وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لیے فیول سبسڈی اسکیم جاری رہے گی، جبکہ اس پروگرام کے تحت ایک کروڑ سے زائد مستحق شہری کم از کم ایک مرتبہ فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ وزیراعظم نے اسکیم پر عمل درآمد میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تعاون کو سراہتے ہوئے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کی کوششوں کو اہم قرار دیا۔
وزیراعظم نے یہ بات فیول سبسڈی اسکیم کے تحت ڈیجیٹل طریقے سے مستحقین کو براہِ راست مالی سہولت فراہم کرنے میں کردار ادا کرنے والے وزراء اور افسران کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ان کے مطابق اسکیم کے لیے 75 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اور وفاق و صوبوں کی مشترکہ کوششوں سے اس کے دائرہ کار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
شہباز شریف نے بتایا کہ فروری میں جنگ شروع ہونے کے وقت اسی نوعیت کے اقدام کے تحت بلند ترین مرحلے پر تقریباً 13 لاکھ ٹوکن جاری ہوئے تھے، لیکن موجودہ اسکیم کے تحت فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت کے ساتھ صوبوں نے انتظامی اور مالی تعاون فراہم کیا، جس سے پروگرام پر عمل درآمد ممکن ہوا۔
رجسٹریشن اور ٹوکنز کے اعداد و شمار
وزیراعظم کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، اب تک ایک کروڑ آٹھ لاکھ اسی ہزار سے زائد شہری رجسٹریشن کرا چکے ہیں، جبکہ ایک کروڑ ایک لاکھ اٹھانوے ہزار افراد کو واؤچرز جاری کیے جا چکے ہیں۔ مجموعی طور پر دو کروڑ ستر لاکھ ٹوکن جاری ہوئے، جن میں سے ایک کروڑ چورانوے لاکھ ٹوکنز پر شہری رعایتی قیمت پر پیٹرول حاصل کر چکے ہیں۔
ان اعداد و شمار میں یہ بھی بتایا گیا کہ بانوے لاکھ ستتر ہزار شہریوں نے دوبارہ ٹوکن حاصل کرکے استعمال کیے، جبکہ تقریباً 96 فیصد موٹر سائیکل سواروں نے اسکیم سے فائدہ اٹھایا۔ وزیراعظم کے مطابق موٹر سائیکل، چنگ چی، رکشہ اور 800 سی سی گاڑیوں کے اہل صارفین کو پیٹرول کی خریداری پر ماہانہ دو ہزار روپے کی سہولت دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کا فائدہ صرف براہِ راست رقم حاصل کرنے والے افراد تک محدود نہیں بلکہ ان کے خاندان بھی اس سے مستفید ہوتے ہیں۔ وزیراعظم نے پیٹرولیم ڈویژن، اوگرا، اسٹیٹ بینک، نادرا، پی ٹی اے اور ٹیلی کام آپریٹرز سمیت متعلقہ اداروں کی خدمات کو سراہا۔
تقریب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وفاقی وزیر احسن اقبال، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور متعلقہ وزارتوں کے حکام کی کاوشوں کا بھی ذکر کیا گیا۔ حکومت کے اعلان کے مطابق اسکیم جاری رہے گی، تاہم آئندہ ادائیگیوں اور اہلیت کے لیے متعلقہ پروگرام کی ہدایات پر عمل کرنا ہوگا۔






