وزارت مذہبی امور نے عازمین حج کے لیے حج سیونگ پلان متعارف کرانے کی تیاری شروع کردی ہے۔ اس منصوبے کے تحت شہری حج کے اخراجات کے لیے پہلے سے رقم جمع کرسکیں گے۔ اس مقصد کے لیے ماہانہ بنیاد پر بچت کا طریقہ متعارف کرانے کی تجویز زیر غور ہے۔
وزارت مذہبی امور کے ترجمان کے مطابق سیکرٹری مذہبی امور کی زیر صدارت حج سیونگ پلان سے متعلق مشاورتی اجلاس ہوا۔ اجلاس میں عازمین حج کے لیے مالی منصوبہ بندی آسان بنانے پر غور کیا گیا۔ شرکا نے اس بات کا جائزہ لیا کہ حج کے اخراجات ایک ساتھ ادا کرنے کے بجائے انہیں طویل مدت میں بتدریج جمع کرنے کا موقع کیسے دیا جاسکتا ہے۔
مجوزہ حج سیونگ پلان کے تحت عازمین ڈیجیٹل ذرائع سے ماہانہ رقم جمع کراسکیں گے۔ بچت کے لیے مدت منتخب کرنے کی سہولت بھی دینے کی تجویز ہے۔ اس کے علاوہ خاندان کے افراد کے درمیان جمع شدہ رقم منتقل کرنے کا آپشن بھی شامل کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔
اس اسکیم میں ایک اہم تجویز جمع شدہ رقم کی واپسی سے متعلق بھی ہے۔ منصوبے کے مطابق عازمین کو ضرورت پڑنے پر اپنی رقم کسی بھی وقت واپس لینے کی سہولت دینے پر غور کیا جارہا ہے۔ تجویز یہ ہے کہ رقم واپس لینے پر کوئی کٹوتی نہ کی جائے۔ تاہم اس حوالے سے حتمی شرائط حج سیونگ پلان کے قواعد و ضوابط مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گی۔
حج سیونگ پلان کے قواعد 2 ماہ میں تیار ہوں گے
اجلاس میں سیکرٹری مذہبی امور نے متعلقہ حکام کو اہم ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے حج سیونگ پلان کے قواعد و ضوابط دو ماہ کے اندر تیار کرنے کی ہدایت کی۔ اس کے بعد اسکیم کے عملی نفاذ کے لیے دیگر ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
وزارت مذہبی امور کے مطابق اس منصوبے کا مقصد شہریوں کو حج کے اخراجات کے لیے پہلے سے مالی منصوبہ بندی کا موقع دینا ہے۔ مہنگائی اور حج کے مجموعی اخراجات میں اضافے کے باعث ایک ساتھ بڑی رقم جمع کرنا بعض افراد کے لیے مشکل ہوسکتا ہے۔ ماہانہ بچت کے ذریعے یہ رقم مرحلہ وار جمع کرنے میں آسانی پیدا ہوسکتی ہے۔
تاہم وزارت نے واضح کیا ہے کہ ابھی حج سیونگ پلان کی حتمی شرائط سامنے نہیں آئیں۔ ماہانہ کم از کم رقم، بچت کی مدت، رقم جمع کرانے کا مکمل طریقہ اور اسکیم کے آغاز کی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
عمرہ اور مذہبی زیارات کے لیے بھی بچت اسکیم کی تجویز
حج کے علاوہ عمرہ اور دیگر مذہبی زیارات کے اخراجات کے لیے بھی بچت اسکیم شروع کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔ اس کا مقصد شہریوں کو مذہبی سفر کے لیے پہلے سے رقم جمع کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔
وزارت مذہبی امور کے ترجمان کے مطابق مستقبل میں اس طرح کی اسکیموں کے ذریعے شہری اپنی مالی استطاعت کے مطابق مذہبی سفر کی منصوبہ بندی کرسکیں گے۔ اس سے اچانک بڑے اخراجات کا مالی دباؤ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
حج پالیسی 2027–2030 میں بھی سیونگ پلان شامل
حج سیونگ پلان کا تصور حج پالیسی 2027–2030 میں بھی شامل کیا گیا ہے۔ وفاقی کابینہ نے جولائی 2026 میں چار سالہ حج پالیسی کی منظوری دی تھی۔ پالیسی کے تحت مسلسل رجسٹریشن کے ساتھ شرعی اصولوں کے مطابق بچت اسکیم متعارف کرانے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
اب وزارت مذہبی امور اس منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے قواعد تیار کرے گی۔ قواعد مکمل ہونے کے بعد عازمین کو اسکیم میں شمولیت، رقم جمع کرانے، واپسی اور دیگر شرائط کے بارے میں مزید معلومات فراہم کی جائیں گی۔ فی الحال حج سیونگ پلان کی حتمی رقم اور آغاز کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔






