تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
صحت

وہی ہوا جس کا ڈر تھا!!! کورونا کا نیا وائرس تیزی سے پھیلنے لگا

برطانیہ میں کووڈ 19 کے کیسز میں اضافے کے بعد محکمہ صحت نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

 حالیہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کورونا وائرس کے کیسز کے ساتھ اسپتالوں میں داخل ہونے والے مریضوں کی تعداد بھی بڑھی ہے۔ اس صورتحال کے باعث پہلے ہی دباؤ کا شکار نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) پر مزید بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے۔

برطانوی ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی (یو کے ایچ ایس اے) کے اعداد و شمار کے مطابق اگست میں کووڈ کے 1,374 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ ستمبر میں یہ تعداد بڑھ کر 4,589 ہوگئی۔ اسی عرصے میں کووڈ کے باعث اسپتالوں میں داخل ہونے والے مریضوں کی تعداد بھی 950 سے بڑھ کر 4,939 تک پہنچ گئی۔ یہ اضافہ تقریباً 420 فیصد بنتا ہے۔

ایکس ایف جی ویرینٹ کیا ہے؟

حالیہ اضافے کے دوران ایکس ایف جی (XFG) ویرینٹ بھی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اسے اسٹریٹس (Stratus) بھی کہا جاتا ہے، جبکہ بعض میڈیا رپورٹس میں اسے امریکن کووڈ کا نام دیا گیا ہے۔ برطانوی حکام کے مطابق یہ کوئی بالکل نیا ویرینٹ نہیں ہے بلکہ تقریباً ایک سال سے برطانیہ اور دیگر ممالک میں موجود ہے۔

یو کے ایچ ایس اے کے مطابق ستمبر میں اسپتالوں میں کووڈ کے مثبت ٹیسٹوں میں نصف سے زیادہ کا تعلق ایکس ایف جی ویرینٹ سے تھا۔ اس کے باوجود اب تک دستیاب شواہد سے یہ ثابت نہیں ہوا کہ یہ ویرینٹ دیگر گردش کرنے والے ویرینٹس کے مقابلے میں زیادہ شدید بیماری پیدا کرتا ہے۔ حکام اس کے پھیلاؤ اور مریضوں کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

شہریوں کو کن احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا چاہیے؟

محکمہ صحت کی ہدایات کے مطابق شہریوں کو کورونا کی علامات ظاہر ہونے پر احتیاط کرنی چاہیے۔ اگر کسی شخص کو کھانسی، بخار، گلے میں درد یا دیگر علامات ہوں تو اسے دوسروں سے قریبی رابطہ کم کرنا چاہیے۔ اگر علامات کے باوجود باہر جانا ضروری ہو تو فیس ماسک استعمال کرنا دوسروں تک وائرس کی منتقلی کا خطرہ کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

خاص طور پر بزرگ افراد اور پہلے سے کسی بیماری میں مبتلا لوگوں کے ساتھ میل جول کے دوران احتیاط ضروری ہے۔ ہاتھوں کی صفائی کا خیال رکھنا اور بند جگہوں میں ہوا کی آمدورفت بہتر بنانا بھی مفید اقدامات ہیں۔

این ایچ ایس پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ

کووڈ کے مریضوں کی تعداد میں اضافے سے برطانیہ کے صحت کے نظام پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اسپتالوں میں داخلوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث مریضوں کی دیکھ بھال اور بستروں کی دستیابی اہم مسئلہ بن سکتی ہے۔ تاہم صرف کیسز بڑھنے کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ وائرس پہلے سے زیادہ خطرناک ہوگیا ہے۔