موسم بدلنے کے ساتھ بچوں میں نزلہ، زکام اور کھانسی کی شکایات بڑھنے لگتی ہیں۔ خاص طور پر رات کے وقت کھانسی کی وجہ سے بچوں کو سونے میں مشکل پیش آتی ہے۔
مسلسل کھانسی سے ان کی نیند متاثر ہوتی ہے اور وہ بے چین رہتے ہیں۔ ایسے میں والدین بچوں کو آرام پہنچانے کے لیے مختلف گھریلو ٹوٹکے آزماتے ہیں۔ تاہم، ہر گھریلو نسخہ بچوں کے لیے محفوظ نہیں ہوتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ کوئی بھی طریقہ اپنانے سے پہلے بچے کی عمر اور اس کی صحت کو مدنظر رکھا جائے۔
بچوں میں کھانسی عام طور پر نزلہ، زکام یا سانس کی نالی میں ہونے والی کسی عارضی خرابی کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔ بعض اوقات ناک سے رطوبت گلے میں جانے کے باعث بھی رات کو کھانسی بڑھ جاتی ہے۔ اگرچہ زیادہ تر صورتوں میں کھانسی کچھ وقت بعد بہتر ہو جاتی ہے، لیکن بعض علامات ایسی ہوتی ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ والدین کو چاہیے کہ بچے کی کیفیت پر نظر رکھیں اور ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
سرسوں کے تیل اور لہسن کا روایتی ٹوٹکا
بچوں کی کھانسی کے لیے مختلف گھریلو نسخے برسوں سے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ان میں زبیدہ آپا سے منسوب ایک روایتی ٹوٹکا بھی شامل ہے۔ اس نسخے میں سرسوں کے تیل، لہسن، ہلدی اور اجوائن کو گرم کرکے بچے کے سینے پر مالش کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ بعض والدین کا خیال ہے کہ اس طریقے سے بچے کو سکون مل سکتا ہے۔
تاہم، اس بات کے مضبوط سائنسی شواہد موجود نہیں کہ سرسوں کے تیل، لہسن، ہلدی اور اجوائن کے اس آمیزے سے بچوں کی کھانسی ٹھیک ہو جاتی ہے۔ گرم تیل یا دیگر اجزا جلد پر لگانے سے جلن بھی ہو سکتی ہے۔ اس لیے بچوں کی جلد پر کوئی بھی گرم آمیزہ استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ خاص طور پر چھوٹے بچوں کی جلد زیادہ حساس ہوتی ہے اور اسے نقصان پہنچنے کا خدشہ رہتا ہے۔
شہد سے رات کی کھانسی میں کچھ آرام ممکن
شہد کھانسی میں آرام پہنچانے کے لیے استعمال ہونے والے عام گھریلو طریقوں میں شامل ہے۔ ایک سال یا اس سے زیادہ عمر کے بچوں کو تھوڑی مقدار میں شہد دینے سے رات کے وقت کھانسی کی شدت کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ شہد گلے کو سکون پہنچاتا ہے اور کھانسی کی وجہ سے ہونے والی بے آرامی میں کچھ کمی لا سکتا ہے۔
بچے کو آدھا سے ایک چائے کا چمچ شہد دیا جا سکتا ہے۔ تاہم، مقدار بچے کی عمر اور ضرورت کے مطابق ہونی چاہیے۔ والدین کو یہ بات خاص طور پر یاد رکھنی چاہیے کہ ایک سال سے کم عمر بچوں کو شہد ہرگز نہ دیں۔ اس عمر میں شہد دینے سے بچوں میں ایک خطرناک بیماری، انفینٹ بوٹولزم، کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
شہد کھانسی کی علامات میں عارضی آرام دے سکتا ہے، لیکن یہ کھانسی کی ہر وجہ کا علاج نہیں ہے۔ اگر بچے کی کھانسی مسلسل جاری رہے یا اس کی حالت خراب ہو رہی ہو تو صرف شہد پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔
نیم گرم پانی اور سوپ سے گلے کو سکون
کھانسی کے دوران بچے کے گلے میں خشکی، خراش یا جلن محسوس ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں عمر کے مطابق مناسب مقدار میں پانی پلانا مفید رہتا ہے۔ بڑے بچوں کو نیم گرم پانی یا سوپ دیا جا سکتا ہے۔ اس سے گلے کو سکون ملنے اور جسم میں پانی کی مناسب مقدار برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
چھوٹے بچوں کو ان کی عمر کے مطابق خوراک اور سیال چیزیں دینی چاہییں۔ شیر خوار بچوں کے لیے ماں کا دودھ یا معمول کی مناسب خوراک جاری رکھنا اہم ہے۔ بچوں کو زبردستی کوئی چیز پلانے سے گریز کریں، خاص طور پر اگر انہیں نگلنے میں دشواری ہو رہی ہو۔
ناک بند ہونے پر سیلائن ڈراپس مددگار
نزلہ اور زکام کے دوران بچوں کی ناک بند ہو سکتی ہے۔ اس وجہ سے انہیں سانس لینے اور سونے میں پریشانی ہوتی ہے۔ بعض بچوں میں ناک کی رطوبت گلے میں جانے سے کھانسی بھی بڑھ جاتی ہے۔
ایسی صورت میں بچوں کے لیے تیار کردہ سیلائن ناک کے قطرے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ ناک کی رطوبت کو نرم کرنے اور بندش کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ والدین کو قطرے استعمال کرتے وقت پیکٹ پر درج ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔ شیر خوار بچوں کے لیے ناک کی صفائی کا طریقہ بھی عمر کے مطابق ہونا چاہیے۔
بچوں کے تلوؤں پر وکس لگانے سے کھانسی ٹھیک ہوتی ہے؟
بعض گھروں میں بچوں کے پاؤں کے تلوؤں پر وکس لگا کر انہیں موزے پہنانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ تاہم، اس بات کے سائنسی شواہد موجود نہیں کہ تلوؤں پر وکس لگانے سے کھانسی ٹھیک ہو جاتی ہے۔ اس لیے اسے کھانسی کا ثابت شدہ علاج نہیں سمجھنا چاہیے۔
مینتھول یا دیگر خوشبودار اجزا پر مشتمل بام استعمال کرتے وقت بھی احتیاط ضروری ہے۔ دو سال سے کم عمر بچوں پر مینتھول والے بام استعمال نہیں کرنے چاہییں، جب تک ڈاکٹر خاص طور پر ہدایت نہ دے۔ ایسے بام بچوں کی ناک کے اندر یا اس کے قریب بھی نہیں لگانے چاہییں۔ اس کے علاوہ، چھوٹے بچوں کو ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر کھانسی اور زکام کی دوائیں دینا مناسب نہیں۔
رات کے وقت بچوں کو آرام پہنچانے کے لیے کیا کریں؟
اگر بچے کو کھانسی ہو رہی ہو تو کمرے میں دھواں، سگریٹ اور تیز خوشبوؤں سے بچائیں۔ یہ چیزیں سانس کی نالی میں جلن پیدا کرکے کھانسی بڑھا سکتی ہیں۔ بچے کو مناسب آرام کرنے دیں اور اس کی پانی یا دودھ پینے کی ضرورت پوری کریں۔
شیر خوار بچوں کو سلاتے وقت محفوظ نیند کے اصولوں پر عمل کرنا ضروری ہے۔ انہیں ہمیشہ کمر کے بل، ہموار اور سخت سطح پر سلائیں۔ تکیے یا اضافی کمبل رکھ کر بچے کا سر اونچا کرنے کی کوشش نہ کریں، کیونکہ اس سے دم گھٹنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
کن علامات میں فوری ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے؟
اگر بچے کو سانس لینے میں دشواری ہو، سانس بہت تیز چل رہی ہو، پسلیوں کے درمیان جلد اندر کی طرف کھنچ رہی ہو یا ہونٹ نیلے پڑنے لگیں تو فوری طبی مدد حاصل کریں۔ یہ علامات خطرناک ہو سکتی ہیں۔
اسی طرح مسلسل تیز بخار، پانی کی کمی، دودھ یا خوراک نہ پینا، غیر معمولی سستی یا کھانسی کا تیزی سے بڑھنا بھی توجہ طلب علامات ہیں۔ تین ماہ سے کم عمر بچے کو 38 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ بخار ہو تو فوری طبی معائنہ کروانا چاہیے۔
اگر کھانسی کئی دن تک بہتر نہ ہو، بار بار واپس آئے یا بچے کی نیند اور روزمرہ سرگرمیوں کو شدید متاثر کرے تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔ گھریلو ٹوٹکے ہر بیماری کا متبادل نہیں ہوتے۔ بچے کی عمر، علامات اور مجموعی صحت کو دیکھ کر ہی مناسب علاج کا فیصلہ کیا جانا چاہیے۔






