تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
پاکستان

سندھ کے گیارہ سو سے زائد سرکاری اسکولوں کا انتظام نجی اداروں کے حوالے کرنے کا فیصلہ

سرکاری اسکولوں

سندھ حکومت نے صوبے میں سرکاری اسکولوں کا معیار تعلیم بہتر بنانے کے لیے گیارہ سو سے زائد اسکولوں کا انتظام نجی اداروں کو سونپنے کا منصوبہ تیار کر لیا۔

سرکاری اسکولوں کا معیار تعلیم بہتر نہ ہونے کے باعث سندھ حکومت نے نجی اداروں کی مدد لینے کا باقاعدہ فیصلہ کر لیا ہے۔ سندھ کے ایک ہزار 133 سرکاری اسکولوں کا انتظام نجی اداروں کے حوالے کرنے کے لیے تیاریاں مکمل کی جا رہی ہیں۔

اس سلسلے میں وزیر تعلیم سندھ نے ایجوکیشن مینجمنٹ آرگنائزیشنز کے نمائندوں سے ایک اہم اور اعلیٰ سطحی ملاقات کی، جس میں اسکولوں کا انتظام ایجوکیشن مینجمنٹ آرگنائزیشنز کو دینے پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ان اسکولوں کی کارکردگی اور نتائج کو بہتر بنانے کے لیے نجی شعبے کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے مدد لی جائے گی۔ یہ اقدام سندھ کے 19 اضلاع میں قائم نئے اور اپ گریڈ شدہ اسکولوں پر لاگو ہوگا۔

منصوبے کے تحت اسکولوں کے تعلیمی نتائج اور مجموعی کارکردگی کی نگرانی کے لیے ایک جامع نظام بھی ترتیب دیا جائے گا اور نجی اداروں کو اسکولوں کا انتظام سنبھالنے اور بہتر تعلیمی نتائج دینے کا براہ راست ذمہ دار بنایا جائے گا۔

اسکولوں کی تحویل کے لیے نجی اداروں کا انتخاب اوپن، شفاف اور ریکویسٹ فار پروپوزل کے طے شدہ طریقے سے کیا جائے گا۔

وزیر تعلیم سندھ نے کہا کہ معیار تعلیم پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور طلبہ کی تعلیمی کارکردگی ہی اسکولوں کی کامیابی کا بنیادی اور واحد معیار تصور ہوگی۔

ان تمام اسکولوں میں کلاس رومز، سائنس لیبارٹریز، سولر سسٹم اور دیگر جدید سہولیات پہلے سے موجود ہیں اور حکومت دور دراز علاقوں کے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے پر زور دے رہی ہے۔

ان اسکولوں کی مرحلہ وار حوالگی کا عمل دسمبر 2026 سے شروع ہوگا، جبکہ پہلے مرحلے کا باقاعدہ آغاز اپریل 2027 سے نئے تعلیمی سال سے کیا جائے گا اور حکومت نے اسکولوں کی تحویل کا عمل دسمبر 2027 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔