تنہائی اور سماجی طور پر الگ تھلگ رہنے کے اثرات انسان کی جسمانی اور ذہنی صحت پر پڑ سکتے ہیں، جبکہ نئی طبی تحقیق میں اس کیفیت کو بیماریوں سے محفوظ زندگی کے کئی سال کم ہونے سے منسلک کیا گیا ہے۔
امریکا کی Tulane یونیورسٹی سے وابستہ محققین کی تحقیق میں 2 لاکھ 77 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ تنہائی اور سماجی علیحدگی کا سامنا کرنے والے افراد کی زندگی میں بیماریوں سے محفوظ رہنے والے برسوں کی تعداد کس حد تک متاثر ہوتی ہے۔
تحقیق کے نتائج میں مردوں اور خواتین دونوں میں منفی اثرات سامنے آئے، تاہم ان کی نوعیت اور شدت میں فرق دیکھا گیا۔
مردوں اور خواتین پر کیا اثرات مرتب ہوئے؟
تحقیق کے مطابق سماجی علیحدگی اور تنہائی کا سامنا کرنے والے مردوں میں جسمانی بیماریوں سے محفوظ زندگی کے برسوں میں تقریباً 1.7 سال اور ذہنی بیماریوں سے محفوظ برسوں میں 5.8 سال کی کمی سے تعلق سامنے آیا۔
خواتین میں جسمانی بیماریوں سے محفوظ برسوں میں 2.4 سال جبکہ ذہنی بیماریوں سے محفوظ برسوں میں 3.7 سال کی کمی دیکھی گئی۔
محققین کے مطابق تنہائی اور سماجی علیحدگی ڈپریشن، انزائٹی اور جسمانی صحت کے مسائل سے تعلق رکھ سکتی ہیں۔ ذہنی صحت اور جسمانی صحت ایک دوسرے سے جڑی ہوتی ہیں، جبکہ ورم، بلڈ پریشر اور میٹابولزم جیسے حیاتیاتی عوامل بھی مجموعی صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
تاہم تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ تنہائی براہ راست دائمی بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔ نتائج سماجی روابط اور صحت کے درمیان تعلق کی نشاندہی کرتے ہیں، نہ کہ ہر فرد کے لیے کسی مخصوص مدت کی کمی کی ضمانت دیتے ہیں۔
صحت مند طرز زندگی کتنا مددگار ہے؟
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ صحت مند طرز زندگی سماجی طور پر الگ تھلگ رہنے کے بعض منفی اثرات کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ تاہم صرف صحت مند عادات اختیار کرنا تنہائی کے تمام ممکنہ اثرات سے تحفظ کی ضمانت نہیں۔
اس سے قبل نومبر 2023 میں اسکاٹ لینڈ کی گلاسگو یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بھی سماجی روابط اور اموات کے خطرے کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا تھا۔ اس تحقیق میں ساڑھے چار لاکھ سے زائد افراد کے طبی ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، جن کی اوسط عمر 57 سال تھی اور صحت کا جائزہ تقریباً 12.6 سال تک لیا گیا۔
نتائج میں دوستوں اور رشتے داروں سے ملاقات نہ کرنے، تنہا رہنے اور سماجی علیحدگی کی دیگر صورتوں کو جلد موت کے زیادہ خطرے سے منسلک پایا گیا۔ تحقیق کے مطابق دوستوں اور رشتے داروں سے دوری اختیار کرنے والے افراد میں دل کی شریانوں کے امراض سے موت کا خطرہ 53 فیصد جبکہ کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ 39 فیصد زیادہ تھا۔ تنہا رہنے والے افراد میں امراض قلب سے موت کا خطرہ 48 فیصد زیادہ دیکھا گیا۔
مجموعی طور پر یہ نتائج اس بات کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں کہ دوستوں، رشتے داروں اور دوسرے لوگوں سے رابطہ برقرار رکھنا صحت مند زندگی کا ایک اہم حصہ ہو سکتا ہے۔
تازہ تحقیق کے نتائج سائنسی جریدے Nature Communications میں شائع ہوئے۔






