھیل کے پانی کا رنگ مختلف انداز میں نظر آسکتا ہے، جبکہ اس کے آس پاس کے پہاڑی مناظر اس کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔
یہاں ٹراؤٹ مچھلی بھی پائی جاتی ہے
باہا جھیل صرف نظاروں کے لیے ہی اہم نہیں۔ سرکاری محکمۂ سیاحت کے مطابق اس کے ٹھنڈے میٹھے پانی میں ٹراؤٹ مچھلی بھی موجود ہے۔
ماہی گیری کی صورت میں مقامی قواعد و ضوابط کی پابندی کرنا ضروری ہے تاکہ جھیل کے قدرتی ماحول کو نقصان نہ پہنچے۔
اسلام آباد سے باہا جھیل تک کیسے پہنچیں؟
اسلام آباد سے آنے والے مسافروں کے لیے پہلے گلگت پہنچنا ہوگا۔ گلگت بلتستان کے محکمۂ سیاحت کے مطابق اسلام آباد سے گلگت کا فضائی سفر تقریباً ایک گھنٹہ جبکہ سڑک کے ذریعے سفر تقریباً 14 سے 16 گھنٹے کا ہوسکتا ہے۔
گلگت سے آگے سفر گلگت-شندور روڈ کے ذریعے گوپس اور پھر لنگر گاؤں کی جانب کیا جاتا ہے۔
راستہ آسان الفاظ میں یوں سمجھا جاسکتا ہے:
اسلام آباد → گلگت → گوپس → لنگر → باہا جھیل
لنگر سے جھیل تک پیدل سفر
باہا جھیل کی خاص بات یہ ہے کہ لنگر گاؤں کے بعد گاڑی کا سفر ختم ہوجاتا ہے اور جھیل تک پہنچنے کے لیے ٹریکنگ کرنا پڑتی ہے۔
سرکاری محکمۂ سیاحت کے مطابق لنگر گاؤں سے جھیل تک پیدل راستہ عموماً دو گھنٹے لیتا ہے۔ یہ ٹریل کھڑی اور دشوار نوعیت کی ہے، اسی لیے اسے موٹر سائیکل اور سائیکل کے لیے موزوں نہیں بتایا گیا۔
محکمۂ سیاحت مناسب ٹریکنگ جوتے، کافی پانی اور ضروری سامان ساتھ رکھنے کی بھی ہدایت کرتا ہے۔
باہا جھیل کب جانا بہتر ہے؟
سرکاری معلومات کے مطابق مئی سے ستمبر تک کا عرصہ باہا جھیل کے سفر کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ اس مدت میں موسم نسبتاً بہتر رہتا ہے اور ٹریکنگ روٹس عام طور پر قابلِ رسائی ہوتے ہیں۔
سردیوں میں شدید برفباری اور انتہائی کم درجہ حرارت کے باعث یہاں پہنچنا مشکل، بلکہ بعض اوقات ناممکن بھی ہوسکتا ہے۔
کیا یہ عام فیملی ٹرپ کے لیے مناسب ہے؟
باہا جھیل تک آخری مرحلہ باقاعدہ ہائیکنگ پر مشتمل ہے، جبکہ مقام تقریباً 12 ہزار فٹ کی بلندی پر ہے۔ اس لیے اسے صرف گاڑی سے پہنچ کر فوراً واپس آنے والی تفریح نہیں سمجھنا چاہیے۔
بچوں، بزرگوں یا طویل اور دشوار پیدل سفر کے عادی نہ ہونے والے افراد کے لیے روانگی سے پہلے اپنی جسمانی صلاحیت اور راستے کی موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ سرکاری محکمۂ سیاحت بھی پہاڑی سفر میں مقامی تجربہ رکھنے والے گائیڈ یا ڈرائیور کی خدمات لینے اور موسم و سڑک کی حالت پہلے معلوم کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔
سفر پر جانے سے پہلے یہ چیزیں ساتھ رکھیں
باہا جھیل جانے والے سیاح ٹریکنگ کے لیے مناسب جوتے، گرم کپڑے، بارش سے تحفظ کا سامان، پانی، بنیادی خوراک اور ابتدائی طبی امداد کا سامان ساتھ رکھیں۔
پہاڑی علاقوں میں موسم تیزی سے بدل سکتا ہے، اس لیے صرف موسم کے عمومی اندازے پر انحصار کرنے کے بجائے سفر سے قبل تازہ صورتحال معلوم کرنا بہتر ہے۔
جھیل کی خوبصورتی برقرار رکھنا بھی ضروری ہے
باہا جھیل نسبتاً کم دریافت شدہ مقام ہے، اس لیے اس علاقے کے قدرتی ماحول کو برقرار رکھنا خاص اہمیت رکھتا ہے۔
گلگت بلتستان کا محکمۂ سیاحت سیاحوں کو کچرا نہ پھینکنے، اسے واپس اپنے ساتھ لے جانے، مقامی روایات کا احترام کرنے، نجی زمین میں اجازت کے بغیر داخل نہ ہونے اور قدرتی نباتات و جنگلی حیات کو نقصان نہ پہنچانے کی ہدایت کرتا ہے۔
غذر کے سفر میں اور کیا دیکھا جاسکتا ہے؟
باہا جھیل کے اطراف کا سفر صرف ایک مقام تک محدود نہیں۔ سرکاری سیاحتی معلومات میں شندور پاس، لنگر ویلی، پھندر ویلی، کھالتی جھیل، یاسین ویلی، گوپس ویلی اور ڈارکوٹ ویلی جیسے مقامات کو بھی قریبی سیاحتی علاقوں میں شمار کیا گیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ باہا جھیل کو غذر کے وسیع سفری منصوبے کا حصہ بنایا جاسکتا ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو معروف سیاحتی مراکز سے آگے جا کر نسبتاً پرسکون اور قدرتی مقامات دیکھنا چاہتے ہیں۔
باہا جھیل: خوبصورتی کے ساتھ ایک چھوٹا سا ایڈونچر
تقریباً 11,883 فٹ کی بلندی، 5 کلومیٹر لمبائی اور لنگر سے تقریباً دو گھنٹے کی ٹریکنگ باہا جھیل کو عام سیر سے کچھ مختلف تجربہ بناتی ہے۔ سرکاری ریکارڈ اسے غذر کے ایک نسبتاً کم دریافت شدہ قدرتی مقام کے طور پر پیش کرتا ہے۔
یہاں جانے والے سیاحوں کے لیے سب سے اہم بات صرف جھیل تک پہنچنا نہیں بلکہ موسم، راستے اور مقامی ماحول کو سمجھتے ہوئے سفر کرنا ہے۔


