امریکا میں کیے گئے دو مطالعات میں باقاعدگی سے ناشتہ کرنے، روزانہ جسمانی سرگرمی اور مناسب نیند کو بہتر ذہنی مضبوطی اور غذائی معیار سے منسلک کیا گیا ہے۔
محققین کے مطابق روزانہ کے معمولات میں خوراک اور جسمانی سرگرمی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، تاہم ان مطالعات کے نتائج یہ ثابت نہیں کرتے کہ صرف ناشتہ کرنے سے ہر شخص کی ذہنی صحت بہتر ہوجاتی ہے۔ اس کے بجائے نتائج اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مجموعی طرزِ زندگی کو سمجھنا ضروری ہے۔
بنگھمٹن یونیورسٹی سے منسوب ایک مطالعے میں تقریباً 400 افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق ہفتے میں کم از کم پانچ دن ناشتہ کرنے والے افراد میں نفسیاتی مضبوطی کی بہتر سطح دیکھی گئی۔ اس کے علاوہ روزانہ کم از کم 20 منٹ جسمانی سرگرمی کو بھی بہتر ذہنی مضبوطی سے منسلک کیا گیا۔ اس کے برعکس رات میں چھ گھنٹے سے کم نیند اور بار بار فاسٹ فوڈ کھانے کا تعلق نسبتاً کم نفسیاتی مضبوطی سے سامنے آیا۔
ناشتہ اور ذہنی مضبوطی کا تعلق
نفسیاتی مضبوطی سے مراد دباؤ، مشکلات اور روزمرہ کے چیلنجز کا سامنا کرنے اور ان سے نمٹنے کی صلاحیت ہے۔ باقاعدہ ناشتہ کرنے سے جسم کو دن کے آغاز میں توانائی اور مختلف غذائی اجزا مل سکتے ہیں، خصوصاً جب اس میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور معدنیات سے بھرپور غذائیں شامل ہوں۔
تاہم ناشتے کے معیار اور مقدار میں فرق اہم ہے۔ میٹھے مشروبات یا زیادہ شکر والی مصنوعات پر مشتمل ناشتہ اور انڈے، دلیہ، پھل یا دیگر متوازن غذاؤں پر مشتمل ناشتہ غذائی اعتبار سے ایک جیسے نہیں ہوتے۔ اس لیے صرف ناشتہ کرنے کی تعداد کے بجائے یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ خوراک میں کون سی چیزیں شامل ہیں۔
یہ مطالعہ جرنل آف امریکن کالج ہیلتھ میں شائع ہونے والی تحقیق سے منسوب کیا گیا ہے۔ چونکہ ایسے مطالعات میں عادات اور نتائج کے درمیان تعلق دیکھا جاتا ہے، اس لیے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ ناشتہ نہ کرنا لازماً ذہنی مشکلات پیدا کرتا ہے۔ نیند، معاشرتی حالات، ذہنی دباؤ اور دیگر صحت سے متعلق عوامل بھی اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
پروٹین والے ناشتے پر دوسری تحقیق
ٹیکساس کی ایک یونیورسٹی سے منسوب دوسرے مطالعے میں 128 نوجوان بالغ افراد کا جائزہ لیا گیا۔ جولائی 2026 سے متعلق فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق اس تحقیق میں ناشتہ کرنے اور نہ کرنے والے افراد کے ساتھ مختلف مقدار میں پروٹین لینے والے گروپوں کا موازنہ کیا گیا۔ مطالعے میں روزانہ تقریباً 2,300 کیلوریز کے قریب خوراک استعمال کرنے والے گروپوں کی غذائی تفصیلات کا جائزہ لیا گیا۔
نتائج کے مطابق ناشتہ کرنے والوں کی خوراک میں فائبر، آئرن، زنک اور کولین کی مقدار نسبتاً زیادہ جبکہ میٹھی غذاؤں کا استعمال کم دیکھا گیا۔ اسی طرح 30 گرام پروٹین والے ناشتے کے گروپ میں 15 گرام پروٹین والے گروپ کے مقابلے میں پروٹین، آئرن اور کولین کی مقدار زیادہ تھی۔ یہ نتائج ناشتے کی غذائی ترکیب کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں، لیکن ہر فرد کے لیے ایک ہی مقدار کو بہترین قرار نہیں دیتے۔
یہ تحقیق امریکن سوسائٹی فار نیوٹریشن کے سالانہ اجلاس میں پیش کیے جانے سے منسوب ہے۔ کانفرنس میں پیش کردہ نتائج اور مکمل ہم مرتبہ جانچ شدہ تحقیقی مقالے کی حیثیت میں فرق ہوسکتا ہے، اس لیے ان نتائج کی تشریح احتیاط سے کرنا مناسب ہے۔
روزمرہ زندگی کے لیے عملی رہنمائی
متوازن ناشتے میں انڈے، دہی، دلیہ، پھل، ثابت اناج یا مناسب مقدار میں پروٹین کے دیگر ذرائع شامل کیے جاسکتے ہیں۔ روزانہ جسمانی سرگرمی، باقاعدہ نیند اور متوازن خوراک بھی صحت مند طرزِ زندگی کے اہم حصے ہیں۔ ہر فرد کی غذائی ضروریات عمر، صحت، سرگرمی اور دیگر عوامل کے مطابق مختلف ہوسکتی ہیں۔
ان مطالعات کا مجموعی اشارہ یہ ہے کہ باقاعدہ کھانے، بہتر غذائی انتخاب، مناسب نیند اور جسمانی سرگرمی پر توجہ دینا مفید ہوسکتا ہے۔ تاہم ذہنی مضبوطی ایک پیچیدہ معاملہ ہے اور اسے صرف ناشتے یا کسی ایک عادت سے نہیں جوڑا جاسکتا۔






