تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
صحت

روزمرہ کی پسندیدہ غذا، گردوں کیلئے خطرناک! جانیں کون سی خوراک نقصان پہنچا سکتی ہے

گردوں کی صحت

موجودہ دور میں فاسٹ فوڈ، بیکری آئٹمز اور پیک شدہ کھانے لوگوں کی روزمرہ خوراک کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔

تاہم ایک نئی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ الٹرا پراسیس غذاؤں کا زیادہ استعمال گردوں کی صحت کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ ایسی غذائیں گردوں کے دائمی امراض کے خطرے میں نمایاں اضافہ کرسکتی ہیں۔

گردے انسانی جسم کے لیے انتہائی اہم عضو ہیں۔ یہ خون کو فلٹر کرتے ہیں اور جسم سے زہریلے مادوں اور اضافی سیال کو خارج کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ گردے سوڈیم، پوٹاشیم اور دیگر اہم اجزا کا توازن برقرار رکھتے ہیں۔ یہ ایسے ہارمونز بھی بناتے ہیں جو بلڈ پریشر اور ہڈیوں کی صحت سمیت کئی جسمانی کاموں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً ہر 10 میں سے ایک شخص گردوں کے دائمی مرض کا سامنا کر رہا ہے۔ جب گردے مناسب طریقے سے کام نہ کریں تو جسم میں اضافی سیال اور دیگر فاضل مادے جمع ہونا شروع ہوسکتے ہیں۔ اس سے صحت کے مزید مسائل پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

الٹرا پراسیس غذائیں کیا ہیں؟

الٹرا پراسیس غذائیں وہ کھانے ہیں جو تیاری کے دوران کئی مراحل سے گزرتے ہیں۔ ان میں اکثر نمک، چینی اور مختلف مصنوعی اجزا کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے مقابلے میں فائبر اور دیگر مفید غذائی اجزا کم مقدار میں پائے جاتے ہیں۔

ان غذاؤں میں ڈبل روٹی، فاسٹ فوڈ، کیک، مٹھائیاں، ٹافیاں، نمکین اشیا، ناشتے کے سیریلز، چکن اور فش نگٹس، انسٹنٹ نوڈلز، میٹھے مشروبات اور سوڈا شامل ہیں۔ یہ غذائیں پہلے ہی دل کے امراض اور بعض دیگر دائمی بیماریوں کے خطرے سے منسلک کی جاتی رہی ہیں۔

تحقیق میں کیا سامنے آیا؟

کلینیکل جرنل آف امریکن سوسائٹی آف نیفرولوجی میں شائع ہونے والی تحقیق میں 2 ہزار 661 معمر افراد کو شامل کیا گیا۔ محققین نے ان افراد کی غذائی عادات کا جائزہ لیا۔ اس کے لیے مختلف سرویز سے معلومات حاصل کی گئیں۔ اس کے بعد تقریباً سات سال تک ان کی صحت پر نظر رکھی گئی۔

تحقیق کے نتائج میں معلوم ہوا کہ جو افراد الٹرا پراسیس غذاؤں کا زیادہ استعمال کرتے تھے، ان میں گردوں کے دائمی امراض کا خطرہ 26 سے 37 فیصد تک زیادہ تھا۔ یعنی ایسی غذاؤں کا زیادہ استعمال گردوں کی صحت کے لیے ایک اہم خطرے سے جڑا ہوا دیکھا گیا۔

تحقیق میں اس کے برعکس ایک مثبت پہلو بھی سامنے آیا۔ پھلوں اور سبزیوں پر مشتمل خوراک زیادہ استعمال کرنے والے افراد میں گردوں کے دائمی امراض کا خطرہ کم دیکھا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ روزمرہ خوراک میں قدرتی اور کم پراسیس شدہ غذاؤں کو زیادہ جگہ دینا گردوں کی صحت کے لیے بہتر ہوسکتا ہے۔

ماہرین کی جانب سے عام طور پر متوازن خوراک اپنانے، پھلوں اور سبزیوں کو غذا کا حصہ بنانے اور انتہائی پراسیس شدہ کھانوں کا استعمال کم رکھنے پر زور دیا جاتا ہے۔ خاص طور پر وہ افراد جو اپنی خوراک میں فاسٹ فوڈ، میٹھے مشروبات اور پیک شدہ اشیا کا زیادہ استعمال کرتے ہیں، انہیں اپنی غذائی عادات پر توجہ دینی چاہیے۔