خیبر پختونخوا میں ممکنہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے معاملے پر پی ٹی آئی کی مرکزی کمیٹیوں کے اجلاس کے دوران قیادت اور وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے درمیان اختلافات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنے کے ممکنہ اقدام کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی سیاسی کمیٹی اور کور کمیٹی کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا۔
ذرائع نے دعویٰ کیا کہ اجلاس کے دوران پارٹی کی سیاسی کمیٹی اور کور کمیٹی کے بعض ارکان کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوئی۔ ان اطلاعات کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور پارٹی قیادت کے درمیان بھی اختلافات سامنے آئے۔
ذرائع کے مطابق پارٹی قیادت نے سہیل آفریدی سے کہا کہ پارٹی کو درپیش صورت حال کی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے اور انہوں نے قیادت کی ہدایات پر عمل نہیں کیا۔ اطلاعات میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ گفتگو کے دوران سہیل آفریدی کو ان کے طرز عمل پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
ذرائع کے مطابق پارٹی قیادت نے کہا کہ ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کو پیش آنے والی مشکلات کی ذمہ داری بھی سہیل آفریدی پر عائد ہوتی ہے۔
دوران اجلاس سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ وہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے نظریے کے ساتھ کھڑے ہیں اور عمران خان نے ان پر اعتماد کیا ہے، جس پر وہ آخری حد تک جائیں گے۔






