دنیا کے مختلف حصوں میں 50 سال سے کم عمر افراد میں بعض اقسام کے کینسر کے کیسز میں اضافے نے ماہرین کی توجہ حاصل کرلی ہے۔ نئی تحقیق میں کم عمر افراد میں کینسر کے بڑھتے خطرے سے متعلق ممکنہ عوامل کا جائزہ لیا گیا ہے۔
ورلڈ کینسر ریسرچ فنڈ سے منسلک تحقیق میں برطانیہ، امریکا اور نیدرلینڈز کے کینسر ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے مطابق ان ممالک میں کم عمر افراد میں کینسر کی بعض اقسام کے کیسز میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
تحقیق میں مثانے، آنتوں، گردے، چھاتی، معدے اور رحم کے کینسر سمیت مختلف اقسام کے کیسز میں اضافے کی نشاندہی کی گئی۔ تاہم ہر قسم کے کینسر میں اضافے کی شرح ایک جیسی نہیں اور اس کے اسباب بھی مختلف ہوسکتے ہیں۔
محققین کے مطابق موٹاپے میں اضافہ، غیر متوازن غذا، جسمانی سرگرمی کی کمی اور ورزش سے دوری ایسے عوامل ہیں جو بعض اقسام کے کینسر کے خطرے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔
اس کے علاوہ تمباکو نوشی، الکحل کا استعمال اور ماحولیاتی عوامل بھی کینسر کے خطرے سے منسلک کیے جاتے ہیں۔ فضائی آلودگی اور بعض کیمیائی مادوں سے طویل عرصے تک واسطہ بھی صحت کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔
محققین نے اس بات پر زور دیا کہ کم عمر افراد میں کینسر اب بھی بڑی عمر کے افراد کے مقابلے میں کم عام ہے، تاہم بعض اقسام کے کیسز میں جس رفتار سے اضافہ دیکھا جارہا ہے وہ تشویش کا باعث ہے۔
ماہرین کے مطابق کینسر کے خطرے کو کم کرنے کے لیے صحت مند وزن برقرار رکھنا، متوازن غذا استعمال کرنا، جسمانی سرگرمی معمول بنانا اور تمباکو نوشی سے گریز کرنا اہم اقدامات ہیں۔
کینسر کی کئی اقسام میں ابتدائی تشخیص علاج کے امکانات بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ اسی لیے جسم میں غیر معمولی تبدیلیوں یا مستقل علامات کو نظر انداز کرنے کے بجائے بروقت طبی معائنہ کرانا ضروری ہے۔
محققین کے مطابق کم عمر افراد میں کینسر کے بڑھتے رجحان کی تمام وجوہات ابھی مکمل طور پر واضح نہیں ہیں۔ جینیاتی عوامل کے ساتھ طرز زندگی اور ماحولیاتی تبدیلیوں سمیت متعدد عوامل اس رجحان میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔






