تازہ ترین
وزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلانوزارت اطلاعات کا زلمے خلیل زاد کے بے بنیاد الزامات پر فیکٹ چیک جاریعالمی تنازعات کے اثرات اشیا ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، محمد اورنگزیبکیا آپ کو بھی سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے؟ یہ روزمرہ تبدیلیاں آپ کے لیے مفید ہوسکتی ہیںایل پی جی کی قیمت 425 روپے فی کلو تک رکھنے کی تجویزدرآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں 89 فیصد کمی، نئی شرحیں جاریاسلام آباد پولیس کی نئی چھٹی پالیسی 2026 جاری، حج، عمرہ اور شادی کے لیے کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ایران پر الزام تراشی کا نیا دور؟ امریکی انٹیلی جنس چیف کا انتباہ سامنے آگیاامریکی بحری جہازوں کو خلیج فارس میں دوبارہ داخل نہیں ہونے دیں گے، ایرانی فوج کا اعلان
پاکستان

ایمرجنسی کا نفاذ سنگین سیاسی غلطی ہے، فیصلے کو واپس لیا جائے : بیرسٹر گوہر

بیرسٹر گوہر

بیرسٹر گوہر نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کو غیر جمہوری اقدام قرار دیتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے ایک انتہائی تشویشناک اور سنگین سیاسی غلطی قرار دیا ہے۔

انہوں نے بیان میں کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کا مینڈیٹ ان کا آئینی اور قانونی حق ہے اور عوامی مینڈیٹ کو نظر انداز کر کے خطے میں امن اور استحکام قائم نہیں کیا جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبائی خودمختاری کو کمزور کر کے کبھی بھی وفاق کو مضبوط نہیں بنایا جا سکتا، بلکہ اس سے وفاق اور صوبے کے درمیان بلاوجہ تصادم کی فضا پیدا ہو گی۔

بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے پر کسی کو کوئی اختلاف نہیں ہے، لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ کو عوامی آواز اور جمہوری حقوق دبانے کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا مقابلہ صرف قومی یکجہتی، مشترکہ حکمت عملی اور سیاسی بصیرت سے ہی ممکن ہے، طاقت اور تصادم مسائل کا حل نہیں ہیں۔

انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ آئین کی بالادستی اور بامعنی مذاکرات کے ذریعے تمام آئینی و سیاسی مسائل حل کیے جائیں۔ تحریک انصاف عوامی مینڈیٹ اور صوبائی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر آئینی اور قانونی فورم پر بھرپور آواز اٹھائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ابھی بھی وقت موجود ہے اور ایمرجنسی کے اس فیصلے کو چند دنوں کے اندر واپس لیا جا سکتا ہے۔ وفاق کو چاہیے کہ وہ اپنی انا کو ایک طرف رکھ کر زمینی حقائق کو سمجھے اور عوام کے جائز مطالبات اور جذبات کا احترام کرے۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ اس سیاسی فیصلے پر نظرثانی کرنا قومی مفاد میں دانش مندی کی علامت ہوگی اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو یہ غیر معمولی اقدامات ملک کو مزید سیاسی اور معاشی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔