تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
صحت

کیا آپ بھی روزانہ 5 گھنٹے سے کم سوتے ہیں؟ ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجادی

روزانہ 5 گھنٹے سے کم سونے کی عادت صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ نیند کی کمی سے دل کی بیماریوں، ذیابیطس، موٹاپے، یادداشت کی کمزوری اور ٹریفک حادثات کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

نیند انسانی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ جسم کو آرام دینے کے ساتھ دماغ کو بھی بہتر طریقے سے کام کرنے میں مدد دیتی ہے۔ مناسب نیند پوری ہونے سے انسان دن بھر چاق و چوبند رہتا ہے۔ اس کے برعکس نیند کی کمی جسمانی اور ذہنی صحت کو متاثر کرسکتی ہے۔

موجودہ دور میں موبائل فون، اسمارٹ ڈیوائسز اور رات گئے تک جاگنے کی عادت کے باعث بہت سے افراد اپنی نیند پوری نہیں کر پاتے۔ کچھ لوگ کام کی مصروفیات کی وجہ سے بھی کم سوتے ہیں۔ اگر روزانہ 5 گھنٹے سے کم سونا معمول بن جائے تو اس کے صحت پر مختلف منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

نیند کی کمی سے قوت مدافعت متاثر ہوتی ہے

مناسب نیند جسم کے مدافعتی نظام کو بہتر طریقے سے کام کرنے میں مدد دیتی ہے۔ جب کوئی شخص مسلسل کم سوتا ہے تو جسم کی بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے۔ اس وجہ سے نزلہ، زکام اور دیگر انفیکشن کا سامنا کرنے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ اچھی نیند جسم کو صحت مند رکھنے اور بیماریوں سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

دل کی صحت کے لیے بھی خطرہ

نیند کی کمی دل کی صحت پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ روزانہ 5 گھنٹے سے کم سونے والے افراد میں دل کی بیماریوں اور فالج کا خطرہ بڑھنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ نیند کا دورانیہ بہت زیادہ ہونا بھی بعض صحت کے مسائل سے تعلق رکھتا ہے۔ اس لیے صرف نیند کے گھنٹے نہیں بلکہ اس کا معیار بھی اہم ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق بالغ افراد کو اپنی عمر اور جسمانی ضرورت کے مطابق مناسب نیند لینی چاہیے۔ نیند کا باقاعدہ معمول دل سمیت جسم کے مختلف حصوں کی صحت برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

کینسر کے خطرے سے متعلق تشویش

بعض طبی تحقیقات میں نیند کے مسائل اور کینسر کی کچھ اقسام کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ان میں چھاتی، آنتوں اور مثانے کے کینسر کا ذکر بھی کیا جاتا ہے۔ تاہم صرف کم نیند کو ان بیماریوں کی براہ راست وجہ قرار دینا درست نہیں۔ کینسر کے خطرے پر کئی عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔ مناسب نیند مجموعی صحت کے لیے ضروری ہے، لیکن اسے کینسر سے مکمل بچاؤ کی ضمانت نہیں سمجھنا چاہیے۔

دماغی کارکردگی اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت متاثر

نیند کی کمی کا اثر دماغ پر بھی پڑتا ہے۔ اگر کوئی شخص ایک رات بھی اچھی نیند نہ لے تو اگلے دن اس کی توجہ اور سوچنے کی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے۔ ایسے افراد کے لیے مشکل کام کرنا، مسائل حل کرنا اور درست فیصلے کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔

مسلسل کم نیند لینے سے روزمرہ کے کاموں پر توجہ مرکوز رکھنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ انسان کو کام کے دوران تھکن محسوس ہوسکتی ہے اور اس کی کارکردگی میں کمی آسکتی ہے۔ اسی لیے پڑھائی، ملازمت اور دیگر ذہنی کاموں کے لیے مناسب نیند ضروری ہے۔

یادداشت کمزور ہونے کا خدشہ

نیند دماغ کو نئی معلومات محفوظ کرنے اور یادداشت کو منظم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ جب نیند پوری نہ ہو تو نئی باتیں سیکھنے اور انہیں یاد رکھنے کی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے۔ بعض افراد کو روزمرہ کی باتیں بھولنے یا کسی کام پر توجہ برقرار رکھنے میں بھی مشکل پیش آتی ہے۔

اگر کوئی شخص مسلسل نیند کی کمی کا شکار رہے تو اس کی ذہنی کارکردگی متاثر ہوسکتی ہے۔ اس لیے طلبہ اور ایسے افراد کے لیے نیند خاص اہمیت رکھتی ہے جن کے کام میں یادداشت اور توجہ کا زیادہ استعمال ہوتا ہے۔

کم نیند سے وزن بڑھ سکتا ہے

روزانہ کم سونے کی عادت جسمانی وزن میں اضافے سے بھی تعلق رکھتی ہے۔ ایک تحقیق میں 21 ہزار سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا، جس میں نیند کے دورانیے اور وزن کے درمیان تعلق کا مطالعہ کیا گیا۔ تین سال تک جاری رہنے والی اس تحقیق کے نتائج میں کم نیند لینے والے افراد میں وزن بڑھنے کا رجحان دیکھا گیا۔

نیند کی کمی بھوک اور جسم میں توانائی کے استعمال سے متعلق نظام کو متاثر کرسکتی ہے۔ اس کے باعث کچھ افراد زیادہ کھانا کھانے لگتے ہیں اور جسمانی سرگرمی بھی کم ہوسکتی ہے۔ مناسب نیند، متوازن غذا اور باقاعدہ ورزش وزن کو صحت مند سطح پر رکھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔

ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ بڑھ سکتا ہے

کم نیند اور ذیابیطس کے درمیان تعلق بھی طبی تحقیقات میں سامنے آیا ہے۔ چھ گھنٹے سے کم سونے والے افراد میں انسولین کی مزاحمت بڑھنے کا خدشہ ہوسکتا ہے۔ اس کیفیت میں جسم انسولین کو مؤثر انداز میں استعمال نہیں کر پاتا۔ نتیجتاً خون میں شوگر کی سطح کو قابو میں رکھنا مشکل ہوسکتا ہے اور ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

اگرچہ نیند کی کمی اکیلے ذیابیطس کی وجہ نہیں بنتی، لیکن مناسب نیند مجموعی صحت بہتر رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ صحت مند غذا، ورزش اور وزن پر قابو پانا بھی اس بیماری کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

نیند پوری نہ ہو تو ٹریفک حادثات کا خطرہ

نیند کی کمی صرف صحت ہی نہیں بلکہ روزمرہ کی حفاظت کو بھی متاثر کرتی ہے۔ کم سونے سے ڈرائیونگ کے دوران توجہ میں کمی، ردعمل میں تاخیر اور اونگھ آنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اس وجہ سے سڑک پر حادثہ پیش آنے کا خطرہ زیادہ ہوسکتا ہے۔

کچھ مطالعات میں چھ گھنٹے سے کم سونے والے افراد میں ٹریفک حادثات کا خطرہ زیادہ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اگر کوئی شخص بہت تھکا ہوا ہو یا اسے نیند آرہی ہو تو اسے گاڑی چلانے سے گریز کرنا چاہیے۔ سفر سے پہلے مناسب آرام کرنا اپنی اور دوسروں کی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔

جلد پر بھی نیند کی کمی کے اثرات

نیند پوری نہ ہونے سے چہرے کی تازگی متاثر ہوسکتی ہے۔ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے، تھکاوٹ کے آثار اور جلد کی بے رونقی زیادہ نمایاں ہوسکتی ہے۔ بعض تحقیقات میں نیند کے مسائل اور جلد پر بڑھتی عمر کے آثار کے درمیان تعلق بھی دیکھا گیا ہے۔

مسلسل کم نیند لینے سے جلد کی قدرتی بحالی کا عمل متاثر ہوسکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جھریاں زیادہ نمایاں ہونے اور جلد کی لچک میں کمی کے خدشات پیدا ہوسکتے ہیں۔ مناسب نیند، متوازن غذا اور جلد کی دیکھ بھال صحت مند ظاہری شکل برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔

روزانہ کتنے گھنٹے سونا ضروری ہے؟

بالغ افراد کے لیے عام طور پر روزانہ 7 سے 9 گھنٹے کی نیند مناسب سمجھی جاتی ہے۔ ہر شخص کی ضرورت مختلف ہوسکتی ہے، لیکن مسلسل 5 گھنٹے سے کم سونا صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

نیند بہتر بنانے کے لیے روزانہ ایک مقررہ وقت پر سونے اور جاگنے کی عادت اپنائیں۔ سونے سے پہلے موبائل فون اور دیگر اسکرینز کا استعمال کم کریں۔ رات کے وقت کیفین والے مشروبات سے گریز کریں اور سونے کے لیے پرسکون ماحول بنائیں۔

اگر مناسب وقت سونے کے باوجود مسلسل تھکن رہتی ہے، نیند بار بار ٹوٹتی ہے یا دن کے وقت شدید غنودگی محسوس ہوتی ہے تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔ اچھی نیند صحت مند زندگی کا اہم حصہ ہے اور اس کی کمی کو معمولی مسئلہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔