امراض قلب، فالج اور ٹائپ 2 ذیابیطس سمیت کئی میٹابولک بیماریوں سے بچاؤ میں روزمرہ غذا اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
ایک نئی تحقیق میں دالوں، چنے، مٹر، بیجوں اور دیگر غذاؤں کے استعمال اور کارڈیو میٹابولک صحت کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا ہے۔
جرنل Current Developments in Nutrition میں شائع تحقیق میں تقریباً 46 ہزار افراد کے غذائی ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ یہ معلومات 1999 سے 2018 کے دوران کیے گئے غذائی سروے سے حاصل کی گئی تھیں۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق دالوں اور بیجوں کا زیادہ استعمال کارڈیو میٹابولک بیماریوں کے کم خطرے سے منسلک پایا گیا۔ ان بیماریوں میں امراض قلب، فالج اور ٹائپ 2 ذیابیطس جیسی بیماریاں شامل ہیں۔
محققین کے مطابق روزمرہ غذا میں دالوں یا بیجوں کی مقدار بڑھانے سے کارڈیو میٹابولک بیماریوں کے خطرے میں کمی دیکھی گئی۔ تاہم تحقیق سے تعلق سامنے آتا ہے اور اسے کسی بیماری کے براہ راست علاج کا ثبوت نہیں سمجھا جاسکتا۔
اس سے قبل مئی 2026 میں BMJ Nutrition, Prevention & Health میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بھی بیجوں، دالوں اور سویا کے استعمال اور ہائی بلڈ پریشر کے خطرے کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا تھا۔
اس تحقیق میں ماضی کی متعدد تحقیقی رپورٹس اور مطالعات کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، جس میں مجموعی طور پر 88 ہزار سے زائد افراد شامل تھے۔
محققین نے پایا کہ دالوں اور بیجوں کا زیادہ استعمال ہائی بلڈ پریشر کے کم خطرے سے منسلک تھا، جبکہ سویا کے استعمال کے ساتھ بھی بلڈ پریشر کے خطرے میں کمی دیکھی گئی۔
ماہرین کے مطابق دالیں، چنے، مٹر، بیج اور سویا پوٹاشیم، میگنیشیم اور غذائی فائبر جیسے اہم غذائی اجزا فراہم کرتے ہیں۔ یہ اجزا متوازن غذا کا حصہ بن کر بلڈ پریشر اور مجموعی میٹابولک صحت برقرار رکھنے میں مدد کرسکتے ہیں۔
ہائی بلڈ پریشر کو اکثر خاموش بیماری کہا جاتا ہے کیونکہ بہت سے افراد کو بلڈ پریشر بڑھنے کا علم اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک باقاعدہ معائنہ نہ کیا جائے۔ اسی لیے صحت مند غذا کے ساتھ بلڈ پریشر کی باقاعدہ جانچ بھی اہم ہے۔
محققین کے مطابق روزمرہ خوراک میں دالوں، چنے، بیج اور سویا جیسی غذاؤں کو شامل کرنا صحت مند طرز زندگی کا حصہ ہوسکتا ہے، تاہم صرف ایک غذا پر انحصار کرنے کے بجائے مجموعی خوراک، جسمانی سرگرمی، وزن اور دیگر عوامل پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔






