لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کے صارفین کی جانب سے اسمارٹ میٹرز کے ذریعے زائد بلنگ کی شکایات سامنے آنے کا ذکر کیا گیا ہے۔
ان شکایات میں میٹر کی ریڈنگ، بلوں میں درج یونٹس اور میٹر کی تصاویر کے درمیان مبینہ فرق پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق بعض صارفین کا کہنا ہے کہ اسمارٹ میٹرز کی کمیونیکیشن یا ڈیٹا منتقلی متاثر ہونے کے باوجود بلوں میں یونٹس شامل کیے گئے۔ اس حوالے سے میٹر کی تصاویر اور بلوں میں درج ریڈنگ کا تقابل کیے جانے کی بھی بات سامنے آئی ہے، تاہم ان شکایات کی آزادانہ تصدیق یا کسی باقاعدہ تحقیق کے حتمی نتائج دستیاب نہیں۔
بعض ذرائع نے زائد بلنگ کے معاملے کو لائن لاسز کے مقررہ اہداف اور بجلی کے نظام میں ایڈجسٹمنٹ سے بھی جوڑا ہے۔ اگر میٹر کی اصل ریڈنگ اور بل میں درج یونٹس کے درمیان فرق ہو تو اس کی جانچ متعلقہ ریکارڈ، میٹر ڈیٹا اور صارفین کی شکایات کی بنیاد پر ضروری ہوگی۔
فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی کے اسپیکر نے بھی لیسکو کے چیف ایگزیکٹو سے اس معاملے پر رابطہ کیا۔ لیسکو کے سربراہ محمد رمضان بٹ کے خلاف شکایت کا ذکر بھی سامنے آیا ہے، جبکہ ماضی میں لائن لاسز کم کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات کا حوالہ دیا گیا ہے۔
اس سے قبل وزیر داخلہ محسن نقوی کے اقدامات کے بعد لائن لاسز 15 فیصد تک آنے کا ذکر کیا گیا تھا۔ تاہم اس کے بعد شکایات دوبارہ سامنے آنے اور ایف آئی اے کی کارروائیوں کے خاتمے سے متعلق معلومات کو بھی الگ سے تصدیق کی ضرورت ہے۔
صارفین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے بل میں درج یونٹس کا میٹر ریڈنگ سے موازنہ کریں اور فرق محسوس ہونے پر لیسکو کے متعلقہ شکایتی نظام سے رجوع کریں۔ کسی بھی شکایت کی حتمی حیثیت کا تعین ریکارڈ اور باضابطہ تحقیقات کی بنیاد پر ہی کیا جاسکتا ہے۔






