تازہ ترین
عالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!عالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!
صحت

سردیوں میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ کیوں بڑھ جاتا ہے؟ ماہرین نے خبردار کردیا

سردیوں میں دل کی صحت کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے۔ سرد موسم میں بعض افراد کو ہارٹ اٹیک یعنی دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

 اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ سردی میں جسم کو گرم رکھنے کے لیے دل کو زیادہ محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔ خاص طور پر ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، کولیسٹرول اور دل کی بیماریوں میں مبتلا افراد کو زیادہ احتیاط کرنی چاہیے۔

سرد موسم میں جسم کے قدرتی ردعمل کے باعث خون کی نالیاں سکڑ سکتی ہیں۔ اس سے بلڈ پریشر بڑھنے کا امکان ہوتا ہے۔ جب بلڈ پریشر بڑھتا ہے تو دل کو خون پمپ کرنے کے لیے زیادہ زور لگانا پڑ سکتا ہے۔ یہ صورتحال پہلے سے دل کے مریضوں کے لیے زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے۔

سردیوں میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ کیوں بڑھ سکتا ہے؟

سرد موسم میں خون کی نالیوں کے سکڑنے سے بلڈ پریشر میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں دل پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ سردی کے دوران دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر میں ہونے والی تبدیلیاں بھی بعض افراد کے لیے مسائل پیدا کر سکتی ہیں۔

اس موسم میں اچانک سخت جسمانی مشقت بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر شدید سردی میں تیز چلنا، بھاری وزن اٹھانا یا بغیر تیاری کے سخت ورزش کرنا دل پر اضافی بوجھ ڈال سکتا ہے۔ اس لیے خاص طور پر دل کے مریضوں کو جسمانی سرگرمی میں احتیاط کرنی چاہیے۔

سردیوں میں روزمرہ معمولات بھی تبدیل ہو جاتے ہیں۔ بعض لوگ جسمانی سرگرمی کم کر دیتے ہیں اور مرغن یا زیادہ چکنائی والی غذائیں زیادہ کھانے لگتے ہیں۔ اسی طرح پانی پینے کی مقدار بھی کم ہو سکتی ہے۔ یہ عوامل مجموعی طور پر دل کی صحت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ تاہم، سردیوں میں ہر شخص کے لیے ہارٹ اٹیک کا خطرہ یکساں نہیں ہوتا۔

ہارٹ اٹیک کی علامات کون سی ہیں؟

دل کا دورہ پڑنے کی علامات کو پہچاننا بہت ضروری ہے۔ بعض اوقات مریض علامات کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، جس سے علاج میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

ہارٹ اٹیک کی عام علامات میں سینے میں درد، دباؤ، جکڑن یا بھاری پن شامل ہیں۔ یہ درد بازو، کندھے، کمر، گردن یا جبڑے تک بھی پھیل سکتا ہے۔ اس کے علاوہ سانس پھولنا، ٹھنڈا پسینہ آنا، متلی، چکر آنا اور غیر معمولی کمزوری بھی خطرے کی علامات ہو سکتی ہیں۔

ہر مریض میں تمام علامات ظاہر ہونا ضروری نہیں۔ بعض افراد، خصوصاً ذیابیطس کے مریضوں میں، علامات غیر معمولی یا نسبتاً ہلکی بھی ہو سکتی ہیں۔ اس لیے اچانک طبیعت خراب ہونے یا دل کے دورے کا شبہ ہونے پر انتظار نہیں کرنا چاہیے۔

اگر ہارٹ اٹیک کی علامات ظاہر ہوں تو فوراً ایمرجنسی طبی مدد حاصل کریں۔ خود گاڑی چلا کر ہسپتال جانے سے گریز کریں۔ ایمبولینس یا مقامی ایمرجنسی سروس سے رابطہ کریں، کیونکہ فوری علاج جان بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

سردیوں میں دل کو محفوظ رکھنے کے لیے کیا کریں؟

سردی سے بچاؤ کے لیے گرم کپڑے پہنیں۔ سر، ہاتھوں اور سینے کو مناسب طور پر ڈھانپیں۔ صبح سویرے شدید سردی میں اچانک سخت ورزش یا بھاری کام کرنے سے گریز کریں۔ اگر ورزش کرنی ہو تو پہلے جسم کو آہستہ آہستہ حرکت کے لیے تیار کریں اور اپنی جسمانی حالت کے مطابق سرگرمی کا انتخاب کریں۔

ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس یا دل کی بیماری میں مبتلا افراد کو اپنی ادویات باقاعدگی سے استعمال کرنی چاہئیں۔ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر دوا بند نہ کریں اور نہ ہی اس کی مقدار میں تبدیلی کریں۔ بلڈ پریشر، شوگر اور کولیسٹرول کو قابو میں رکھنا بھی دل کی صحت کے لیے اہم ہے۔

غذا میں نمک، گھی اور زیادہ چکنائی والی اشیا کا استعمال محدود کریں۔ سبزیوں، پھلوں اور متوازن غذا کو معمول کا حصہ بنائیں۔ سردیوں میں پیاس کم محسوس ہونے کے باوجود مناسب مقدار میں پانی پیتے رہیں، البتہ اگر ڈاکٹر نے دل یا گردوں کی بیماری کے باعث پانی محدود کرنے کی ہدایت دی ہے تو اسی پر عمل کریں۔

اس کے علاوہ سگریٹ اور تمباکو سے پرہیز کریں اور روزانہ اپنی صحت کے مطابق جسمانی سرگرمی جاری رکھیں۔ باقاعدہ طبی معائنہ بھی ضروری ہے، خصوصاً ان افراد کے لیے جنہیں پہلے سے دل کی بیماری یا دیگر خطرے کے عوامل لاحق ہیں۔

سردیوں میں احتیاط کیوں ضروری ہے؟

سردیوں میں دل کے دورے کا خطرہ بعض افراد میں بڑھ سکتا ہے، لیکن ہارٹ اٹیک کسی بھی موسم میں ہو سکتا ہے۔ صرف سردی سے بچنا کافی نہیں، بلکہ بلڈ پریشر، شوگر اور کولیسٹرول کو قابو میں رکھنا بھی ضروری ہے۔

دل کے دورے کی علامات کی بروقت شناخت اور فوری طبی امداد سب سے اہم ہیں۔ اگر سینے میں دباؤ، سانس لینے میں دشواری یا اچانک غیر معمولی کمزوری محسوس ہو تو اسے معمولی مسئلہ سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔