تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
پاکستان

سرکاری افسران کے اثاثے اور آمدن آن لائن جمع ہوں گے، دستی نظام ختم کرنے کا فیصلہ

وفاقی اور صوبائی سطح پر سرکاری افسران کے اثاثوں اور آمدن کی تفصیلات جمع کرانے کے طریقہ کار میں تبدیلی کی گئی ہے۔

نئے انتظام کے تحت افسران کو اپنی مالی معلومات دستی دستاویزات کے بجائے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے آن لائن پورٹل کے ذریعے جمع کرانا ہوں گی۔

فراہم کردہ معلومات کے مطابق سندھ پولیس کے گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کو مالی سال 2025-26 کے اثاثوں اور آمدن کی تفصیلات 30 اکتوبر تک جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا خط 16 ستمبر کو جاری ہوا، سندھ حکومت نے 25 ستمبر کو متعلقہ ہدایات بھیجیں، جبکہ سندھ پولیس کی جانب سے 6 اکتوبر کو حکم نامہ جاری کیے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔

افسران کو اپنے اثاثوں کے ساتھ شریکِ حیات کی ملکیت، بینک اکاؤنٹس، جائیداد، سرمایہ کاری، گاڑیوں، حصص اور پرائز بانڈز کی تفصیلات بھی فراہم کرنا ہوں گی۔ زیرِ کفالت افراد کی آمدن، بچوں کے تعلیمی اخراجات، یوٹیلیٹی بلز، بیرونِ ملک سفر، قرضوں اور دیگر مالی ذمہ داریوں سے متعلق معلومات بھی اس عمل کا حصہ بتائی گئی ہیں۔

اس کے علاوہ اثاثوں کی مالیت میں ہونے والی تبدیلیوں، سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور بیرونِ ملک شہریت یا مستقل رہائش سے متعلق معلومات فراہم کرنے کی شرائط کا بھی ذکر ہے۔ ان تفصیلات کا مقصد افسران کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع سے متعلق ریکارڈ کو زیادہ منظم بنانا ہے۔

مقررہ مدت میں معلومات جمع نہ کرانے یا غلط تفصیلات فراہم کرنے کی صورت میں متعلقہ افسر کو محکمانہ کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مطلوبہ معلومات درست انداز میں اور آخری تاریخ سے پہلے جمع کرائیں۔

آن لائن نظام کے ذریعے اثاثوں کے گوشوارے جمع کرانے سے ریکارڈ کی دستیابی اور نگرانی کا عمل آسان بنانے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم اس نظام کے مؤثر نفاذ کے لیے معلومات کی درستگی اور ان کے محفوظ استعمال کو یقینی بنانا بھی ضروری ہوگا۔