تازہ ترین
ایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیاں، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتاردانتوں کی صحت صرف برش سے نہیں بلکہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔!!! نئی تحقیق میں اہم انکشافایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیاں، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتاردانتوں کی صحت صرف برش سے نہیں بلکہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔!!! نئی تحقیق میں اہم انکشاف
صحت

فرانس میں شامونڈا وائرس کا پہلا انسانی کیس رپورٹ ہونے کا دعویٰ، ماہرین کی تحقیقات جاری

شامونڈا وائرس کا انسانی کیس

فرانس میں شامونڈا وائرس سے متاثرہ ایک انسانی کیس سامنے آنے کی اطلاع نے متعدی امراض کے ماہرین کی توجہ مبذول کرلی ہے۔

غیر ملکی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق اس وائرس کی شناخت ایک ایسے مریض میں ہوئی جو مدافعتی نظام کے شدید کمزور ہونے کے باعث لیون شہر میں علاج کروا رہا تھا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مریض اکتوبر کے اوائل میں انتقال کرگیا، تاہم وائرس کے انسانی صحت پر اثرات اور موت سے اس کے تعلق کی حتمی تصدیق کے لیے مزید طبی شواہد ضروری ہیں۔

شامونڈا وائرس اس سے پہلے بنیادی طور پر جانوروں، خصوصاً مویشیوں میں پائے جانے والے وائرس کے طور پر زیرِ بحث رہا ہے۔ اس کی منتقلی میں کاٹنے والے چھوٹے کیڑوں، جنہیں مڈجز کہا جاتا ہے، کا کردار بتایا جاتا ہے۔ اگر انسان میں انفیکشن کی رپورٹ کی تصدیق ہوجاتی ہے تو اس سے وائرس کے ممکنہ میزبانوں اور انسانوں پر اس کے اثرات سے متعلق تحقیق کی اہمیت بڑھ جائے گی۔

مریض کی حالت اور ابتدائی طبی جائزہ

رپورٹ کے مطابق مریض کا مدافعتی نظام شدید کمزور تھا اور اسے لیون میں علاج فراہم کیا جارہا تھا۔ معالجین کے ابتدائی جائزے میں مریض کی موت سے پہلے سامنے آنے والی سنگین دماغی پیچیدگیوں اور وائرس کے درمیان ممکنہ تعلق پر غور کیا گیا۔ تاہم کسی وائرس کی موجودگی اور کسی مریض کی موت کے درمیان براہِ راست سبب ثابت کرنے کے لیے طبی ریکارڈ، لیبارٹری نتائج اور دیگر ممکنہ وجوہات کا تفصیلی جائزہ درکار ہوتا ہے۔

اس لیے ابتدائی رپورٹ کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کرنا مناسب نہیں کہ شامونڈا وائرس عام طور پر انسانوں میں شدید دماغی بیماری یا موت کا سبب بنتا ہے۔ ایک انفرادی کیس سے وائرس کے عمومی خطرے، منتقلی کی شرح یا عوامی صحت پر مجموعی اثرات کا اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتا۔

شامونڈا وائرس کہاں پایا گیا ہے؟

فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق شامونڈا وائرس پہلی مرتبہ 1960 کی دہائی میں نائیجیریا میں شناخت کیا گیا تھا۔ اس کے بعد افریقہ اور ایشیا کے مختلف حصوں میں جانوروں میں اس کی موجودگی کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یورپ میں جانوروں اور وائرس منتقل کرنے والے کیڑوں پر نگرانی بڑھائی جارہی ہے۔

شامونڈا وائرس کو شْمَالینبرگ وائرس سے متعلق وائرسوں کے گروہ سے جوڑا جاتا ہے۔ شْمَالینبرگ وائرس مویشیوں میں بخار، دودھ کی پیداوار میں کمی، اسہال اور بعض صورتوں میں پیدائشی پیچیدگیوں سے منسلک رہا ہے۔ تاہم ان اثرات کو شامونڈا وائرس کے ہر ممکن انسانی انفیکشن پر براہِ راست لاگو نہیں کیا جاسکتا؛ دونوں وائرسوں کے اثرات اور منتقلی کے طریقوں کی الگ تحقیق ضروری ہے۔

عام لوگوں کے لیے خطرہ کتنا ہے؟

فراہم کردہ رپورٹ میں صحت سے متعلق حکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ فی الحال عام آبادی کے لیے بڑے پیمانے پر خطرے کا امکان کم سمجھا جارہا ہے۔ تاہم اس دعوے کی درست تشریح کے لیے متعلقہ فرانسیسی صحت حکام اور سائنسی اداروں کی اصل ہدایات دیکھنا ضروری ہے۔

ماہرین کی توجہ وائرس کی شناخت، جانوروں میں اس کی موجودگی اور مڈجز کے ذریعے ممکنہ منتقلی کی نگرانی پر مرکوز رہ سکتی ہے۔ عوام کو چاہیے کہ غیر مصدقہ سوشل میڈیا پیغامات سے خوفزدہ ہونے کے بجائے صحت کے معتبر اداروں کی ہدایات پر عمل کریں۔ اس کیس کی اہمیت مزید تحقیق کی ضرورت میں ہے، نہ کہ فوری طور پر کسی بڑے انسانی وبائی پھیلاؤ کا نتیجہ اخذ کرنے میں۔