وفاقی کابینہ کے اجلاس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق حتمی فیصلے سے قبل پی ٹی آئی کو ایک اور موقع دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی صورتحال اور امن و امان سے متعلق امور پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے ارکان نے صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ اجلاس میں یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مؤثر کردار ادا کرنے کے بجائے دہشت گردی کے خلاف جنگ سے لاتعلقی اختیار کرنا تشویش کا باعث ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ میں تجویز پیش کی گئی کہ خیبر پختونخوا کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے مولانا فضل الرحمان کے ذریعے ایک اور کوشش کی جائے تاکہ صوبائی حکومت کو دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں وفاقی حکومت کا ساتھ دینے پر آمادہ کیا جاسکے۔
اطلاعات کے مطابق اجلاس کے دوران ہی نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے مولانا فضل الرحمان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ گفتگو میں خیبر پختونخوا حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاقی حکومت کا ساتھ دے۔
ذرائع کے مطابق یہ رابطہ صوبے کی سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے کسی حتمی فیصلے سے پہلے سیاسی سطح پر کوشش کے طور پر کیا گیا۔






