پی ٹی آئی میں موجودہ مذاکراتی کمیٹی کی تشکیل نو کا مطالبہ زور پکڑنے لگا، پارٹی ارکان اور صوبائی حکومت کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔
تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے معاملے پر پارٹی کے اندر سے ہی مخالفت کی آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں اور اب تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹی کی تشکیل نو کا مطالبہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق پارٹی کے اندر سے یہ آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ موجودہ کمیٹی پارٹی کے مطالبات کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے میں ناکام رہی ہے۔ کور کمیٹی، سیاسی کمیٹی اور صوبائی حکومت بھی موجودہ مذاکراتی کمیٹی کی کارکردگی اور طریقہ کار سے بلکل مطمئن نہیں ہیں۔
اس کے علاوہ تحریک انصاف کے سینیٹرز نے بھی اس بات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے کہ سینیٹ کی پارلیمانی نمائندگی اس مذاکراتی کمیٹی میں موجود ہی نہیں ہے، جس کی وجہ سے ایوان بالا میں پارٹی کا مؤقف ٹھیک سے پیش نہیں ہو پا رہا۔
دوسری طرف سب سے بڑا اعتراض یہ کیا جا رہا ہے کہ اس مذاکراتی کمیٹی کے اندر خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کی کوئی نمائندگی شامل نہیں، حالانکہ صوبہ اس وقت سب سے آگے ہے اور ان تمام وجوہات کی بنا پر اب پارٹی کے اندر سے ہی مذاکراتی کمیٹی کو تبدیل کرنے اور اس کی نئے سرے سے تشکیل نو کرنے کا پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے۔






