کیا آپ نے برسوں پہلے کوئی بینک اکاؤنٹ کھولا تھا اور پھر اسے استعمال کرنا بھول گئے؟ یا آپ کے والدین، کسی رشتہ دار یا خاندان کے کسی مرحوم فرد کا کوئی پرانا بینک اکاؤنٹ موجود تھا؟ اگر ایسا ہے تو یہ خبر آپ کے لیے اہم ہوسکتی ہے۔
پاکستان میں 100 ارب روپے سے زائد کے ایسے بینک ڈپازٹس موجود ہیں جنہیں ان کے مالکان نے طویل عرصے سے کلیم نہیں کیا اور یہ رقم اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس جمع کرائی جاچکی ہے۔
وزارت خزانہ کی جانب سے قومی اسمبلی میں فراہم کردہ سرکاری معلومات کے مطابق 27 اپریل 2026 تک اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس بینکوں کی جانب سے سرنڈر کیے گئے Unclaimed Deposits کی مجموعی مالیت 100.59 ارب روپے تھی۔
یعنی پاکستانی کرنسی میں یہ رقم تقریباً 100 ارب 59 کروڑ روپے بنتی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ کسی رقم کے اسٹیٹ بینک کے پاس منتقل ہوجانے کا مطلب یہ نہیں کہ رقم ختم ہوگئی۔ اگر کسی شخص کی رقم ان ڈپازٹس میں شامل ہے تو اصل اکاؤنٹ ہولڈر یا اس کے قانونی وارث مقررہ طریقہ کار کے تحت رقم واپس حاصل کرسکتے ہیں۔
اتنی بڑی رقم اسٹیٹ بینک کے پاس کیسے پہنچی؟
اسٹیٹ بینک کی معلومات کے مطابق ایسا ڈپازٹ جس میں 15 سال تک کوئی لین دین نہ ہوا ہو اور اکاؤنٹ اسٹیٹمنٹ بھی طلب یا تسلیم نہ کی گئی ہو، مقررہ شرائط پوری ہونے پر Unclaimed Deposit قرار دیا جاسکتا ہے۔
ممکن ہے کسی شخص نے برسوں پہلے بینک اکاؤنٹ کھولا ہو، اس میں کچھ رقم موجود ہو اور بعد میں اسے استعمال کرنا چھوڑ دیا ہو۔ وقت گزرنے کے ساتھ رہائش، فون نمبر یا دیگر رابطے کی معلومات تبدیل ہوگئیں یا اکاؤنٹ ہولڈر کا انتقال ہوگیا۔
ایسی صورت میں متعلقہ بینک یا مالیاتی ادارہ قانونی طریقہ کار مکمل کرنے کے بعد یہ رقم اسٹیٹ بینک کو سرنڈر کرسکتا ہے۔
یہ معاملہ صرف سیونگ یا کرنٹ اکاؤنٹس تک محدود نہیں۔ مقررہ شرائط کے تحت فکسڈ ڈپازٹس، دیگر ڈپازٹس، چیکس، ڈرافٹس اور بلز آف ایکسچینج بھی Unclaimed Deposits میں شامل ہوسکتے ہیں۔
اپنا یا خاندان کا نام کیسے چیک کریں؟
اسٹیٹ بینک نے سرنڈر کیے گئے Unclaimed Deposits کی سال وار فہرستیں عوام کے لیے دستیاب کر رکھی ہیں۔
اسٹیٹ بینک کی ویب سائٹ پر 2003 سے 2025 تک کے سالانہ ریکارڈز موجود ہیں، جن میں مختلف بینکوں کے سرنڈر کیے گئے Unclaimed Deposits کی تفصیلات دیکھی جاسکتی ہیں۔
اگر آپ نے کبھی کوئی پرانا بینک اکاؤنٹ استعمال کرنا چھوڑا تھا، کوئی فکسڈ ڈپازٹ بھول گئے تھے یا خاندان کے کسی مرحوم فرد کے اکاؤنٹ کے بارے میں معلومات موجود ہیں تو ان سرکاری فہرستوں کو ضرور چیک کیا جاسکتا ہے۔
57 ارب روپے اور ایک کروڑ 14 لاکھ اکاؤنٹس کا دعویٰ
Unclaimed Deposits کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک دعویٰ بھی گردش کررہا ہے جس کے مطابق 2015 سے 2025 کے دوران پاکستانی بینکوں نے 57 ارب 18 کروڑ روپے سے زائد رقم تقریباً ایک کروڑ 14 لاکھ اکاؤنٹس سے اسٹیٹ بینک کے حوالے کی۔
تاہم اس دعوے کے حوالے سے احتیاط ضروری ہے۔

اسٹیٹ بینک کی ویب سائٹ پر 2015 سے 2025 تک مختلف سالوں کی بینک وار Unclaimed Deposits فہرستیں موجود ہیں، تاہم 57.18 ارب روپے اور 1 کروڑ 14 لاکھ اکاؤنٹس کا یہی مجموعی عدد کسی ایک سرکاری SBP summary میں دستیاب نہیں ملا۔
اس لیے اس مخصوص رقم اور اکاؤنٹس کی تعداد کو براہ راست ’’اسٹیٹ بینک کے مطابق‘‘ کہنا درست نہیں ہوگا۔
اس کے مقابلے میں 100.59 ارب روپے کا عدد وزارت خزانہ کی جانب سے قومی اسمبلی میں فراہم کردہ سرکاری معلومات پر مبنی ہے، جس کے مطابق 27 اپریل 2026 تک اتنی رقم SBP کے پاس سرنڈر کیے گئے Unclaimed Deposits کی مد میں موجود تھی۔
کیا بینک رقم اسٹیٹ بینک کو منتقل کرنے سے پہلے اطلاع دیتا ہے؟
Unclaimed Deposits سے متعلق قانونی طریقہ کار میں اکاؤنٹ یا انسٹرومنٹ ہولڈر کو اطلاع دینے کا طریقہ بھی موجود ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ریگولیٹری فریم ورک کے مطابق متعلقہ بینک کو Unclaimed Deposit سرنڈر کرنے سے پہلے اکاؤنٹ یا انسٹرومنٹ ہولڈر کے آخری معلوم پتے پر رجسٹرڈ ڈاک کے ذریعے تین ماہ کا تحریری نوٹس بھیجنا ہوتا ہے۔
تاہم اگر کسی شخص نے کئی سال قبل اپنا گھر تبدیل کرلیا ہو اور بینک کے ریکارڈ میں پرانا پتہ موجود ہو تو ممکن ہے یہ اطلاع اس تک نہ پہنچ سکے۔
اسی لیے پرانے بینک اکاؤنٹس اور ڈپازٹس کا ریکارڈ خود چیک کرنا اہم ہوسکتا ہے۔
رقم واپس کیسے حاصل کی جاسکتی ہے؟
اگر اسٹیٹ بینک کی فہرست میں آپ کو اپنا یا کسی مرحوم عزیز کا متعلقہ ڈپازٹ مل جائے تو رقم واپس لینے کا طریقہ موجود ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق دعوے دار کو براہ راست اسٹیٹ بینک سے رابطہ کرنے کے بجائے اس بینک کی برانچ سے رابطہ کرنا چاہیے جہاں اکاؤنٹ کھولا گیا تھا یا متعلقہ انسٹرومنٹ قابل ادائیگی تھا۔
اگر وہ برانچ بند یا منتقل ہوچکی ہے تو اسی بینک کی قریبی برانچ سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ اگر متعلقہ بینک کسی دوسرے بینک میں ضم ہوچکا ہے تو Acquiring Bank کی قریبی برانچ کے ذریعے کلیم شروع کیا جاسکتا ہے۔
دعوے دار کو درخواست، اکاؤنٹ کی تفصیلات، درست شناختی کارڈ اور دیگر مطلوبہ دستاویزات فراہم کرنا ہوتی ہیں۔
بینک دستاویزات اور دعوے کی تصدیق کے بعد کیس اسٹیٹ بینک کو بھیجتا ہے۔ ضروری کارروائی مکمل ہونے کے بعد اسٹیٹ بینک رقم متعلقہ بینک یا مالیاتی ادارے کو واپس کرتا ہے، جہاں سے رقم دعوے دار کو ادا یا اس کے اکاؤنٹ میں منتقل کی جاتی ہے۔
والدین یا کسی مرحوم رشتہ دار کی رقم ہو تو؟
اگر اکاؤنٹ ہولڈر کا انتقال ہوچکا ہو تو قانونی وارث بھی Unclaimed Deposit کی رقم واپس لینے کے لیے کلیم کرسکتے ہیں۔
عام طور پر مرحوم اکاؤنٹ ہولڈر کے کلیم کے لیے Succession Certificate درکار ہوتا ہے۔
تاہم اسٹیٹ بینک نے ایک لاکھ روپے تک کے بعض مرحوم افراد کے Unclaimed Deposit Claims کے لیے مخصوص شرائط کے تحت قانونی وارثوں کو Succession Certificate کے بغیر کلیم کرنے کی سہولت بھی دی ہے۔
اس صورت میں قانونی وارثوں کی درخواستیں، شناختی کارڈز، ڈیتھ سرٹیفکیٹ اور دیگر مقررہ دستاویزات یا Indemnity requirements پوری کرنا ہوتی ہیں۔
اگر آپ کا بھی کوئی پرانا اکاؤنٹ ہے تو کیا کریں؟
اگر آپ نے کبھی کوئی بینک اکاؤنٹ استعمال کرنا چھوڑ دیا تھا، کوئی فکسڈ ڈپازٹ بھول گئے تھے یا خاندان کے کسی مرحوم فرد کے پرانے بینک اکاؤنٹ کے بارے میں معلومات رکھتے ہیں تو اسٹیٹ بینک کی سال وار Unclaimed Deposits فہرستیں چیک کریں۔
اگر متعلقہ ریکارڈ مل جائے تو اسی بینک سے رابطہ کرکے رقم کی واپسی کا کلیم شروع کیا جاسکتا ہے۔
ممکن ہے برسوں پہلے بھولی ہوئی کوئی رقم آج بھی سرکاری ریکارڈ میں موجود ہو اور قانونی طریقہ کار مکمل کرنے کے بعد آپ یا آپ کے خاندان کو واپس مل سکتی ہو۔


