پستے نہ صرف ذائقے میں مزیدار ہوتے ہیں بلکہ ان میں کئی اہم غذائی اجزا بھی پائے جاتے ہیں۔ یہ سبز رنگ کی گری جسم کو توانائی فراہم کرتی ہے اور مجموعی صحت کے لیے بھی فائدہ مند سمجھی جاتی ہے۔
امریکا کی کولمبیا یونیورسٹی میں ہونے والی تحقیق میں پستوں کے استعمال اور نیند کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا۔ محققین کے مطابق پستوں میں ایسے قدرتی اجزا موجود ہوتے ہیں جو جسم کے ان افعال پر اثر انداز ہوسکتے ہیں جن کا تعلق نیند سے ہے۔ ان اجزا میں ٹرپٹوفان، فائٹومیلاٹونین، میگنیشیم اور وٹامن بی 6 شامل ہیں۔
ٹرپٹوفان ایک اہم جز ہے جو جسم میں سیروٹونین بنانے میں مدد دیتا ہے۔ سیروٹونین دماغ کے کئی افعال میں کردار ادا کرتا ہے اور اسے میلاٹونین بنانے کے عمل سے بھی تعلق ہے۔ میلاٹونین ایک ہارمون ہے جو جسم کے سونے اور جاگنے کے قدرتی نظام کو منظم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نیند کے مسائل کا سامنا کرنے والے بعض افراد میلاٹونین سپلیمنٹس بھی استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق پستوں میں موجود غذائی اجزا جسم کے کئی ایسے حیاتیاتی عمل پر اثر ڈال سکتے ہیں جو نیند کے نظام سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس لیے پستے متوازن غذا کا حصہ بن کر بہتر نیند کے حصول میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ تاہم، محققین نے یہ واضح نہیں کیا کہ نیند پر مثبت اثرات کے لیے روزانہ کتنی مقدار میں پستے کھانے چاہییں۔
پستوں کا فائدہ صرف نیند تک محدود نہیں۔ ان میں پروٹین، فائبر، صحت مند چکنائی اور کئی ضروری وٹامنز اور معدنیات بھی موجود ہوتے ہیں۔ یہ غذائی اجزا جسم کو توانائی دینے، پٹھوں کی صحت برقرار رکھنے اور جسم کے معمول کے افعال میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
غذائی معلومات کے مطابق 28 گرام پستوں میں تقریباً 159 کیلوریز، 8 گرام کاربوہائیڈریٹس، 3 گرام فائبر، 6 گرام پروٹین اور 13 گرام چکنائی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ان میں پوٹاشیم، فاسفورس، وٹامن بی 6، کاپر، وٹامن بی 1 اور مینگنیز بھی پائے جاتے ہیں۔ یہ اجزا جسم کی مختلف ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
پستوں میں موجود وٹامن بی 6 خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہ جسم میں پروٹین کے استعمال سمیت کئی اہم عمل میں مدد دیتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ خون میں شکر کی سطح کو معمول پر رکھنے سے متعلق جسمانی افعال میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پستے غذائیت سے بھرپور غذا ہیں، لیکن انہیں نیند کی خرابی کا یقینی علاج نہیں سمجھنا چاہیے۔ اچھی نیند کے لیے مناسب وقت پر سونا، سونے سے پہلے کیفین سے گریز کرنا اور روزانہ نیند کا باقاعدہ معمول برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔ پستوں کو متوازن غذا کے ساتھ استعمال کیا جاسکتا ہے، تاہم ان کی مناسب مقدار کا تعین اپنی غذائی ضروریات کے مطابق کرنا بہتر ہے۔






