تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
پاکستان

بچے کا ب فارم بنوانے سے پہلے والدین یہ اہم دستاویزات ضرور تیار رکھیں

نادرا سے بچے کا پہلی مرتبہ ب فارم یا چائلڈ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ بنوانے والے والدین اور قانونی سرپرستوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ رجسٹریشن سینٹر جانے سے پہلے متعلقہ دستاویزات مکمل کرلیں تاکہ درخواست کے عمل میں دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

نادرا کے مطابق بچے کا ب فارم بنوانے کے لیے والدین یا قانونی سرپرست کا شناختی کارڈ نمبر اور یونین کونسل، میونسپل کمیٹی یا کنٹونمنٹ بورڈ کی جانب سے جاری کردہ تصدیق شدہ کمپیوٹرائزڈ پیدائش سرٹیفکیٹ درکار ہوگا۔

اگر بچے کی پیدائش بیرون ملک ہوئی ہے تو اس صورت میں غیر ملکی تفصیلی برتھ سرٹیفکیٹ، پاکستانی سفارتخانے یا مشن کا ایس ون فارم، شہریت کا سرٹیفکیٹ یا نیچرلائزیشن سرٹیفکیٹ پیش کرنا ہوگا۔

نادرا کی ہدایات کے مطابق تین سال سے زیادہ عمر کے بچوں کو ب فارم کے عمل کے دوران فنگر پرنٹس، تصویر اور آئرس اسکین کے لیے نادرا سینٹر لے جانا ضروری ہوگا۔

اگر بچے کی درخواست والدین کے بجائے کوئی قانونی سرپرست دے رہا ہے تو اسے متعلقہ مجاز عدالت کی جانب سے جاری کردہ گارڈین شپ سرٹیفکیٹ بھی ساتھ لانا ہوگا۔

نادرا نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر ب فارم کے بعد بچے کا پاسپورٹ بنوانا مقصود ہو تو ب فارم کے لیے بچے کی تصویر بنوانا لازمی ہوگا۔

والدین کو چاہیے کہ نادرا سینٹر جانے سے پہلے تمام مطلوبہ دستاویزات کی دستیابی اور درستگی یقینی بنائیں تاکہ درخواست مکمل کرنے میں غیر ضروری تاخیر نہ ہو۔ مزید رہنمائی کے لیے نادرا کی ہیلپ لائن 1777 سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔