تازہ ترین
ایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیاں، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتاردانتوں کی صحت صرف برش سے نہیں بلکہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔!!! نئی تحقیق میں اہم انکشافایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانکیا آپ بھی نیند میں باتیں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے!سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیاں، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتاردانتوں کی صحت صرف برش سے نہیں بلکہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔!!! نئی تحقیق میں اہم انکشاف
صحت

ہر عمر میں ہڈیوں کو مضبوط رکھنا چاہتے ہیں؟ تو روزانہ یہ کام لازمی کریں

عمر بڑھنے کے ساتھ ہڈیوں کی کمزوری کا خطرہ بھی بڑھنے لگتا ہے۔ خاص طور پر درمیانی عمر اور بڑھاپے میں ہڈیوں کے بھربھرے پن کا مرض لاحق ہونے کے امکانات زیادہ ہو جاتے ہیں۔

 اس بیماری میں ہڈیاں کمزور اور نازک ہو جاتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں معمولی چوٹ لگنے یا گرنے سے بھی ہڈی ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ تاہم روزانہ چہل قدمی کو معمول بنا کر ہڈیوں کی صحت بہتر رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ روزانہ چہل قدمی کے دورانیے اور ہڈیوں کے بھربھرے پن کے مرض کے خطرے کے درمیان تعلق پایا جاتا ہے۔ یہ تحقیق طبی جریدے Osteoporosis International میں شائع ہوئی تھی۔ اس میں 24 ہزار سے زائد عمر رسیدہ افراد کو شامل کیا گیا۔ محققین نے ان افراد کی چہل قدمی کی عادات کا جائزہ لیا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ روزانہ پیدل چلنے کا وقت ہڈیوں کی صحت پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے۔

تحقیق کے دوران شرکا کو روزانہ چہل قدمی کے دورانیے کے مطابق چار گروپس میں تقسیم کیا گیا۔ پہلے گروپ میں وہ افراد شامل تھے جو روزانہ چہل قدمی نہیں کرتے تھے۔ دوسرے گروپ میں ایسے افراد تھے جو روزانہ 30 منٹ یا اس سے کم وقت تک پیدل چلتے تھے۔ تیسرے گروپ میں 30 سے 60 منٹ تک چہل قدمی کرنے والے افراد شامل تھے، جبکہ چوتھے گروپ میں وہ لوگ تھے جو روزانہ ایک گھنٹے سے زیادہ پیدل چلتے تھے۔

محققین نے ان افراد کی صحت پر 37 ماہ تک نظر رکھی۔ اس دوران 4,586 افراد میں ہڈیوں کے بھربھرے پن کے مرض کی تشخیص ہوئی۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ چہل قدمی کا دورانیہ زیادہ ہونے کے ساتھ اس بیماری کی شرح بھی کم دیکھی گئی۔

تحقیق کے مطابق جو افراد روزانہ 30 منٹ یا اس سے کم وقت تک چہل قدمی کرتے تھے، ان میں ہر 100 افراد میں سے اوسطاً 19 افراد کو ہڈیوں کے بھربھرے پن کا مرض لاحق ہوا۔ اس کے مقابلے میں روزانہ 30 سے 60 منٹ تک پیدل چلنے والے افراد میں یہ تعداد کم ہو کر ہر 100 میں سے تقریباً 15 رہ گئی۔

اسی طرح روزانہ ایک گھنٹے سے زیادہ چہل قدمی کرنے والے افراد میں اس مرض کی شرح مزید کم دیکھی گئی۔ اس گروپ میں ہر 100 افراد میں سے اوسطاً 10 افراد میں ہڈیوں کے بھربھرے پن کی تشخیص ہوئی۔ ان نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ باقاعدگی سے پیدل چلنا ہڈیوں کی صحت کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

محققین کے مطابق روزانہ ایک گھنٹے یا اس سے زیادہ وقت تک چہل قدمی کرنا ہڈیوں کے بھربھرے پن کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ جن افراد میں جینیاتی طور پر اس بیماری کا خطرہ زیادہ تھا، ان میں بھی چہل قدمی کرنے والوں کو ممکنہ فائدہ حاصل ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہڈیوں کی صحت کے لیے روزمرہ کی جسمانی سرگرمی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

عمر بڑھنے کے ساتھ ہڈیوں کی حفاظت کیوں ضروری ہے؟ اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ تقریباً 30 سال کی عمر تک انسان کی ہڈیوں کا حجم عموماً اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ جاتا ہے۔ اس کے بعد ہڈیوں کی مضبوطی برقرار رکھنے کے لیے مناسب غذا، جسمانی سرگرمی اور صحت مند طرز زندگی اہم ہو جاتے ہیں۔ اگر ہڈیوں کی صحت کا خیال نہ رکھا جائے تو وقت کے ساتھ ان کی کثافت کم ہو سکتی ہے۔

ہڈیوں کا بھربھرا پن ایک ایسی کیفیت ہے جس میں ہڈیوں کی اندرونی ساخت کمزور ہونے لگتی ہے۔ اس بیماری میں اکثر شروع میں واضح علامات سامنے نہیں آتیں۔ کئی افراد کو اس کا علم اس وقت ہوتا ہے جب گرنے یا معمولی چوٹ کے باعث ہڈی ٹوٹ جاتی ہے۔ اسی لیے عمر بڑھنے کے ساتھ ہڈیوں کی صحت پر توجہ دینا ضروری ہے۔

روزانہ چہل قدمی شروع کرنے کے لیے بہت زیادہ محنت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ افراد اپنی جسمانی حالت کے مطابق تھوڑے وقت سے آغاز کر سکتے ہیں اور آہستہ آہستہ دورانیہ بڑھا سکتے ہیں۔ متوازن غذا، کیلشیم اور وٹامن ڈی کی مناسب مقدار اور ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق ورزش بھی ہڈیوں کی صحت برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

تاہم یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ تحقیق میں چہل قدمی اور ہڈیوں کے بھربھرے پن کے خطرے کے درمیان تعلق دیکھا گیا ہے۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ صرف ایک گھنٹہ پیدل چلنے سے ہر شخص اس بیماری سے مکمل طور پر محفوظ ہو جائے گا۔ ہڈیوں کی صحت عمر، غذا، جسمانی سرگرمی، جینیاتی عوامل اور دیگر طبی وجوہات سے بھی متاثر ہوتی ہے۔ اگر کسی شخص کو ہڈیوں کی کمزوری کا خدشہ ہو تو اسے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔