شکر قندی پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں شوق سے کھائی جاتی ہے۔ سردیوں میں اس کی مانگ خاص طور پر بڑھ جاتی ہے۔
کچھ لوگ اسے ابال کر کھاتے ہیں جبکہ بعض افراد اسے بھون کر پسند کرتے ہیں۔ ذائقے میں میٹھی ہونے کے ساتھ شکر قندی کئی اہم غذائی اجزا بھی فراہم کرتی ہے۔ اس میں فائبر، پوٹاشیم، وٹامن سی، وٹامن اے اور بیٹا کیروٹین جیسے اجزا پائے جاتے ہیں۔ یہ غذائی اجزا جسم کے مختلف افعال کو بہتر رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
شکر قندی کو انگریزی میں سویٹ پوٹیٹو (Sweet Potato) کہا جاتا ہے۔ اسے متوازن غذا کا حصہ بنانے سے نظام ہاضمہ، دل، بینائی اور مدافعتی نظام کی صحت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ تاہم، اس کے فوائد حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے مناسب مقدار میں کھایا جائے اور کسی بیماری کے علاج کے لیے صرف اس پر انحصار نہ کیا جائے۔
شکر قندی میں کون سے غذائی اجزا پائے جاتے ہیں؟
شکر قندی میں پانی، کاربوہائیڈریٹس، فائبر اور تھوڑی مقدار میں پروٹین موجود ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں آئرن، کیلشیئم، میگنیشیم، فاسفورس اور پوٹاشیم بھی پایا جاتا ہے۔ وٹامن سی، وٹامن اے اور بیٹا کیروٹین بھی اس کی غذائی اہمیت بڑھاتے ہیں۔
تقریباً 124 گرام شکر قندی میں 108 کیلوریز اور لگ بھگ ڈھائی گرام فائبر موجود ہو سکتا ہے۔ اس کی غذائی مقدار قسم، سائز اور پکانے کے طریقے کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔ شکر قندی میں موجود فائبر پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرا رکھنے اور ہاضمے کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے دیگر غذائی اجزا بھی جسم کو معمول کے مطابق کام کرنے میں معاونت فراہم کرتے ہیں۔
انسولین کی حساسیت بہتر بنانے میں مددگار
شکر قندی میں موجود فائبر خون میں شوگر کی سطح کو قابو میں رکھنے کے لیے مفید ہو سکتا ہے۔ بعض تحقیقی مطالعات میں شکر قندی کے استعمال اور انسولین کی حساسیت کے درمیان ممکنہ تعلق کا جائزہ لیا گیا ہے۔ انسولین ایک ہارمون ہے جو خون میں موجود گلوکوز کو جسم کے خلیات تک پہنچانے میں مدد دیتا ہے۔
فائبر سے بھرپور غذائیں کھانے سے کاربوہائیڈریٹس کے ہضم ہونے اور گلوکوز کے جذب ہونے کا عمل نسبتاً سست ہو سکتا ہے۔ اس سے کھانے کے بعد خون میں شوگر کی سطح میں اچانک اضافے کو محدود کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
تاہم، شکر قندی میں کاربوہائیڈریٹس بھی موجود ہوتے ہیں۔ اس لیے ذیابیطس کے مریضوں کو اس کی مقدار کا خیال رکھنا چاہیے۔ انہیں اپنی غذا میں تبدیلی کرتے وقت ڈاکٹر یا ماہر غذائیت سے مشورہ کرنا چاہیے۔
بلڈ پریشر کو معمول پر رکھنے میں فائدہ مند
شکر قندی میں پوٹاشیم پایا جاتا ہے، جو جسم میں سیال اور نمکیات کا توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پوٹاشیم کی مناسب مقدار بلڈ پریشر کو معمول پر رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔ یہ دل اور پٹھوں کے معمول کے افعال کے لیے بھی ضروری ہے۔
ماہرین صحت عام طور پر زیادہ نمک کے استعمال کو محدود کرنے اور پوٹاشیم سے بھرپور غذائیں کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اس لیے شکر قندی متوازن غذا کا ایک مفید حصہ بن سکتی ہے۔ البتہ گردوں کے بعض مریضوں کو پوٹاشیم کی مقدار محدود رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے افراد کو شکر قندی کھانے کے بارے میں اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔
کینسر سے بچاؤ میں ممکنہ کردار
شکر قندی میں بیٹا کیروٹین نامی نباتاتی مرکب موجود ہوتا ہے۔ یہ جسم میں جا کر وٹامن اے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ بیٹا کیروٹین ایک اینٹی آکسیڈنٹ کے طور پر بھی کام کرتا ہے اور خلیات کو آکسیڈیٹو تناؤ سے ہونے والے نقصان سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔
خلیات کو پہنچنے والا نقصان مختلف بیماریوں کے خطرے سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے اینٹی آکسیڈنٹس پر مشتمل پھلوں اور سبزیوں کو صحت مند غذا کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، یہ کہنا درست نہیں کہ صرف شکر قندی کھانے سے کینسر سے بچاؤ یقینی ہو جاتا ہے۔ کینسر کا خطرہ کئی عوامل پر منحصر ہوتا ہے، جن میں طرز زندگی، ماحول اور موروثی اثرات بھی شامل ہیں۔
نظام ہاضمہ بہتر اور قبض سے بچاؤ
شکر قندی کا ایک اہم فائدہ اس میں موجود غذائی فائبر ہے۔ فائبر آنتوں کے معمول کے افعال میں مدد دیتا ہے اور پاخانے کو نرم رکھنے میں کردار ادا کرتا ہے۔ اس طرح مناسب مقدار میں فائبر لینے سے قبض کی شکایت کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
فائبر سے بھرپور غذا آنتوں میں مفید بیکٹیریا کی افزائش کے لیے بھی مددگار ہو سکتی ہے۔ مختلف مطالعات میں زیادہ فائبر والی غذا اور آنتوں کی صحت کے درمیان تعلق سامنے آیا ہے۔ اس کے باوجود قبض سے بچنے کے لیے صرف شکر قندی کافی نہیں۔ پانی مناسب مقدار میں پینا، روزانہ جسمانی سرگرمی کرنا اور مختلف سبزیاں، پھل اور ثابت اناج کھانا بھی ضروری ہے۔
بینائی کی صحت کے لیے مفید
شکر قندی میں موجود بیٹا کیروٹین جسم میں وٹامن اے بنانے میں مدد دیتا ہے۔ وٹامن اے آنکھوں کی صحت اور معمول کی بینائی کے لیے ضروری ہے۔ اس کی کمی سے رات کے وقت کم دکھائی دینے سمیت بینائی کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
نارنجی رنگ کی شکر قندی میں عام طور پر بیٹا کیروٹین زیادہ مقدار میں پایا جاتا ہے۔ اس لیے اسے مناسب مقدار میں کھانے سے جسم کو وٹامن اے حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم، آنکھوں کی بیماریوں سے بچنے کے لیے متوازن غذا کے ساتھ باقاعدہ معائنہ بھی اہم ہے۔
مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں معاون
شکر قندی میں وٹامن سی موجود ہوتا ہے۔ یہ وٹامن مدافعتی نظام کے معمول کے افعال میں مدد دیتا ہے اور جسم میں آئرن کے جذب ہونے کے عمل کو بھی بہتر بناتا ہے۔ وٹامن سی جلد اور زخم بھرنے کے عمل کے لیے بھی اہم ہے۔
اگر غذا میں وٹامن سی کی مناسب مقدار شامل ہو تو جسم کو مختلف ضروری افعال انجام دینے میں مدد ملتی ہے۔ شکر قندی اس وٹامن کے حصول کا ایک ذریعہ ہے، لیکن وٹامن سی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے دوسری غذائیں، مثلاً امرود، مالٹا اور دیگر پھل بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
خون میں شوگر کی سطح کے لیے کیا یہ مفید ہے؟
شکر قندی میں قدرتی مٹھاس کے ساتھ کاربوہائیڈریٹس بھی موجود ہوتے ہیں۔ اس لیے اسے کھانے سے خون میں گلوکوز کی سطح بڑھ سکتی ہے۔ اس کا اثر شکر قندی کی مقدار، پکانے کے طریقے اور کھانے کے ساتھ استعمال ہونے والی دوسری غذاؤں پر بھی منحصر ہوتا ہے۔
اس میں موجود فائبر شوگر کے جذب ہونے کے عمل کو متاثر کر سکتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ شکر قندی خون میں شوگر کم کرنے کی دوا ہے۔ ذیابیطس کے مریض اسے اپنی غذا میں شامل کر سکتے ہیں، مگر انہیں مقدار اور مجموعی کاربوہائیڈریٹس پر توجہ دینی چاہیے۔ زیادہ چینی یا میٹھی چٹنی شامل کرنے کے بجائے اسے سادہ طریقے سے تیار کرنا بہتر انتخاب ہو سکتا ہے۔
جسم میں ورم کم کرنے میں ممکنہ مدد
شکر قندی میں کولین سمیت کئی غذائی اجزا پائے جاتے ہیں۔ کولین خلیات کی جھلیوں، اعصابی نظام اور یادداشت سے متعلق افعال میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ پٹھوں کی حرکت اور جسم کے دیگر معمول کے کاموں کے لیے بھی ضروری ہے۔
کچھ تحقیقی مطالعات میں کولین اور جسم میں ورم کے درمیان ممکنہ تعلق کا جائزہ لیا گیا ہے۔ تاہم، اس بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ شکر قندی دمہ یا ورم سے متعلق بیماریوں کا علاج کرتی ہے۔ ایسی بیماریوں میں ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات اور علاج جاری رکھنا ضروری ہے۔
دل کی صحت کے لیے فائدہ مند
شکر قندی میں موجود فائبر، پوٹاشیم اور دیگر غذائی اجزا دل کی صحت کے لیے مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ فائبر سے بھرپور غذا خون میں نقصان دہ ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ دوسری جانب پوٹاشیم بلڈ پریشر کو معمول پر رکھنے میں کردار ادا کرتا ہے۔
دل کی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے صرف ایک غذا پر انحصار کرنے کے بجائے مجموعی طرز زندگی بہتر بنانا ضروری ہے۔ اس میں نمک اور غیر صحت مند چکنائی کا کم استعمال، مناسب جسمانی سرگرمی، متوازن غذا اور تمباکو نوشی سے پرہیز شامل ہیں۔ شکر قندی ان عادات کے ساتھ صحت مند غذا کا حصہ بن سکتی ہے۔
جلد کی صحت اور تازگی کے لیے مفید
شکر قندی میں موجود بیٹا کیروٹین جلد کے خلیات کو آکسیڈیٹو تناؤ سے ہونے والے نقصان سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔ جسم بیٹا کیروٹین کو وٹامن اے میں بھی تبدیل کرتا ہے، جو جلد کی صحت اور خلیات کی معمول کی نشوونما کے لیے ضروری ہے۔
متوازن غذا میں بیٹا کیروٹین سے بھرپور غذائیں شامل کرنے سے جلد کو ضروری غذائی اجزا مل سکتے ہیں۔ تاہم، شکر قندی کھانے سے جھریاں ختم ہونے یا سورج کی شعاعوں سے ہونے والے نقصان سے مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں ملتی۔ جلد کی حفاظت کے لیے سن اسکرین، مناسب پانی اور صحت مند طرز زندگی بھی اہم ہیں۔
شکر قندی کھانے کا بہتر طریقہ کیا ہے؟
شکر قندی کو ابال کر یا بھون کر کھایا جا سکتا ہے۔ اسے بہت زیادہ تیل، چینی یا شربت کے ساتھ تیار کرنے سے اضافی کیلوریز بڑھ سکتی ہیں۔ اگر اسے متوازن غذا کے حصے کے طور پر کھایا جائے تو اس کے غذائی فوائد حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔






