(جی ٹی وی نیوز اردو) — ذیابیطس ایک دائمی بیماری ہے جس میں خون میں گلوکوز، یعنی شکر کی مقدار معمول سے بڑھ جاتی ہے۔ انسولین کی کمی یا جسم کے خلیوں کا اس ہارمون کے لیے مناسب ردعمل ظاہر نہ کرنا اس بیماری کی اہم وجوہات میں شامل ہے۔
ذیابیطس کو عموماً ٹائپ 1 اور ٹائپ 2 میں تقسیم کیا جاتا ہے، لیکن بعض سائنسی تحقیقات میں الزائمر کے مرض اور دماغ میں انسولین کے نظام کے درمیان تعلق کو سمجھنے کے لیے ’’ٹائپ 3 ذیابیطس‘‘ کی اصطلاح بھی استعمال کی جاتی ہے۔
یہ اصطلاح بعض محققین کے نزدیک الزائمر کے دوران دماغ میں انسولین کے سگنلز کی ترسیل اور گلوکوز کے استعمال میں ممکنہ خرابی کی وضاحت کرتی ہے۔ تاہم اسے ذیابیطس کی باقاعدہ تسلیم شدہ تیسری قسم سمجھنا درست نہیں۔ الزائمر ایک پیچیدہ دماغی بیماری ہے اور اس کے اسباب و طریقۂ کار پر تحقیق جاری ہے۔
ذیابیطس جسم کو کیسے متاثر کرتی ہے؟
ذیابیطس اس وقت پیدا ہوتی ہے جب جسم مناسب مقدار میں انسولین پیدا نہیں کرتا یا جسم کے خلیے انسولین کے لیے درست ردعمل ظاہر نہیں کرتے۔ انسولین لبلبے سے خارج ہونے والا ہارمون ہے جو گلوکوز کو خون سے خلیوں تک پہنچانے اور اسے توانائی کے لیے استعمال کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
جب خون میں گلوکوز کی سطح مسلسل بلند رہے تو وقت کے ساتھ جسم کے مختلف اعضا متاثر ہوسکتے ہیں۔ ذیابیطس کی پیچیدگیوں میں دل کی بیماری، فالج، گردوں کو نقصان، بینائی میں کمی اور پاؤں کے شدید مسائل شامل ہیں۔ بیماری پر مناسب قابو نہ ہونے کی صورت میں بعض مریضوں کو اعضا کاٹنے کی ضرورت بھی پیش آسکتی ہے۔
ٹائپ 1 ذیابیطس میں مدافعتی نظام لبلبے کے انسولین پیدا کرنے والے خلیوں کو نقصان پہنچاتا ہے، جبکہ ٹائپ 2 میں جسم انسولین کے خلاف مزاحمت پیدا کرسکتا ہے یا وقت کے ساتھ انسولین کی پیداوار ناکافی ہوجاتی ہے۔
الزائمر اور انسولین کے درمیان کیا تعلق ہے؟
الزائمر ایک ترقی پذیر دماغی بیماری ہے جو یادداشت، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اور روزمرہ کام انجام دینے کی صلاحیت کو متاثر کرسکتی ہے۔ اس بیماری میں دماغ کے خلیوں اور ان کے درمیان رابطوں میں تبدیلیاں آتی ہیں، لیکن اس کے مکمل اسباب ابھی زیر تحقیق ہیں۔
بعض مطالعات میں دماغ کے اندر انسولین کے سگنلز کی خرابی اور گلوکوز کے استعمال میں تبدیلیوں کو الزائمر کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ دماغ کو معمول کے افعال انجام دینے کے لیے توانائی درکار ہوتی ہے اور گلوکوز اس توانائی کا اہم ذریعہ ہے۔ انسولین دماغ کے بعض افعال میں بھی کردار ادا کرتی ہے، اگرچہ دماغ میں گلوکوز کے استعمال کا نظام جسم کے دوسرے حصوں سے مختلف اور زیادہ پیچیدہ ہے۔
اسی تناظر میں بعض محققین الزائمر میں پائی جانے والی ان تبدیلیوں کو سمجھانے کے لیے ’’ٹائپ 3 ذیابیطس‘‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ اس کا مقصد دماغ میں انسولین کے نظام اور بیماری کے درمیان ممکنہ تعلق کو نمایاں کرنا ہے، نہ کہ یہ ثابت کرنا کہ الزائمر لازماً ذیابیطس کی ایک قسم ہے۔
ماہرین کی تحقیق کیا بتاتی ہے؟
ویک فاریسٹ یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن میں شعبہ عمر رسیدگی کی پروفیسر اور الزائمر ڈیزیز ریسرچ سینٹر کی ڈائریکٹر ڈاکٹر سوزین کرافٹ کے حوالے سے اس تصور کی وضاحت کی گئی ہے کہ الزائمر میں انسولین کے خلاف مزاحمت یا دماغ میں انسولین کے سگنلز کی ترسیل میں خرابی شامل ہوسکتی ہے۔
یہ ممکنہ تعلق اس لیے اہم ہے کہ دماغی خلیوں کو توانائی فراہم کرنے اور ان کے افعال کو برقرار رکھنے کے لیے مختلف حیاتیاتی نظام کام کرتے ہیں۔ ان نظاموں میں تبدیلیاں دماغ کی صحت پر اثر انداز ہوسکتی ہیں، تاہم کسی ایک عامل کو الزائمر کی واحد وجہ قرار دینے کے لیے مزید شواہد درکار ہیں۔
الزائمر کی تشخیص اور علاج کے لیے اس وقت طبی معائنہ، مریض کی علامات، متعلقہ ٹیسٹ اور دیگر طبی شواہد اہم ہوتے ہیں۔ صرف انسولین کی مزاحمت یا ذیابیطس کی موجودگی کی بنیاد پر کسی شخص میں الزائمر کی تشخیص نہیں کی جاسکتی۔
کیا الزائمر ٹائپ 1 اور ٹائپ 2 ذیابیطس سے مختلف ہے؟
جی ہاں۔ ٹائپ 1 اور ٹائپ 2 ذیابیطس خون میں گلوکوز کو منظم کرنے کے نظام سے متعلق طبی تشخیصیں ہیں۔ اس کے برعکس الزائمر ایک اعصابی بیماری ہے جس میں یادداشت اور دیگر ذہنی صلاحیتیں متاثر ہوتی ہیں۔
الزائمر اور ذیابیطس کے درمیان ممکنہ تعلق پر تحقیق ضرور موجود ہے، لیکن دونوں بیماریوں کو ایک ہی بیماری قرار دینا درست نہیں۔ ٹائپ 3 ذیابیطس کی اصطلاح بھی الزائمر کے حوالے سے ایک تحقیقی تصور کے طور پر استعمال ہوتی ہے، جس پر سائنسی اتفاقِ رائے ابھی مکمل نہیں۔
یہاں ایک اور اہم فرق بھی سمجھنا ضروری ہے۔ ٹائپ 3 سی ذیابیطس ایک الگ طبی اصطلاح ہے جو لبلبے کو نقصان پہنچنے یا اس کی بیماریوں کے باعث پیدا ہونے والی ذیابیطس کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اسے الزائمر کے ساتھ تعلق بیان کرنے کے لیے استعمال ہونے والی ’’ٹائپ 3 ذیابیطس‘‘ کی اصطلاح کے ساتھ خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔
الزائمر سے بچاؤ کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے؟
الزائمر سے مکمل تحفظ کی ضمانت دینے والا کوئی ایک طریقہ موجود نہیں، تاہم دماغی اور عمومی صحت کا خیال رکھنا اہم ہے۔ متوازن غذا، باقاعدہ جسمانی سرگرمی، مناسب نیند، تمباکو نوشی سے گریز اور بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور ذیابیطس جیسے عوامل کا مناسب انتظام مجموعی صحت کے لیے مفید ہے۔
یادداشت میں مسلسل کمی، روزمرہ کاموں میں غیر معمولی دشواری یا سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں تبدیلی محسوس ہونے پر طبی ماہر سے معائنہ کرانا چاہیے۔ ان علامات کی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں، اس لیے درست تشخیص ضروری ہے۔
ذیابیطس کے مریضوں کو اپنی تجویز کردہ ادویات، غذا اور طبی نگرانی جاری رکھنی چاہیے۔ الزائمر اور انسولین کے ممکنہ تعلق سے متعلق تحقیق کو ابھی کسی نئے علاج یا ذیابیطس کی دوا خود سے استعمال کرنے کی ہدایت نہیں سمجھنا چاہیے۔






