بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) نے جعلی پیغامات اور فراڈ کرنے والے عناصر سے متعلق شہریوں کیلئے اہم الرٹ جاری کردیا ہے۔
بی آئی ایس پی انتظامیہ کے مطابق فراڈ کرنے والے افراد مختلف نمبروں سے شہریوں کو پیغامات بھیج رہے ہیں۔ ان پیغامات میں مالی امداد یا رقم کی منظوری کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد لوگوں سے قومی شناختی کارڈ کی تصاویر اور دیگر ذاتی معلومات مانگی جاتی ہیں۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ ایسے پیغامات کا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے کوئی تعلق نہیں۔ خاص طور پر ایسے پیغامات جعلی ہیں جن میں 75 ہزار 600 روپے یا کسی دوسری رقم کی منظوری کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ شہریوں سے شناختی کارڈ کی فرنٹ اور بیک تصاویر بھی طلب کی جاتی ہیں۔
BISP کے اصل پیغامات کس نمبر سے آتے ہیں؟
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نے شہریوں کو بتایا ہے کہ پروگرام سے متعلق سرکاری پیغامات صرف 8171 سے بھیجے جاتے ہیں۔ اس لیے کسی دوسرے موبائل نمبر یا واٹس ایپ اکاؤنٹ سے آنے والے پیغام کو سرکاری اطلاع سمجھنے سے گریز کیا جائے۔
حکام کے مطابق فراڈ کرنے والے افراد شناختی کارڈ کی معلومات حاصل کرکے شہریوں کو مالی نقصان پہنچانے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ اس لیے کسی بھی غیر معروف شخص کے ساتھ شناختی کارڈ کی تصویر، بینک اکاؤنٹ کی معلومات یا دیگر ذاتی تفصیلات شیئر نہیں کرنی چاہئیں۔
اگر کسی شہری کو واٹس ایپ یا موبائل فون پر ایسا پیغام موصول ہو جس میں رقم ملنے کا دعویٰ کیا گیا ہو، تو پہلے اس کی تصدیق کرنا ضروری ہے۔ صرف پیغام میں دی گئی معلومات کی بنیاد پر کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہیے۔
شہری شناختی معلومات شیئر کرنے سے گریز کریں
بی آئی ایس پی نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے قومی شناختی کارڈ کی فرنٹ اور بیک تصاویر غیر معروف نمبروں پر نہ بھیجیں۔ اسی طرح بینک اکاؤنٹ، موبائل والٹ یا دیگر ذاتی مالی معلومات بھی کسی اجنبی شخص کو فراہم نہ کی جائیں۔
فراڈ کے ایسے طریقوں میں اکثر لوگوں کو مالی امداد، انعام یا سرکاری اسکیم کا لالچ دیا جاتا ہے۔ بعد میں ان سے شناختی دستاویزات یا دیگر حساس معلومات طلب کی جاتی ہیں۔ اس لیے کسی بھی مشکوک پیغام پر فوری ردعمل دینے کے بجائے پہلے اس کی تصدیق کرنا زیادہ محفوظ ہے۔
بی آئی ایس پی کا یہ الرٹ خاص طور پر ان افراد کیلئے اہم ہے جو پروگرام سے مالی امداد حاصل کرتے ہیں یا اپنی اہلیت سے متعلق معلومات کا انتظار کررہے ہیں۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ صرف سرکاری ذرائع سے موصول ہونے والی معلومات پر اعتماد کریں۔






