وفاقی آئینی عدالت نے ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن (ای او بی آئی) سے متعلق ایک مقدمے میں ادارے کی اپیل منظور کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ، وفاقی محتسب اور صدرِ مملکت کے سابقہ احکامات کالعدم قرار دے دیے ہیں۔
چیف جسٹس امین الدین خان کی جانب سے تحریر کردہ 12 صفحات پر مشتمل فیصلے میں درخواست گزار جاوید اقبال بھٹی کے پنشن سے متعلق معاملے کا جائزہ لیا گیا۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق درخواست گزار کی بیمہ شدہ ملازمت کی مدت 6 سال سے کم تھی، جس کے باعث وہ ماہانہ اولڈ ایج پنشن کے لیے مقررہ شرائط پوری نہیں کرتے تھے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق درخواست گزار کو ماہانہ پنشن کے بجائے 48 ہزار روپے اولڈ ایج گرانٹ ادا کی گئی تھی۔ ای او بی آئی کے عمومی قواعد کے تحت ماہانہ پنشن کے لیے کم از کم 15 سال کی بیمہ شدہ ملازمت درکار ہوتی ہے۔
فیصلے میں واضح کیا گیا کہ پانچ سال کی رعایت ہر معاملے پر لاگو نہیں ہوتی۔ یکم جولائی 2008 سے ای او بی آئی میں بیمہ شدہ افراد کے لیے اس رعایت کا اطلاق نہیں کیا جاسکتا، جیسا کہ متعلقہ مقدمے میں زیرِ غور تھا۔
عدالت نے یہ نکتہ بھی اجاگر کیا کہ کسی درخواست کو مسترد کردینا بذاتِ خود بدانتظامی نہیں کہلاتا۔ بدانتظامی ثابت کرنے کے لیے من مانی، امتیازی سلوک، غفلت یا بلاجواز تاخیر جیسے عوامل کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
یہ فیصلہ ان مقدمات سے مختلف ہے جن میں ملازمت کی مدت 14 سال اور 6 ماہ کے قریب ہو اور پنشن کی اہلیت کے لیے رعایت کا سوال پیدا ہوتا ہو۔ ہر کیس کا فیصلہ متعلقہ قواعد اور ملازمت کی مدت کے مطابق کیا جائے گا۔






