بچپن میں خاندان کے مالی اور سماجی حالات کا اثر صرف اس دور تک محدود نہیں رہتا بلکہ صحت پر کئی دہائیوں بعد بھی نظر آسکتا ہے۔
ایک نئی تحقیق میں محققین نے بچپن کے کم سماجی و معاشی حالات اور بعد کی زندگی میں دل کی شریانوں میں ایتھروسکلروسس کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا ہے۔
15 ہزار سے زائد افراد کا ڈیٹا دیکھا گیا
سویڈن کے کیرولِنسکا انسٹیٹیوٹ کی تحقیق میں آبادی پر مبنی SCAPIS مطالعے کے 15 ہزار 640 افراد کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔ ان افراد کی عمریں 50 سے 64 سال کے درمیان تھیں۔
محققین نے شرکا کے بچپن، خاص طور پر 10 سے 12 سال کی عمر کے دوران خاندان کی آمدنی سے متعلق معلومات کو بعد کی زندگی میں کیے گئے دل کی شریانوں کے سی ٹی اسکین کے نتائج سے ملایا۔
کم آمدنی والے خاندانوں سے تعلق کا کیا نتیجہ نکلا؟
تحقیق میں کم آمدنی والے خاندانوں میں پرورش پانے والے افراد میں دل کی شریانوں میں درمیانے سے شدید درجے کے ایتھروسکلروسس کے شواہد زیادہ دیکھے گئے۔
عمر، جنس اور دیگر عوامل کو مدنظر رکھنے کے بعد کم آمدنی والے خاندانوں سے تعلق رکھنے والے افراد میں اس بیماری کے امکانات 43 فیصد زیادہ پائے گئے۔ جب طرز زندگی، جوانی کے سماجی و معاشی حالات اور دیگر معلوم خطرے کے عوامل کو بھی تجزیے میں شامل کیا گیا تو یہ فرق 31 فیصد برقرار رہا۔
بچپن کے حالات کئی دہائیوں بعد کیوں اہم ہوسکتے ہیں؟
ایتھروسکلروسس ایک ایسی کیفیت ہے جس میں شریانوں کی دیواروں میں چربی، کولیسٹرول اور دیگر مادے جمع ہوکر پلاک بنا سکتے ہیں۔ وقت کے ساتھ یہ عمل دل کی بیماری سمیت مختلف قلبی مسائل کے خطرے میں حصہ ڈال سکتا ہے۔
محققین کے نتائج اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ بچپن میں موجود سماجی و معاشی حالات اور مواقع کا فرق صحت کے طویل مدتی نتائج سے منسلک ہوسکتا ہے۔
تاہم تحقیق میں کسی ایک خاندان کی کم آمدنی کو دل کی بیماری کی براہ راست وجہ قرار نہیں دیا گیا۔ صحت پر جینیاتی عوامل، خوراک، جسمانی سرگرمی، تمباکو نوشی، بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور دیگر عوامل بھی اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
صحت کے لیے اہم پیغام
تحقیق کا اہم پہلو یہ ہے کہ دل کی صحت کے حوالے سے بچپن کے ماحول کو بھی وسیع تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ بہتر غذائیت، جسمانی سرگرمی، صحت کی سہولیات تک رسائی اور مجموعی سماجی حالات طویل مدت میں صحت کے نتائج سے جڑے ہوسکتے ہیں۔
اس لیے دل کی بیماری کے خطرے کو کم کرنے کے لیے صرف بالغ عمر کی عادات نہیں بلکہ زندگی کے ابتدائی حالات کو بھی صحت عامہ کی پالیسیوں میں اہمیت دینا ضروری ہوسکتا ہے۔






