تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
پاکستان

ورلڈ اکنامک فورم نے پاکستان میں 16 نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی حمایت کردی

پاکستان میں نئے صوبوں کی تجویز

اسلام آباد: پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی اور انتظامی مسائل کے پیش نظر صوبوں کی تعداد بڑھانے یا نئے انتظامی یونٹس تشکیل دینے کی تجاویز زیرِ بحث آگئی ہیں۔

ورلڈ اکنامک فورم کی 9 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی ایک تجزیاتی تحریر میں پاکستان کے لیے 16، 23 سے 25 یا 30 سے زائد انتظامی اکائیوں پر مشتمل مختلف ماڈلز کا جائزہ لیا گیا ہے۔

فورم کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریر کے مطابق پاکستان کی آبادی 1951 کے مقابلے میں سات گنا سے زیادہ بڑھ چکی ہے، لیکن ملک اب بھی چار بڑے صوبوں کے انتظامی ڈھانچے کے تحت چل رہا ہے۔ اس صورتحال میں کئی علاقوں کے شہریوں کے لیے صوبائی دارالحکومتوں تک رسائی اور سرکاری خدمات کا حصول مشکل ہوسکتا ہے۔

تجزیے میں واضح کیا گیا ہے کہ نئے صوبے یا انتظامی اکائیاں بنانے کا مقصد صرف تعداد بڑھانا نہیں، بلکہ فیصلہ سازی کو عوام کے قریب لانا، سرکاری خدمات بہتر بنانا اور مالی و سیاسی جوابدہی مضبوط کرنا ہونا چاہیے۔

16 نئے انتظامی یونٹس کا ماڈل کیا ہے؟

تجزیے میں ایک تجویز یہ ہے کہ موجودہ چاروں صوبوں کو چار، چار حصوں میں تقسیم کرکے مجموعی طور پر 16 انتظامی اکائیاں قائم کی جائیں۔ اس صورت میں ہر اکائی کی اوسط آبادی تقریباً ڈیڑھ کروڑ رہ سکتی ہے، جبکہ موجودہ چار صوبوں کی اوسط آبادی تقریباً 6 کروڑ بنتی ہے۔

ایک دوسرے ماڈل کے تحت آبادی میں توازن اور جغرافیائی ہم آہنگی کو مدنظر رکھتے ہوئے 23 سے 25 انتظامی اکائیاں تشکیل دینے کا امکان بھی زیرِ بحث لایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ موجودہ سول ڈویژنز کی بنیاد پر 30 سے زائد اکائیاں بنانے کا آپشن بھی پیش کیا گیا ہے۔

تاہم یہ تجاویز مختلف انتظامی ماڈلز کا جائزہ ہیں، نئے صوبے بنانے کا کوئی حتمی سرکاری فیصلہ نہیں۔

نئے صوبوں سے کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟

تجزیے کے مطابق چھوٹی انتظامی اکائیوں میں حکومت، بجٹ اور سیاسی اختیار عوام کے قریب لایا جاسکتا ہے۔ اس سے تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچے اور دیگر سرکاری خدمات کی منصوبہ بندی مقامی ضروریات کے مطابق کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

پاکستان میں صوبوں کے درمیان آبادی اور جغرافیے کے لحاظ سے نمایاں فرق بھی انتظامی چیلنج پیدا کرتا ہے۔ پنجاب کی آبادی تقریباً 12 کروڑ 80 لاکھ ہے، جبکہ بلوچستان کی آبادی ڈیڑھ کروڑ سے کم ہے اور اس کا رقبہ بہت وسیع ہے۔ اس لیے مختلف صوبوں کی ضروریات اور انتظامی مسائل یکساں نہیں۔

28 فیصد بچے اسکولوں سے باہر

تعلیم کے شعبے میں بھی صورتحال کو حکمرانی کے چیلنجز سے جوڑا گیا ہے۔ تجزیے کے مطابق پاکستان میں 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 28 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ صوبوں کے درمیان بھی اس حوالے سے فرق موجود ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تعلیمی سہولتوں اور خدمات کی فراہمی کے مسائل مختلف علاقوں میں مختلف نوعیت کے ہیں۔

تجزیے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ انتظامی حدود تبدیل کرنے سے تنہا یہ مسائل حل نہیں ہوں گے، بلکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم اور سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا بھی ضروری ہوگا۔

نئے صوبوں کے لیے مالی وسائل اور اختیارات ضروری

ورلڈ اکنامک فورم کی ویب سائٹ پر شائع تجزیے کے مطابق نئے انتظامی یونٹس کو مؤثر بنانے کے لیے یقینی مالی وسائل، ٹیکس وصولی کے اختیارات، مضبوط انتظامی صلاحیت اور واضح ذمہ داریاں دینا ہوں گی۔

تحریر میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر نئی اکائیوں کے پاس مناسب وسائل اور مؤثر ادارے نہ ہوں تو انتظامی تقسیم سے اخراجات بڑھ سکتے ہیں، جبکہ عوامی خدمات میں بہتری کی ضمانت نہیں ہوگی۔ اسی طرح زیادہ انتظامی یونٹس قائم کرنے کے لیے مالی منتقلی، ادارہ جاتی صلاحیت اور کارکردگی کی نگرانی کا مضبوط نظام بھی درکار ہوگا۔

تجزیے کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ پاکستان میں انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی پر بحث صرف صوبوں کی تعداد تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اس بات پر بھی توجہ دینی چاہیے کہ حکومت عوام کو بہتر خدمات کیسے فراہم کرے، وسائل کیسے جمع کرے اور اپنے فیصلوں کے لیے جوابدہ کیسے بنے۔