تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
پاکستان

پی آئی اے نے دو بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارے حاصل کرنے کا معاہدہ کرلیا

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے برطانیہ کے لیے اپنی پروازوں میں اضافہ کرنے کی تیاری کرلی ہے۔

 قومی ایئرلائن نے ناروے کی فضائی کمپنی نورس اٹلانٹک کے ساتھ دو جدید بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارے حاصل کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد پاکستان اور برطانیہ کے درمیان بڑھتی ہوئی سفری طلب کو پورا کرنا اور طویل فاصلے کی پروازوں کی گنجائش بڑھانا ہے۔

پی آئی اے کے ترجمان کے مطابق نورس اٹلانٹک یہ دونوں طیارے اے سی ایم آئی (ACMI) بنیادوں پر فراہم کرے گی۔ اس معاہدے کی خاص بات یہ ہے کہ طیاروں کے ساتھ عملہ، دیکھ بھال اور انشورنس کی سہولت بھی شامل ہوگی۔ اس طرح پی آئی اے کو طویل فاصلے کی پروازوں کے لیے اضافی طیارے اور آپریشنل سہولت دستیاب ہوگی۔

نئے طیاروں سے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان فضائی رابطوں کو مزید بہتر بنانے کا منصوبہ ہے۔ پی آئی اے کے مطابق ان طیاروں کے ذریعے پروازوں کا آغاز نومبر 2026 کے اوائل میں متوقع ہے۔ ابتدائی طور پر لندن ہیتھرو اور مانچسٹر سے لاہور اور اسلام آباد کے لیے پروازیں چلائی جائیں گی۔

برطانیہ میں بڑی تعداد میں پاکستانی شہری اور پاکستانی نژاد افراد مقیم ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان فضائی سفر کی طلب بھی مسلسل اہم رہی ہے۔ پی آئی اے کو امید ہے کہ اضافی طیاروں کی شمولیت سے مسافروں کے لیے سفر کے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔ اس کے علاوہ قومی ایئرلائن کی بین الاقوامی آپریشنل صلاحیت میں بھی اضافہ ہوگا۔

پی آئی اے کے بین الاقوامی آپریشنز میں توسیع

پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایئر وائس مارشل عامر حیات کا کہنا ہے کہ قومی ایئرلائن اپنے بین الاقوامی نیٹ ورک کو مضبوط بنانے پر توجہ دے رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے مسافروں کی بڑھتی ہوئی ضرورت کے مطابق پروازوں کی گنجائش بڑھائی جا رہی ہے۔

ان کے مطابق بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارے پہلی مرتبہ پاکستانی مارکیٹ میں متعارف ہو رہے ہیں۔ جدید طیاروں کی شمولیت سے مسافروں کو بہتر سفری سہولت فراہم کرنے کی توقع ہے۔ پی آئی اے اور نورس اٹلانٹک کے درمیان یہ شراکت داری پاکستان اور برطانیہ کے فضائی رابطے کو مزید مستحکم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

عامر حیات نے کہا کہ برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے لیے دونوں ممالک کے درمیان سفر کے مزید مواقع پیدا کرنا اہم ہے۔ نئے طیاروں کے ذریعے پی آئی اے اس طلب کو پورا کرنے کی کوشش کرے گی۔

نورس اٹلانٹک کا اے سی ایم آئی آپریشنز پر زور

نورس اٹلانٹک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایونڈ روالڈ کے مطابق پی آئی اے کے ساتھ معاہدہ کمپنی کی بین الاقوامی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ کمپنی اپنے جدید ڈریم لائنر طیاروں کو مختلف عالمی مارکیٹس میں استعمال کرنے کے مواقع تلاش کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نورس اٹلانٹک کے بوئنگ 787 طیارے شیڈول پروازوں کے علاوہ چارٹر سروسز اور اے سی ایم آئی آپریشنز کے لیے بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ مختلف ایئرلائنز کے ساتھ ایسے معاہدوں سے جدید طیاروں کو بہتر انداز میں استعمال کرنے میں مدد ملتی ہے۔

اے سی ایم آئی انتظام کے تحت طیارہ، عملہ، دیکھ بھال اور انشورنس فراہم کی جاتی ہے۔ اس ماڈل سے ایئرلائنز کو فوری طور پر اضافی فضائی گنجائش حاصل کرنے میں سہولت ملتی ہے۔ پی آئی اے کے لیے بھی یہ معاہدہ طویل فاصلے کی پروازوں میں گنجائش بڑھانے کا ایک اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔

نورس اٹلانٹک کے ساتھ ہونے والے معاہدے سے دونوں کمپنیوں کے درمیان مستقبل میں مزید تعاون کے امکانات بھی پیدا ہوئے ہیں۔ نومبر سے لندن اور مانچسٹر کے لیے بوئنگ 787 ڈریم لائنر کی پروازیں شروع ہونے کی صورت میں برطانیہ جانے اور آنے والے مسافروں کو اضافی سفری سہولت مل سکے گی۔